کم عمر گھریلو ملازمین پر تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان


حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔ بالکل اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ لوگوں کو حسن سلوک کی تاکید فرماتے رہے، یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کی تلقین فرماتے رہے، یہ سب کچھ ایک با اخلاق فرد کی تربیت کے لئے ہے جو معاشرے میں سودمند کردار ادا کر سکے۔ اور ایک پرسکون و خوشگوار معاشرتی ماحول پروان چڑھ سکے۔ ایسے میں جب ہم کسی بہت ہی دردناک واقعہ کے متعلق جان پاتے ہیں تو حیرت سے زیادہ افسوس ہوتا ہے۔

شروع سے معاشرے میں ظلم و زیادتی کے بڑھاوے میں اشرافیہ یا مراعات یافتہ طبقے کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خود کو اشرف المخلوقات اور باقی لوگوں کو حقیر کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں، جن کی سرپرستی میں ظلم، نا انصافی اور تشدد پسندانہ رجحانات جنم لیتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ غریبوں کو انصاف کا نہ ملنا یا امیروں کا قانون کے اطلاق سے با آسانی بچ جانا بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا اشرافیہ قانون سے نہیں ڈرتے۔ ایسے میں اگر نشانہ غریب کا بچہ ہو تو پھر ظلم کرنے والے کا فرعون بن جانا کچھ عجب نہیں۔

یوں تو نوعمر غریب گھریلو ملازمین پر تشدد کی خبریں گاہے گاہے آتی رہتی ہیں جو عموما نظر انداز کردی جاتی ہیں لیکن کبھی کبھار کوئی خبر میڈیا میں بھی آجاتی ہے جیسے آج کل خبروں میں ایک 14 سالہ بچی ہے جس پر اسلام آباد کے ایک سول جج صاحب کی بیوی نے تشدد کی انتہا کر دی۔ اس بچی کی میڈیکل رپورٹ انتہائی افسوسناک ہے بچی بہت بری طرح مضروب ہے، جسمانی تشدد کی وجہ سے اس کے بیرونی و اندرونی اعضاء بری طرح متاثر ہیں۔

یہ تمام زخم انتہائی بری حالت میں ہیں، ہر زخم ظلم و بربریت کی طویل داستان کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ سر کے زخموں میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ طبی امداد تو درکنار اس بچی کو بنیادی انسانی سہولیات بھی میسر نہ تھیں۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، ڈاکٹرز کے مطابق یہ ہڈیاں مہینوں پہلے کی ٹوٹی ہوئی ہیں اسی طرح سر میں بڑے بڑے زخم ہیں، سر کی ہڈیاں بھی کئی جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں۔

چہرہ اور آنکھیں بھی بری طرح زخمی ہیں، اگر ہم ڈاکٹری رپورٹس کو نہ بھی پڑھیں صرف ایک نظر بچی کو دیکھیں تو بھی اس کی ابتر حالت سے با آسانی بد ترین تشدد اور غیر انسانی سلوک کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بچی پر لمبے عرصے تک مسلسل بہیمانہ تشدد کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اسے شدید جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچا ہے۔

یہ بچی سرگودھا کے ایک غریب آدمی کی بیٹی ہے، لوگ عمومی طور پر اپنے کم عمر بچے بطور گھریلو ملازم لوگوں کے ہاں چھوڑ دیتے ہیں، ان سے وہ بچوں کا مہنتانہ پہلے ہی وصول کر لیتے ہیں، لہذا جن لوگوں نے ایڈوانس پیسے دیے ہوں ان کے لئے یہ بچے کسی زرخرید غلام کی طرح ہوتے ہیں، لہذا ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھیں جائز ہے، بالکل اسی طرح اس بچی کے والدین نے بھی اسے اسلام آباد کے ایک سول جج کے گھر چھ مہینے پہلے بطور گھریلو ملازمہ چھوڑ دیا تھا اور خود سرگودھا واپس چلے گئے تھے۔ جب یہ اپنی بچی کو ملنے اسلام آباد گئے تو انہوں نے اپنی بیٹی کو بہت بری حالت میں پایا، یہ اسے سرگودھا لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے لاہور لے جانے کی تجویز دی، کیونکہ اس کے زخموں کی حالت بہت خراب تھی۔

