تنہائی کا بھوت کھڑا ہے


تنہائی کیا ہوتی ہے اور تنہا ہونا کیا ہوتا ہے اس کے متعلق آئے دن لوگ خیالات کا اظہار تحریر، تقریر اور شاعری کی صورت کرتے ہیں۔ کوئی اسے نعمت تو کوئی زحمت کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے تو کوئی اسے ایسا بھوت قرار دیتا ہے جو آدمیت سے انسانیت چھین کر اسے وحشت کا پیراہن عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر اس لفظ کو نئے معنی پہنانے کی کوشش کرتا ہے مگر ان سب خیالات کے باوجود وہ تنہائی کو بیان نہیں کر پاتے۔

اب آپ کہیں گے بھلا یہ کیا بات ہوئی، اور عین ممکن ہے آپ اب تک تحریر کو یہیں چھوڑ کر اپنے غصہ کا اظہار کر چکے ہوں کہ ”تم کون سے ایسے فلاسفر ہو کہ ہم تمہاری بات پر یقین کر لیں“ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں فلاسفر نہیں ہوں۔ اور میری بات پر یقین کرنا نہ کرنا آپ کا اپنا فیصلہ ہو گا مگر پہلے تحریر کو ایک نظر دیکھ تو لیجیے۔ تنہائی کا مطلب ہوتا ہے ایسی کیفیت جس میں ہجوم کے باوجود انسان کا اس ہجوم سے کوئی تعلق ہی نا ہو۔

تنہائی کو جب الفاظ کا روپ دے دیا جائے تو وہ تنہائی سے اپنا رشتہ منقطع کر کے لوگوں کے ہجوم سے اپنا تعلق قائم کر لیتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی نظریہ، جذبہ، احساس یا رویہ الفاظ کا روپ دھار لیتا ہے تو اس کا تعلق، اس کے خالق سے منقطع ہو کر ہر اس شخص سے جڑ جاتا ہے جو اسے پڑھ سکے۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ تنہائی کو الفاظ میں ڈھال لینے سے وہ تنہائی نہیں رہتی بلکہ اپنی ہیئت بدل کر ہجوم پسند ہو جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تنہائی، تنہائی نہیں ہوتی اور ہر اکیلا پن، اکیلا پن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم تنہائی اور اکیلے پن کو ،واحد ہونا ”کے معنوں میں لے کر یہ سوچتے ہیں کہ جب کوئی ہمارے پاس نہ ہو، اردگرد کوئی ہم جنس نا ہو تو ہم تنہا ہوں گے۔ یہ کیفیت اکیلا ہونا کہلاتی ہے، تنہا ہونا نہیں۔ تنہائی اور اکیلے پن کے فرق کو شعر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں :

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ
اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

تنہائی کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود سے بھی جدا ہو کر ایک ایسی کیفیت میں مبتلا ہو جائے کہ اپنے آپ کو تلاش کرتا پھرے۔ باقی ہجوم تو بعد کی باتیں ہیں۔

مجھے شک ہے ہونے نہ ہونے پہ خالدؔ
اگر ہوں تو اپنا پتا چاہتا ہوں

اور اکیلا ہونا یہ ہے کہ انسان کسی ایسی جگہ موجود ہو جہاں اس کا ہم جنس نہ ہو مگر اس کا اپنا وجود، اس کا اپنا آپ اس کے ساتھ ہو۔

ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ
ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا

موجودہ دور میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا جائے اور اسے خود کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائے۔ اس موقع کو اکیلا ہونا کہا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں، محفل کا ماحول انہیں غیر آرام دہ محسوس ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو انگریزی میں introvert کہا جاتا ہے۔ یہ اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں مگر اس اکیلے پن کو تنہا ہونا یا تنہائی پسندی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ تنہائی ایک عفریت کی ماند ہے جو انسان کو موت کی آغوش میں لے جاتا ہے۔ تنہائی، اس دنیا کا خطرناک موضوع ہے جس کی ابتداء خود سے جدائی اور انتہا روح کا جسم سے نکلنا ہے۔ ایک انسان (سماجی جانور) بقول ارسطو تنہا نہیں رہ سکتا۔ اگر وہ تنہا رہتا ہے تو وہ یا تو خدا ہے یا شیطان۔

آپ کے ذہن میں سوال اٹھنا چاہیے کہ تنہائی تنہائی آلاپ رہے ہو، تم بھی تو وہی کر رہے ہو کہ تنہائی کو الفاظ میں مقید کرتے ہوئے ہمارے سامنے پیش کرنے جا رہے ہو۔ ہاں بالکل ایسا ہی ہے مگر میں نے یہ دعویٰ کب کیا ہے کہ میں آپ کو تنہائی کے معنی سمجھا کر اس احساس کی گہرائی تک کا رستہ بتا سکتا ہوں، اور آپ بلاگ پڑھ کر تنہائی کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہو جائیں گے۔ تنہائی کے اصل معنوں سے صرف اور صرف وہ شخص آگاہ ہو سکتا ہے جس نے اس احساس کا خود تجربہ کیا ہو۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آپ کسی کے الفاظ پڑھ کر تنہائی کے حقیقی مفہوم کے قریب پہنچ جائیں، مگر بات وہیں ختم ہوتی ہے کہ حقیقت کے قریب ہونا اور بات ہے، اور حقیقت ہونا اور بات۔ پنجابی میں یوں کہیں گے ”جس تن نوں لگدی اے او تن جانڑے“

تنہائی کی وجوہات/اسباب اور اس کا حل کے متعلق بات کرنا غیر ضروری اور بلاگ کو بوجھل بنانے کے مترادف ہو گا۔ اس موضوع پر ہزاروں صفحات موجود ہیں آپ کہیں سے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ہاں

آخر میں چند اشعار درج کیے دیتا ہوں جو اکیلا ہونا اور تنہا ہونا میں فرق کو ابھار کر آپ کے سامنے لائیں گے۔ ان میں فرق کرنا، اکیلا اور تنہا ہونا میں حد تفاوق کھینچنے کا کام آپ پر ہے۔

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا
میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا
اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
میں، اندھیرا تھا، اور کوئی نہ تھا
گر کے گم ہو گیا خدا مجھ میں
ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں
اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا
مرے گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے
خدا جانے میں کس سے ڈر رہا ہوں
تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو
تاحد نظر ایک بیابان سا کیوں ہے
دروازے پر پہرہ دینے
تنہائی کا بھوت کھڑا ہے

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais