ٹھرک کے فضائل


صاحبو، بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ زیادہ میٹھا، صحت کے لیے مضر ہوتا ہے۔ لیکن اپنے بڑوں کو شیرے کے لگن میں ڈبکیاں کھاتے ہی دیکھا۔ والد صاحب سویاں بہت جی سے کھاتے تھے۔ اور گڑ کے چاول تو بڑی بی بناتی ہی تھی، لیکن اماں جی نے نمکین مزاج پایا۔ فریقین کے مزاج کی یہ تقسیم کیسے معتدل ہوئی، وہ اِک داستان طویل ہے۔ لیکن ہمیں ایک بات ضرور معلوم ہو گئی، کہ ددھیال میں سب تکلف سے رہتے ہیں، ایک دوسرے کو صاحب پکارتے ہیں، پڑھاکو ضرور مگر گاودی ہیں۔ لیکن ننھیال میں قدرے بے تکلفی تھی، پرسنل اسپیس میں ریلیکس رہ کر جینے کا چلن تھا۔ نانا جی کے ہاں، ایک ریڈیو تھا، جہاں سارا دِن بقول اماں کے فلمی گیت اور پروگرام چلتے تھے، لوگوں کا آنا جانا تھا۔ سو اماں سے ہمیں، ٹھنڈ ماحول رکھنے یا چل رہنے کا سبق ملا۔ ڈائجسٹ آنے ہیں، کھیل کی اجازت ہے، کھانا پینا یس کراؤ، ہنسو کھیلو موج مناؤ۔ ابا جی اور وضع کے تھے، کیمسٹری پڑھے ہیں، ہنستے کم ہیں، ڈرائنگ میں طاق، سنجیدہ مزاج اپنے کمرے میں رہتے ہیں، عجیب سی کتابیں شیلف میں رکھی ہیں، رکھ رکھاؤ ڈٹ کے ہے، کپڑوں پہ سمجھوتہ نہیں، جوتے پالش، ٹائم کے پکے، ارادے کے دھنی لیکن کیوٹ۔ کمپیوٹر لیا کیے، اپنے بھائی کے ساتھ لگے انٹرنیٹ سے کیا کھوج رہے ہیں، نہیں معلوم۔ ہاں ایک بات طے تھی، کھیڑی بڑھیا کہاں سے آنی ہے، کون سا ٹیلر عمدہ، کھانے میں تڑکا لگا ہے کہ نہیں، آٹا صحیح گندھا کہ نہیں۔ انہیں اپنے ہاتھ سے سارے کام کرنے کا ٹھرک تھا، ہمیشہ بجلی، وائرنگ، کتابوں کی جلد، اور دیگر کام خود ہی کرتے پائے جاتے۔ کیونکہ بڑی عمر کے لڑکے اپنا کام خود کرتے ہیں اسی لیے قاضی واجد کی طرح چونا، ڈسٹمپر کرتے بھی پائے گئے ہیں۔ اماں جی کو چائے سے عشق تھا، سٹیل کے مگ میں، کھولتی ہوئی چائے پیتی رہی، جب تک پیٹ میں گرانی نہ ہو گئی، ابھی بھی پرہیز میں چوری کرتی ہوں گی، جس کا مجھے پورا یقین ہے۔

صاحبو ٹھرک کی طرح کے ہوتے ہیں، لیکن انسان کو مجبور محض کر کے چھوڑتے ہیں، جیسے دادا حضور اپنے بیلیوں میں بیٹھے کش لگاتے بارہا پکڑے گئے لیکن ہمیشہ مکر گئے۔ جیسے بڑے بھیو کو ہر لکھنے لائق چیز پر کیلی گرافی کرنی ہی ہوتی ہے، جیسے اسد شیر چائے میں کیک رس ڈبو کر کھاتا تھا، اور موٹو، کیا بات ہے موٹو کی یہ بڑے بڑے ڈم بل اٹھاتا اور ڈنڈ پیلتا ہے۔ لیکن ٹھرک کی ایک قسم اور بھی ہے، جسے سب اہل دانش جانتے بھی ہیں اور اس کی افادیت کے قائل بھی ہیں۔ وہ ہے۔ عشق بتاں کا ٹھرک۔

یہ قسم سب سے مہلک اور جان لیوا بتائی گئی ہے۔ نیز میڈیکل کی زبان میں مس نومر کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ یعنی فاعل کی دھڑکنوں کا تناسب خراب اور آنکھوں کو روشنی تیز اور دل و دماغ منور ہونے اور بہکی بہکی باتیں کرنا علامات بتائی گئی ہیں۔ ہمارے آپ کے ابوالاجداد، اسم شریف جن کا آدم تھا، اور حوا جن کی جورو تھیں، حوا کی کوتاہی اور اعتبار میں گندم کا میوہ کھائے، بے آبرو ہوئے، اور اب ان کے فرزند ارجمند اُن کی سنت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ٹھرک کو، ہذیان کی بھی ایٹی اولوجی بتایا گیا ہے، یعنی بہت سارے ذہین لوگ کسی مہ لقا کے عشق میں گرفتار ہو کر فن پارے تخلیق کر گئے۔ در حقیقت تخلیقی صالحیت اور پاگل پن کے سنگم پر لیے جانے والی اس تخلیق قوت کے مندرجات بے شمار ہیں لیکن بعض بھولے بھالے احباب مناسب ٹریننگ اور علمی ضعف کے باعث حالات پر گرفت کھو دیتے ہیں جس کا نتیجہ اُن کا جی بھر کے مذاق اڑایا جاتا ہے، بعض احباب کرش کے ہاتھوں پٹ بھی جاتے ہیں۔ اسی لیے انشاء جی کہ گئے ہیں،

روپ نگر کے ناکے پہ یہ لگتا ہے محصول میاں

اس آفاقی آتشی مواد کی کوئی خاص سمگری بھی نہیں۔ اول دِن سے آدم کے دل کو چناؤتی ڈال دی گئی، اور وہ اس کو لیے زمانوں کے سفر طے کیے جا رہا ہے۔ لیکن بعض دفعہ کسی عارضی جذبے سے مرعوب ہو کر میاں شُتر ساری زندگی کے لیے نکیل بھی ڈلوا بیٹھتے ہیں۔ پھر ان کے آخری دِن دروازے کی چوکھٹ پر ہی پورے ہوتے ہیں۔ یہ ٹھرک انسان کو پستیوں کو عمیق گہرائیوں میں بھی لے جاتا ہے۔ چوٹ کھا کر آدم زاد کیسے خود شناسی کی نئی دنیا سے متعارف ہوتے ہیں، یہ کہانی پھر سہی۔

نہیں بچتا دونوں کا مارا ہوا
تیری زلف اور اژدھا ایک ہے
نہ آنا تو اس زلف کے بیچ میں
ارے دل وہ کالی بلا ایک ہے

Facebook Comments HS