ان حالات کے تناظر میں جہاں روز گھریلو ملازم بچوں پر ظلم کی ایک نئی داستان منظر عام پر آجاتی ہے، لگتا ہے جیسے پورا معاشرہ اس روش پر چل پڑا ہے۔ لہذا اس قسم کی خبریں ہمیں چونکائے بغیر گزر جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے ہمارے دل مظلوم بچوں کی اذیت ناک خبریں سن سن کر بے حس ہو چکے ہیں۔ قانون، فلاحی دارہ، یا میڈیا مدد پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ عجیب بی حسی اور سرد مہری پورے معاشرے پر طاری ہے۔ ہر بار جب ایک نیا سانحہ سامنے آتا ہے، کچھ نام نہاد فلاحی تنظیمیں شور مچاتی ہیں چینلز اپنی ریٹنگ بڑھاتے ہیں مال بناتے ہیں اور معاملہ کھیل ختم پیسہ ہضم کے مصداق سرد خانوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل ایثار سے عاری ہوتا ہے اور محض پیسہ بنانے کا ذریعہ ہوتا ہے لہذا نتائج بھی نہ ہونے کے برابر ہی ہوتے ہیں۔ نشریاتی ادارے کوریج کے نام پر خوب راگ الاپتے ہیں اور مظلوموں کی عزت کا وہ پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے کہ شیطان بھی شرم سے دانتوں میں انگلیاں دابے نظریں چراتا نظر آتا ہے۔

پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ کم عمر ملازمین بچے جبری مشقت کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بچوں سے جبری مشقت کی بدترین مثالیں موجود ہیں، چاہے وہ گھریلو ملازمین ہوں یا کسی ادارے سے منسلک ہوں، بدترین حالات کا شکار ہیں۔ یہاں تک کے حبس بے جا میں رکھ کر کام کروانا بھی عام سی بات ہے۔ اینٹوں کے بھٹے، قالین کے کارخانے، بھیک منگوانا، چوڑی کے کارخانے، چائے خانے نوعمر ملازمین کے دم سے ہی چل رہے ہیں۔

یہ تمام بچے 5 سے 15 سال تک کی عمر کے ہوتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مناسب قانونی چارہ جوئی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے حوصلے بلند ہیں بلکہ والدین بھی اپنے بچوں کو موت کی دہلیز پر مسلسل چھوڑ رہے ہیں، جبکہ ان دلخراش واقعات سے بھی وہ بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان سے پہلے ان کے اردگرد کے لوگ ان تمام تجربات سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ نوعمر بچوں سے مشقت بذات خود ایک قبیح فعل ہے اور دنیا بھر میں بنیادی اخلاقی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ہمارے ہاں اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اب تو یہ ایک قسم کا اسٹیٹس سمبل بن کر رہ گیا ہے،

اس طرز عمل کے نتیجے میں اکثر بچے یا تو زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں یا پھر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی نے ان تلخ حقائق پر سے پردہ اٹھانے کی سنجیدگی سے کوشش ہی نہیں کی۔

غربت و افلاس کے ہاتھوں مجبور والدین اپنے معصوم جگر گوشوں خصوصاً بچیوں کو ان بگڑے نوابوں کے حوالے کر دیتے ہیں، جو ان بچوں کو پالتو جانور یا غلام کی طرح رکھتے ہیں اور پھر جو ظلم بھی روا رکھ سکتے ہیں کرتے ہیں، جس میں کئی کئی ماہ تک ماں باپ سے ملنے نہیں دیا جاتا، جسمانی تشدد ہنٹر یا سلاخ سے

مارنا، جنسی زیادتی، استری یا چولہے سے جلا دینا، ہاتھ پاؤں توڑ کر معذور کر دینا، اور کبھی تو مظلوم بچے کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔

اس مقام پر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس پورے قضیے میں والدین کا کتنے فیصد کردار ہے، کیونکہ ان کی رضا سے ہی بات آگے بڑھتی ہے اور سانحے کی شکل تک پہنچ پاتی ہے۔ کیا یہ صرف مالی پریشانی اور غربت ہے جو والدین کو اس حد تک مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ معاملہ چاہے جو بھی ہو، دولت مند غریبوں کی اس کمزوری سے خوب واقف ہوتے ہیں، لہذا یہ اپنے پیسے کی طاقت کے عوض غلام نما بچے خرید کر گھر میں رکھ چھوڑتے ہیں۔

ان بھوکے اور مظلوم بچوں پر کام کا اس قدر بوجھ ڈالتے ہیں کہ وہ اس عقوبت خانے سے آزادی کا سوچنا تک بھول جاتے ہیں اور یہ نام نہاد آقا جب اور جہاں موقع ملتا ہے اپنی انا کی تسکین کی خاطر ان مظلوم بچوں کو تختہ مشق بنانے سے نہیں چوکتے اور جو ظلم روا رکھ سکتے ہیں رکھتے ہیں۔ اس ظلم کی چکی میں رحم کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ میرے پاس اتنا حوصلہ نہیں کہ ان مظالم کو قلمبند کر سکوں۔

Facebook Comments HS