گھریلو تشدد اور ہماری قانونی ذمہ داریاں!


سماج میں عورت کو ہمیشہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عورت کی سماجی برابری کا سوال آج کا نہیں، صدیوں پرانا ہے۔ عورت کو صدیوں سے سماجی، سیاسی، اور معاشی معاملوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ انسان کی سماجی تاریخ مردانہ سماج کی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے۔ عورت کو کس قدر بے رحمی سے مردانہ سماج نے سماجی اور سیاسی معاملات سے دور رکھا۔ کیسے عورت کو سیاسی اور معاشی معاملوں سے دور رکھ کر جسمانی اور ذہنی تشدد کا شکار کیا گیا۔

عورت کی غلامی، سماجی برابری جیسے سوالات آج تک حل نہیں ہو سکے۔ آج بھی سینکڑوں لوگوں کے ذہن میں گھومتے ہیں۔ آج بھی ہم عورت کی سماجی حیثیت اور برابری کی باتیں کرتے ہیں۔ کیونکہ آج بھی عورت پر تشدد ہو رہا ہے۔ آج بھی عورت کے حقوق اسے نہیں مل پائے۔ آج بھی عورت اپنے حقوق کے لئے لڑتی ہے۔ آج بھی ہوا کی بیٹی کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گھریلو تشدد کے بھڑتے ہوئے واقعات آج کل سماج کا سب سے بڑا اہم ترین اور سنگین مسئلہ ہے۔

گھریلو تشدد، جسے مباشرت تشدد یا پارٹنر بدسلوکی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایک مباشرت تعلقات کے اندر ذہنی یا جسمانی تشدد بدسلوکی کے رویے کا ایک نمونہ ہے۔ جو کسی بھی انسان کے لئے تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ جہان ایک ساتھی دوسرے ساتھی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تشدد کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ جس میں جسمانی، نفسیاتی، جنسی، یا معاشی بدسلوکی شامل ہوتی ہیں۔ گھریلو تشدد کسی بھی جنس، کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔

جسمانی تشدد عورت پر تشدد کی بدترین شکل ہوتی ہے۔ کیوں کہ تشدد انسانی حقوق، انسانی آزادی، سماجی برابری کی خلاف ورزی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ تشدد کی کسی بھی شکل کو برداشت نہیں کر سکتا کیوں کہ انسان کا ایک دوسرے انسان پر تشدد غیر قانونی اور غیر انسانی عمل ہے۔ گھریلو تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور متاثرین کے لئے اس کے شدید نفسیاتی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خواتین کو تحفظ دینے کے حوالے سے 2006 خواتین تحفظ بل میں کی گئی، قانون سازی میں اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ عورت کو کسی بی قسم کے تشدد ہونے کی صورت میں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 14 اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کا وقار اور قانون کے تابع رازداری گھر کا ناقابل تسخیر ہو گا۔ اور آرٹیکل 25 کے مطابق آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے جنسی بنیاد پر کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ریاستی قانون عورت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ اور جب کہ آئین کا آرٹیکل 37 سماجی انصاف کے فروغ اور اس کے خاتمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ گھریلو تشدد کے حوالے سی کی گئی قانون سازی اور عوامی سطح پر عورتوں کی جاگرتا کے حوالے سے کافی کوششیں کی گئی ہیں۔

مگر تشدد کے واقعات پھر بھی ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ گھریلو تشدد کے روک تھام کے لئے اور تحفظ بل، 2013 سندھ صوبائی اسمبلی نے 8 مارچ 2013 کو منظور کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کے پاس کردہ اس بل نے گھریلو تشدد کے خلاف خواتین اور بچوں سمیت کسی بھی کمزور شخص پر تشدد کرنے کی صورت میں تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس بل کی وجہ سے سماج میں مایوس اور لاوارث اور تشدد کی زد میں آنے والی خواتین کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔ خواتین میں بل کے حوالے سے آگاہی دینے کے لئے سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تحرک میں ہیں جو کہ آگاہی مہم میں مختلف ورکشاپ، تربیتی پروگرام اور عورت مارچ کر کہ خواتین کو ان کے حقوق کے حوالے سے کی گئی قانون سازی کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

