پاکستان اور اس کے عوام


ایٹم بم گرنے کے بعد اس کی تباہ کاریوں کے اثرات نہ ختم ہونے والے ہوتے ہیں اول تو متاثرہ جگہ پر کوئی زندہ نہیں بچتا اگر لامحالہ بچ بھی جائے تو کئی نسلوں تک انسان اس کے زہریلے اثرات کے زیر اثر زندگی گزارتا ہے یہ طریقہ بہت ہی جان لیوا ہونے کے ساتھ ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے مگر اب دنیا نے ترقی کرلی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی آبادی کم کرنے سے ختم کرنے تک کے انتہائی سہل اور قابل معافی طریقے وجود میں آچکے ہیں جس سے غریب بھی مر جائے الزام بھی نہ آئے ان ہی طریقوں میں سب سے زیادہ آزمودہ اور مقبول طریقہ ہلاکت انسانی، ہوشربا مہنگائی بن چکا ہے اب کوئی بھی مہلک ہتھیار اتنا کارگر نہیں ہو سکتا جتنا مہنگائی کا وار ہو چکا ہے جس میں مارنے والا بری ذمہ بھی ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ مرتے ہوئے شکار کو دیکھنے کی لذت سے بھی خوب محظوظ ہوتا ہے الزام بھی کوئی نہیں آتا وجوہات کا انبار بتا کر دنیا میں مظلوم بن کر ہمدردیاں بھی سمیٹ لی جاتی ہیں اس مہلک ہتھیار مہنگائی کا شکار ترقی پذیر ممالک میں شامل مملکت پاکستان کے غریب عوام بھی ہیں جنہیں ہر آنی والی نئی جمہوری حکومت اپنی مجبوریاں پریشانیاں، بے بسی، پچھلی حکومتوں کی نا اہلیاں اور مظالم بتا بتا کر غریب لاچار بے حس و بے بس عوام کا خون نچوڑتی ہے مگر کمال یہ ہے کہ حکومتی وزراء سے مشیران تک زبردست مراعتوں، سہولتوں کے ساتھ شاندار طرز زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں ان کے روشن چہروں پر بیش بہا مہنگائی کا رتی برابر اثر دکھائی نہیں دیتا۔

یہ چند حکمرانوں کا ٹولہ جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، کروڑوں پاکستانیوں پر حاوی ہیں جو اقتدار میں آ کر عوام کو مشکلات، قرضوں، ڈیفالٹ کے خوف میں مبتلا کر کے دھڑادھڑ پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ کر کے غریب کو آہستہ آہستہ ان کو قبروں میں پہنچا دیتا ہے یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے صرف عوام ہی مرتی ہیں کبھی خود کشی سے کبھی پریشانیوں کا شکار ہو کر نوکریاں نہ ملنے بے روزگاری کے سبب موذی بیماریوں کا شکار مہنگی دو اؤں کی عدم دستیابی سے۔

پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتیں گزشتہ پانچ سالوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو چکا ہے کبھی کبھار آٹے میں نمک کے مترادف قیمتیں کم بھی کی جاتیں ہیں پھر فوری اضافہ کر دیا جاتا ہے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے ذخیرہ اندوزوں ناجائز منافع خوروں کے من مانے اضافے ریاستی رٹ کا منہ چڑاتے ہیں۔ جبکہ گزشتہ کئی سالوں میں طوفانی مہنگائی کے باوجود عوام کی نہ تنخواہوں میں اضافہ ہوا نہ حکومتی ریلیف ملا نہ روزگار کی فراہمی آسان ہوئیں مگر ان سب کے باوجود مہنگائی میں کئی سو گنا اضافہ اجتماعی قتل عام نہیں تو اور کیا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ ہر پاکستانی لاکھوں روپے کا مقروض ہو چکا ہے تو اگر ایسا ہے تو پھر حصہ بھی تمام پاکستانیوں کو ڈالنا چاہیے خاص کر سرکار میں موجود برسراقتدار اشرافیہ کو بھی۔ مگر مجال ہے کہ کبھی کوئی بڑا سیاستدان یا حکمران بھوک افلاس یا غربت کا شکار ہو کر مرا ہو۔ انہیں کیا معلوم ہے بیس بیس روپے پٹرول میں اضافے کا اثر صرف اس پر ہی پڑتا ہے جو ایک مہینے بجلی، گیس کا بل بحالت مجبوری نہ جمع کرسکے تو اس کے کنکشن فوری کاٹ کر اس کی سفید پوشی کو سب کے سامنے تار تار کر دیا جاتا ہے وہ پورہ محنت کے باوجود اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کے سبب آہستگی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے یہ وہی عام آدمی ہے جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی کمائی کا بڑا حصہ ٹیکس کی مد میں حکومت کے پلڑے میں مجبوراً یا ضرورتاً بھرپور طریقے سے ڈالتا ہے یہ وہ غریب ووٹر ہوتا ہے جو اچھے دنوں کی امید میں ووٹ کا حق استعمال کرتا ہے کہ شاید اچھے دن آئیں گے مگر بدلے میں اس غریب کے لئے بیش بہا براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسز کی بھرمار اور اشیائے خورونوش اور تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

یہ سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلتا ہی آ رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ تئیس کروڑ عوام سیاسی پارٹیاں بنا کر اسمبلیوں کا رخ کریں تاکہ وہ بھی ہر آسائش کا مزہ لے سکیں جو ممکن نہیں تو پھر اپنے موجودہ اور گزشتہ تمام حکمرانوں کا بغیر کسی تفریق کے احتساب کا مطالبہ کیا جانا چاہیے اور پوچھیں کہ یہ جو عوام آج اس مہنگائی کے عذاب کو جھیل رہی ہے آئی ایم ایف سمیت پوری دنیا کی مقروض ہے مزید ہوتی جا رہی ہے اس کا قصوروار کون ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود، اپنی کمائی کا تقریباً نوے فیصد حصہ حکومتی ٹیکس کی نذر کرنے کے باوجود، پینے پانی کی قلت، بجلی، گیس، پٹرول، کھانے پینے کی روزمرہ کی اشیا کے سینکڑوں گنا مہنگے ہونے کے باوجود زندگی کی بنیادی سہولیات سے محرومی کے باوجود بھی امیر آج بھی امیر ترین اور غریب مزید غریب کیوں ہو رہا ہے حکومتوں کو قرض یا امداد کی مد میں جو پیسہ ملتا ہے کہاں جاتا ہے کیسے استعمال ہوتا ہے کون کون اور کیوں مستفید ہو رہا ہے؟ کیوں عوام پر خرچ نہیں ہوتا، کب تک ایسا ہو گا۔ اب عوام کو ایٹم بم بننا پڑے گا جو استعمال ہویا نہ ہو مگر اس کے خوف سے تمام قصوروار راہ راست پر آئیں اور غریب چین سے جی سکے سکون سے مر سکے۔

Facebook Comments HS