آؤ مونچھ مونچھ کھیلیں!
بدقسمتی سے ہم ایک ایسے سماج کے پروردہ ہیں، جس کے بیشتر استاد ”شہوت میں ڈوبے کیکڑوں“ کا روپ دھار چکے ہیں۔ اگر آپ ایک لڑکی ہیں تو دو چار جگہ جسم کا نذرانہ پیش کیجئے اور میڈل سے لے کر نوکری تک سب آپ کی دسترس میں۔ میرٹ گیا بھاڑ میں۔ خود سپردگی ہی سب سے بڑا میرٹ ہے (اپنے ”تن“ میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی) ۔ اگر آپ ایک لڑکے ہیں تو دلالی کے لئے تیار ہو جائیے، مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔ آپ کا خوش شکل اور ذہین ہونا ضروری ہے۔ خواتین کو اپنی جانب مائل کرنے کا ہنر بھی آتا ہو۔ ان کو اگلے مراحل کے لیے تیار کرنے کی صلاحیت بھی درکار ہے (یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے ) ۔ اب اگر آپ ایک خوبرو حسینہ نہیں اور نہ ہی عمدہ دلال بن پائے ہیں تو آپ کی حیثیت اُس پھٹے ہوئے نوٹ کی سی ہے، جسے سڑک پر لیٹا ہوا نشئی بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ آپ کو کسی نہ کسی کا پالتو بننا پڑے گا، ورنہ آپ کو فالتو کا ٹیگ لگا کر پھینک دیا جائے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ پالتو بننا نسبتاً آسان کام ہے۔ اِس کے لیے کوئی خاص ذہنی یا جسمانی صلاحیت درکار نہیں۔ معروف موٹیویشنل سپیکر، استاد پھنکنا سیمابی کی شہرہ آفاق تصنیف ”پالتو کیسے بنا جائے؟“ کے صفحہ نمبر 10 پر درج ہے :
”ایک اچھا پالتو وہ ہے جو اپنے مالک کا بے دام سپاہی ہو اور اُس کی ہر لڑائی کو اپنی لڑائی سمجھ کر لڑے، یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ، پاؤں، زبان، قلم اور فیس بک اُس کے نہ رہیں، اس کے مالک کے ہو جائیں۔“
میری عادت کہہ لیں یا نیاز مندانہ مجبوری کہ اپنی کسی بھی تحریر کو اشاعت کے لیے بھیجنے سے قبل کم از کم ایک بار استاد پھنکنا سیمابی کو ضرور سناتا ہوں۔ اُنہوں نے مندرجہ بالا تحریر سنی تو کافی دیر تک مجھے گھورتے رہے، لیکن کوئی وجہ نہیں بتائی۔ میں بھی چپ رہا کہ منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نکل گئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ؛ استاد کی اگاڑی ہی نہیں، پچھاڑی بِھی خطرناک ہوتی ہے۔
ان کے مزاج کا پارہ کچھ نیچے آیا تو انہوں نے ہراسمنٹ کی اقسام گنوانا شروع کر دیں۔ پھر انکشاف کیا کہ بات صرف جامعات تک محدود نہیں، سرکاری دفتروں، عدالتوں، بینکوں، ایڈورٹائزنگ ایجینسیوں اور پرائیویٹ سکولوں سمیت ہر جگہ یہی کہانی نام، مقام اور طریقہ واردات بدل کر دہرائی جا رہی ہے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، ”ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔“ پھر اگلے ہی لمحے اُنکے چہرے پر تفکّر کی پرچھائیاں نمودار ہوئیں اور وہ نفی میں سر جھٹکتے ہوئے بولے،
”زندگی کی جنگ مونچھ کے سہارے لڑی جاتی ہے! ۔ صرف اور صرف مونچھ کے سہارے! ۔ باقی سب کتابی باتیں ہیں۔ میری بات سمجھ رہے ہو ناں برخوردار؟“
میں نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُن کی جانب دیکھا اور کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا دیا۔