جنسی یا جسمانی تشدد کا مطلب عورتیں یا بچے یا کوئی بھی متاثر شخص جس پر جنسی یا جسمانی تشدد کیا گیا ہے، یا گھریلو تشدد کے کسی بھی عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے، بچوں سے مراد اٹھارہ سال کی کم عمر کا کوئی بھی افراد تشدد کا شکار ہو۔ پاکستان کی وزارت انسانی حقوق کے مطابق گھریلو اور جنسی مسائل اب پاکستانی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 15 سے 29 سال کی عمر کی 28 فیصد خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی معاشرہ خواتین کے حوالے سے غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ جس میں اغوا، قتل، خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عورت فاؤنڈیشن اسلام آباد میں کام کرنے والی ان کی ذیلی تنظیم کے سروے کے مطابق 2021 میں چاروں صوبوں میں جنسی تشدد کے 2، 297 واقعات درج ہوئے۔ قتل اور جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کی فکری پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گھریلو اور جنسی تشدد کے تیزی سے بڑھنے والے واقعات کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے شائع کردہ تخمینے کہ مطابق عالمی سطح پر دنیا بھر میں تقریباً 3 میں سے 1 ( 30 %) خواتین کو اپنی زندگی میں جسمانی اور/یا جنسی مباشرت پارٹنر تشدد یا غیر پارٹنر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس تشدد میں سے زیادہ تر شوہر ہی تشدد کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں، 15۔ 49 سال کی عمر کی تقریباً ایک تہائی ( 27 %) خواتین جو رشتے میں رہی ہیں رپورٹ کرتی ہیں کہ انہیں اپنے قریبی ساتھی کے ذریعے کسی نہ کسی قسم کے جسمانی اور/یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سماج کی ایسی بھیانک صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ سماج میں انسان کی جگہ حیوان بس رہے ہیں، اس طرح تشدد کے واقعات میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس سماج میں خواتین اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

عالمی سطح پر قتل ہونے والی خواتین میں سے 38 فیصد شراکت داروں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ قانونی سطح پر ایسی خواتین کے لواحقین یا تو قانونی لڑائی لڑتے ہیں یا ان کو خاموش کروایا جاتا ہے۔ اس تشدد کے بہت سارے اسباب ہیں، ڈرگز اور الکوحل زیادہ مقدار میں استعمال کرنا، معاشرتی رویا جس کہ بنیاد پر مرد حضرات خود کو عورت سے زیادہ اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ جنسی غیر برابری جیسے ٹرمز ذہنی نشو و نما جیسے اسباب مردوں کے لئے اعلیٰ مقام اور خواتین کو کم حیثیت دینے والا نام نہاد کلچر کی وجوہات سے ایسے واقعات جنم لیتے ہیں۔

معاشرے میں گھریلو تشدد پر ضابطہ کیسے ممکن ہے؟

ہمارے سماج میں گھریلو تشدد پر قابو پانا ایک پیچیدہ اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول افراد، مختلف طبقات، حکومت اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شامل ہوں۔ جس کے لئے اہم حکمت عملی کی ضرورت ہے جو گھریلو تشدد سے نمٹنے اور روکنے میں مدد کر سکتی ہے۔ تعلیم اور آگاہی عوامی بیداری کے مہموں اور تعلیمی پروگراموں کو فروغ دیں جو گھریلو تشدد کے نتائج، متاثرین پر ان کے اثرات، اور مجرموں کے لئے قانونی نتائج کو اجاگر کریں۔ لوگوں کو صحتمند تعلقات، صنفی مساوات، اور باعزت مواصلات کے بارے میں تعلیم دینا رویوں اور طرز عمل کو تبدیل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

قوانین اور پالیسیوں کو مضبوط بنانا۔ گھریلو تشدد سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کو نافذ اور مضبوط کریں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ مجرموں کا احتساب کیا جائے اور متاثرین کو مناسب تحفظ اور مدد ملے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، قانونی پیشہ ور افراد اور سماجی خدمات کے ساتھ تعاون کریں تاکہ گھریلو تشدد کے معاملات کو موثر طریقے سے سنبھالنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ اس کے علاوہ گھریلو تشدد کے متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیاں جیسے کہ پناہ گاہیں، ہیلپ لائن، مشاورتی مراکز، اور قانونی خدمات سرانجام دیں۔

خواتین کو با اختیار بنانا، تعلیم، معاشی مواقع اور مختلف پروگراموں کے ذریعے خواتین کا با اختیار بنانا چاہیے۔ اس کے علاوہ خواتین کی مالی آزادی اور وسائل تک رسائی ان کے گھریلو تشدد کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کمیونٹی موبلائزیشن کے متحرک ہونے سے صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لئے مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں، معلمین اور متاثر کن افراد کو شامل کرنے سے مثبت تبدیلی کے امکان موجود ہیں۔

اس کے ساتھ قانونی سطح پر ایک جامع فریم ورک کی ضرورت ہے جو متاثرین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ خصوصی عدالتیں کے قیام سے مقدمات کو تیز کرنے میں مدد ملی گی۔ ان عدالتوں میں ایسے مقدمات کو موثر طریقے سے نمٹانے کے لئے تربیت یافتہ لوگ ہونے چاہیے، ان سب طریقوں سے تشدد کو روکنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ ا

Facebook Comments HS