جے یو آئی کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟
افغانستان سے جڑی پاک سر زمین گرم سے گرم تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور میرے منہ میں خاک مگر اگر حالات کا پہیہ یوں ہی گھومتا رہا تو زیادہ دور وہ وقت نہیں ہے کہ اس کی تپش سے پورے پاکستان کے تلوے جل رہے ہوں گے۔ باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن پر حملہ آنکھیں کھول دینے کے لئے نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک تسلسل ہے اور اس حوالے سے ایک سے ایک کڑی جڑتی چلی جا رہی ہے اور بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ مگر بالخصوص جے یو آئی کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے اس پر علیحدہ سے غور و فکر درکار ہے۔
یہ جاننے کے لئے کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ سب کچھ افغانستان کی سر زمین سے کیا جا رہا ہے اور اس حقیقت سے بھی ہم سب آشنا ہے کہ اس میں صرف ہمارا افغان ہمسایہ ہی ملوث نہیں ہے بلکہ بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کالعدم تنظیموں میں پیسے اور وسائل کی بنیاد پر اچھا خاصا اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے اور وہ ہی دہشت گردی کی ہر کارروائی چاہے وہ علاقائی بنیاد پر کی گئی ہو یا اس کے تانے بانے فرقہ ورانہ ذہنیت سے جڑے ہوئے ہو کا اصل منصوبہ ساز ہے۔
مگر صرف یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش نہیں ہوا جا سکتا ہے۔ ہماری اپنی حکمت عملی اس حوالے سے کس حد تک موثر ہے اور اگر کہی بے اثر ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں اور وہاں بھی اس کو موثر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے کیوں کہ انڈیا تو وہ ہی کرے گا جو وہ کرتا چلا آیا ہے اور اس سے اس سلسلے میں کوئی گفتگو سعی لا حاصل کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہماری افغان پالیسی میں ایسے کئی جھول ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم بار بار اپنی گردن افغان حالات کے سبب سے پیش کر دیتے ہیں اور ہم کبوتر کی مانند آنکھیں میچ لیتے ہیں حالاں کہ ہمارے فوجی جوانوں اور دیگر شہریوں کی شہادتوں سے روز ہماری زمین رنگین ہو رہی ہے۔
فرسٹ پٹ یور ہاؤس ان آرڈر، کیا ہم اس پر عمل پیرا بھی ہیں؟ بد قسمتی سے اس کا جواب نفی میں آتا ہے۔ کالعدم تنظیمیں تو جو کر رہی ہے وہ چھپ چھپا کر کر رہی ہے ان کو تلاش کرنا پڑتا ہے مگر ان کے وطن عزیز میں حمایت کرنے والے عناصر جو بغیر کسی شرم و حیا کے اپنے ہی ملک میں خود بھی خون کی ہولی کھیلتے رہے ہیں اور اب بھی فکری طور پر ان کالعدم تنظیموں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں اور ان کے لئے اپنی تقاریر سے، اپنی تحریروں سے فصل بھی بو رہے ہیں ان عناصر کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔
کم از کم ان کی عوامی سرگرمیوں کی ہی تالا بندی کر دی جاتی مگر اتنی شہادتوں کے بعد بھی اس طرف توجہ نہیں دی گئی، یاد رکھئے انہی کا پھیلایا ہوا گند ہے جس سے تعفن اٹھتا سوشل میڈیا پر ہر وقت نظر آتا ہے مگر اس نظر کو ہم نظر انداز کیے بیٹھے ہیں۔ اس صورت حال کا دوسرا پہلو افغانستان سے منسلک ہے۔ یہ تو طے شدہ حقیقت ہے کہ افغان طالبان پاکستان کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوحہ معاہدہ پر عمل درآمد سے منکر ہو چکے ہیں مگر جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا تو ہم اس حوالے سے افغان طالبان کی اس معاہدہ پر عمل کرنے کی صلاحیت کا، نیت کا مکمل ادراک کیوں نہیں کر سکے؟
جہاں تک افغان طالبان کی اس حوالے سے صلاحیت کی بات ہے تو اس کے آگے اس دن بھی بہت بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا تھا جب انہوں نے اشرف غنی کو کابل سے بھاگ جانے پر مجبور کر دیا تھا کیوں کہ بظاہر تو ان کا قبضہ افغانستان پر مستحکم ہو رہا تھا مگر ائر پورٹ پر داعش جو اب افغانستان، پاکستان میں دولت اسلامیہ ولایت خراسان کے نام سے سرگرم ہے نے خود کش حملہ کر کے یہ واضح پیغام دے دیا تھا کہ وہ افغان طالبان کی اس کامیابی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور بعد میں بھی انہوں نے افغانستان میں مسلسل حملے کر کے بلکہ امریکہ کی موجودگی کے وقت سے زیادہ حملے کر کے افغان طالبان کے لئے سب سے بڑا سر درد واضح کر دیا ہے۔
افغان طالبان اس اندرونی خطرے سے نمٹنے کے لئے بہت متحرک ہے مگر یہ خطرہ ہے کہ شیطان کی آنت کی مانند بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور اسی خطرے کی وجہ سے افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے گریزاں ہے کیوں کہ وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس کے خلاف کارروائی کی تو کہی یہ تنظیم دولت اسلامیہ ولایت خراسان ( داعش ) کی بیعت نہ کر لے اور افغان طالبان ایک ایسا نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتے ہیں کیوں کہ پہلے ہی دولت اسلامیہ ولایت خراسان کے ساتھ افغان طالبان کے منحرفین شامل ہو چکے ہیں۔
دوسرا مسئلہ ان کی نیت کا بھی ہے کیوں کہ ان میں سے ایک قابل لحاظ تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ان کی کالعدم ٹی ٹی پی نے بہت مدد کی تھی اس لئے ہمیں بھی ان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنی چاہیے اور ان کے خیال میں یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس طرح سے ان پر پاکستان کی پراکسی ہونے کا تاثر بھی دھل جائے گا اور وہ دنیا سے بالخصوص بھارت سے وہ فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گے جو کہ حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کو حاصل تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ جے یو آئی کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے تو اگر کوئی تعصب کی پٹی اتار کر، آنکھیں کھول کر دیکھے تو دیکھ سکے گا کہ مولانا فضل الرحمن ( خدا ان کی حفاظت فرمائے ) اور جے یو آئی ایک نعمت ہیں کہ انہوں نے انتہا پسندی اور مذہبی تشدد کے آگے بند باندھا ہوا ہے اور دشمن اس بند کو ہی توڑنا چاہتا ہے تا کہ جے یو آئی کو پسپا کر کے اپنے قدم جما سکے قدم پھر کیسے جم جائیں گے تو بس میرے تھوڑے کہے کو زیادہ سمجھیے، یہ ویسا ہی حملہ ہے جیسے کہ اے این پی پر ہوئے تھے کہ وہ غیر مذہبی بنیادوں پر ان عناصر کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن مذہبی شناخت رکھتے ہوئے مخالفت کر رہے ہیں۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ اول تو ابھی افغان طالبان سے مکمل طور پر مایوس ہونے کا وقت نہیں آیا ہے ان کے مسائل بھی حل کرنے چاہئیں اور ان کو دولت اسلامیہ ولایت خراسان کے قلع قمع کے لئے انٹیلی جنس اور ہر قسم کی امداد فراہم کرنی چاہیے اور پھر ان کو افغانستان میں موجود کالعدم تنظیموں کے مسئلہ پر قائل کرنا چاہیے سب نا بھی قائل ہوئے مگر کچھ تو قائل ہوں گے ہی کیوں کہ ان کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اگر وہ اس طرح ہی حکومت چلاتے رہے تو پھر دوبارہ کسی حادثے کا شکار ہو جائیں گے۔
دوئم ابھی امریکہ کے وزیر خارجہ سے پاکستان کی گفتگو ہوئی ہے اور خبر ہے کہ اس میں دہشت گردی کے مسئلہ پر امریکی تعاون جو آلات کی فراہمی وغیرہ کی شکل میں ہو گا پر سیر حاصل بات ہوئی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھانا بھی چاہیے کہ پاکستان کی مدد کرنے سے صرف پاکستان میں امن قائم نہیں ہو گا بلکہ دنیا زیادہ پر امن ہوگی۔

