ہم سب

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

  • Live
  • Archive
  • کالم۔
  • بلاگ
  • بی بی سی
  • گوشہ ادب
  • میرے مطابق
  • ا- فیچر
  • اداریہ۔
  • روپ، رنگ اور روشنی
  • کتابیں
کتابیں 

بزم رفتہ (مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کی وفیاتی تحریروں کا مجموعہ)

03/08/2023 محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی history, love, Politics
     

مرتب: محمد اویس سنبھلی
مطبع: نعمانی پرنٹنگ پریس، لکھنؤ
قیمت: 320
اویس سنبھلی کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے جنھیں کتاب و قلم کا ذوق وراثت میں ملا ہے۔ ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنے خال محترم مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ؒکے قلم سے مختلف شخصیتوں پر ان کے انتقال کے بعد لکھے گئے مضامین کو جمع کیا ہے۔ کتاب ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے خوبصورت ہے۔ طباعت اور کاغذ اس قدر نفیس ہے کہ دیکھتے ہی انسان اسے کھولنے کے لیے مچل جاتا ہے۔

”بزمِ رفتہ“ کے نام سے یہ کتاب محض خاکوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ’یاد رفتگاں‘ پر ایک قیمتی دستاویز بھی ہے۔ اس مجموعہ میں تقریباً ہر مسلک و مشرب سے تعلق رکھنے والی کل 62 شخصیات پر تعزیتی مضامین شامل ہیں، جس سے مصنف کی محبت، عقیدت اور علمی شیفتگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مولانا ؒکی تحریروں کا اسلوب انتہائی دلکش اور رواں ہے جس سے ایک طرف ان کے داعیانہ کردار کا پرتو جھلکتا ہے تو دوسری جانب ایک ادیب اور زبان شناس کی حیثیت سے لفظوں کی جادوگری کرتے نظر آتے ہیں۔ ان تحریروں میں مولاناؒ متعدد شخصیات سے علمی و فکری اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن اس قدر شگفتہ اور دلربا انداز میں کہ سامنے والے کے آبگینے کو چوٹ نہ لگے۔

مولانا عتیق الرحمن صاحب کی تحریروں سے قبل، مولاناؒ کا جامع ’تعارف‘ اور ایک مختصر سوانحی خاکہ شامل ہے۔ پہلے بارہ صفحات کے اندر، اویس سنبھلی نے ایک روشن خیال ’پیش نامہ‘ فراہم کیا ہے، جو اردو زبان میں ’وفیات نگاری‘ پر ایک عمدہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا یحییٰ نعمانی نے کتاب کا ’مقدمہ‘ لکھا ہے۔ کتاب صرف مرحومین کی خوبیوں اور خامیوں کو ہی بیان نہیں کرتی ہے بلکہ ان کے دور کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی منظر نامے کی بھی واضح تصویر کشی کرتی ہے۔ مرتب کے بقول ”یہ دراصل ان وفیاتی تحریروں کا ایک مجموعہ ہے ج وجو ماہنامہ ’الفرقان، ہفت روزہ‘ ندائے ملّت اور دیگر مجلات، کتابوں ’تحریر بے عدیل‘ ، ’حیات نعمانی‘ ، ماہنامہ ’الحق‘ ، ماہنامہ ’نقیب ختم نبوت‘ وغیرہ کی پرانی فائلوں میں دفن تھیں۔“ راقم کو مجلس مشاورت کی تاریخ لکھنے کے دوران ندائے ملت اور الفرقان کے مطالعہ کا موقع ملا ہے، اس لیے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اہل علم کے لیے یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔

پرانی فائلوں کو تلاش کرنا اور ان میں سے لعل و گہر تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اس سلسلہ میں اویس سنبھلی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس سنگلاخ وادی سے جوئے شیر نکالنے کا کام کیا ہے۔ کتاب کو نعمانی پرنٹنگ پریس نے شائع کیا ہے۔ قیمت 320 روپے ہے۔ جسے الفرقان بکڈپو لکھنؤ سے موبائل نمبر 9935309973 پر رابطہ کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے۔


     

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah