ہجر کی سہانی شام


مریم کو یہ ابھی کل کی بات لگ رہی تھی جب اس کو وردہ نے کہا تھا۔ میں تم سے ناراض ہوں، مجھے سے چھپ چھپا کر کیا منصوبے بن رہے ہیں! وردہ واقعی چہرے سے ناراض لگ رہی تھی۔

’بھئی کیا بات ہے یار۔ کوئی ایسی بات ہی نہیں ہوئی جو تمہیں بتاؤں۔ پتا نہیں کیا اونٹ پٹانگ بول رہی ہو۔ ‘ مریم نے اپنی بائیں طرف کی لٹ سے کھیلتے ہوئے کہا۔

’اچھا اب اداکاری، وہ بھی مجھ سے۔ سن مریم، میں تیری رگ رگ سے واقف ہوں۔ بول کون ہے وہ کون وہ؟‘

وردہ جواب کے لئے صبر نہ کر سکی۔ ’وہی جو تجھے ہم سے چھین کر لے جائے گا۔ جلدی بول، میں اور برداشت نہیں کر سکتی۔ ‘ وردہ نے قریب آ کر مریم کی کلائی کو زور سے پکڑ لیا تھا۔

’اف! میری کلائی تو چھوڑ۔ ‘ مریم نے کلائی کو جھٹکتے ہوئے کہا۔ ’خدا کی قسم مجھے کچھ نہیں پتا۔ ‘ مریم نے وردہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔

’ہیں واقعی، میں نے سنا ہے کہ چند دنوں کے بعد تیری شادی ہونے والی ہے۔ ‘ وردہ نے اپنی آواز نیچی کرلی تھی۔

’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تجھے پتا لگ جائے اور مجھے خبر پی نہیں کہ میری شادی ہونے والی ہے۔ تجھے کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ میری اماں تو میری مرضی کے بغیر شادی نہیں کرے گی۔ ‘

اگلے دن مریم موقعے کی تلاش میں تھی کہ کب اپنی ماں سے بات کرے جب باپ گھر میں نہ ہو۔ ساری رات وہ کروٹیں بدلتی رہی تھی کہ آخر اس کا دولھا کون ہو سکتا ہے۔ سب جاننے والے لڑکوں کے چہرے اس کے سامنے آتے رہے اور جاتے رہے۔ کوئی چہرہ دو چار لمحوں کے لئے رکتا بلکہ وہ خود اسے روک لیتی اور اس کو اپنے خیالوں کی دنیا میں دولھا بنا لیتی۔ لیکن کوئی اور بھی تو ہو سکتا ہے جس کو میں جانتی پہچانتی ہی نہیں۔ پھر اس کے جسم میں ایک خوف کی لہر دوڑ جاتی اوپر سے نیچے تک۔ وہ اس خوف کی شدت کو اپنے پوروں میں بھی محسوس کر سکتی تھی۔ ماں کیوں آج کل مجھے گھور گھور کر دیکھ رہی ہے۔ شاید اس نے اسی موزوں پہ بات کرنی ہے۔

کوئی دس بجے ابا گھر سے نکلے تو مریم اماں کے سامنے بیٹھ کر انتظار کرنے لگ گئی لیکن اماں اس کو گھورنے سے آگے نہیں بڑھی۔ وہ ڈھیر ساری سبزیوں کی چھانٹی کرنے میں مصروف رہی۔

’اماں، میں سنا ہے کہ میری شادی ہونے والی ہے، کچھ تو مجھے پتا ہونا چاہیے۔ مجھ سے تو کسی نے پوچھا تک نہیں۔ ‘

اماں مسکرا پڑی لیکن اس کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمو دار ہو رہے تھے۔ ’تمہارے ابو نے دولھا پسند کر لیا ہے۔ پھر وہ کچھ سوچ کر بولی۔ ‘ اس سے بہتر دولھا تمہیں نہیں مل سکتا۔ ’

’اس طرح میں شادی نہیں کروں گی۔ میں کوئی گائے بھینس ہوں کہ جس کھونٹے سے چاہو مجھے باندھ دو ۔ اماں، تمہیں تو پتا ہے کہ وہ کون ہے۔ تم بھی مجھ سے چھپا رہی ہو۔ آپ لوگوں کو تو زمین بیٹیوں سے زیادہ پیاری ہے نا۔ پتا نہیں کس نکھٹو کے ساتھ مجھے باندھ رہی ہو تا کہ وہ وراثت میں اپنا حصہ نہ مانگے۔ ‘

’ہم لوگ تمہارے دشمن تو نہیں ہیں تمہارے لئے اچھا ہی سوچیں گے۔ ‘
’اماں، میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہی ہو! ‘

’طاہرہ کے ساتھ اس کے ماں باپ نے کیا کیا تھا۔ اس کی شادی قرآن سے کر دی۔ اب وہ پگلی ہو کر سارا دن خلا میں گھورتی رہتی ہے۔ یا بادلوں سے باتیں کرتی ہے۔ لیکن اس کے ماں باپ کو کوئی فکر نہیں، زمینیں تو بچ گئیں ان کی! ‘

’وہ تو شادی کے بعد پا گل ہو گئی تو تو ابھی سے پگلی ہوتی جا رہی ہے۔ ‘ ماں نے دوپٹے سے پسینہ پہنچتے ہوئے کہا۔

’ اماں۔ کیوں چھپا رہے ہیں آپ لوگ مجھ سے۔ ‘
’تمہارے باپ کی یہی ہدایت ہے۔ ‘ اماں نے دوپٹہ سیدھا کرتے ہوئے برجستہ جواب دیا۔
’اور تم بھی خوشی خوشی سازش میں شامل ہو گئیں۔ ‘

’تمہیں پتا ہے کی میری تمہارے باپ کے آگے ایک نہیں چلتی۔ اور، اور یہ کہ خاندان کی زمینیں بچا کر رکھنی ہیں ورنہ بیٹیوں کے ساتھ ساتھ وہ بھی بٹ جائیں گی۔ ‘

’تم بھی ابو کے ساتھ مل گئی ہو۔ مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ میرے خلاف یہ سازش ابو تمہاری مرضی کے بغیر نہیں کر سکتے۔ ‘

’ارے پگلی، پم نے بہت اچھا لڑکا ڈھونڈا ہے۔ تمہیں کسی باڑے کے لئے نہیں رخصت کر رہے۔ ‘
’لڑکا کون ہے، میں اپنی مرضی کے بغیر نہیں شادی کروں گی۔ میں زہر کھا کر مر جاؤں گی۔ ‘

’بس بس، بغیر سوچے سمجھے بولے جا رہی ہے۔ بیوقوف۔ کیا ہم تمہارا برا بھلا نہیں جانتے۔ تابعدار لڑکیاں زبان نہیں چلاتیں۔ وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے۔ پڑھا لکھا ہے اچھی شکل و صورت کا ہے۔ پھر تمہیں کیا اعتراض ہے؟ پتا نہیں ہی آج کل کی لڑکیاں کیا چاہتی ہیں۔ ‘

’اماں میں اس گاؤں میں سب سے زیادہ لکھی پڑھی لڑکی ہوں۔ ‘ مریم کا چہرہ ایک دم کھل سا گیا۔
’تجھے کالج بھیجنا ہی ہماری سب سے بڑی غلطی تھی۔ ہوسٹل میں رہ کر تمہاری زبان چل نکلی ہے۔
’اماں میں تم سے کچھ اور نہیں مانگ رہی لیکن مرضی کی شادی تو میرا انسانی اور مذہبی حق ہے۔
’تو تم خود لڑکا ڈھونڈ کر لاؤ گی! ‘

مریم نے ایک گہرا سانس لیا۔ ’یہاں کوئی لڑکا ہے میرے قابل! تم ڈھونڈ لو لیکن شادی میری مرضی کے بغیر نہیں ہو گی۔ ‘

’یہ جو تو باتیں کر رہی ہے نا، تیرے ابو نے سن لیا تو تیرا گلا گھونٹ دیں گے۔
مریم نے دوپٹے کو گلے پہ سے اتارا۔ ’میں تیار ہوں۔ ‘
’اتنی خود سر لڑکی۔ توبہ توبہ مجھے تو تمہارے ابو کا اصلی نام بھی شادی کے بعد ہی پتا چلا تھا۔
’اماں تم تو بڑے فخر سے کہہ رہی ہو جیسے یہ کوئی بہت ہی اچھی بات تھی۔

’زبان چلانے کے بجائے ہاتھ پیر چلانا سیکھ۔ آج تو کھانا پکا، پرائے گھر میں جانا ہے۔ باتوں سے زندگی نہیں گزرتی۔ ‘

مریم اٹھ کر برآمدے میں جا کر بیٹھ گئی اور اپنے پالتو طوطے سے باتیں کرنے لگ گئی۔ طوطے کو پوری واردات سنانے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔ میز پہ سے سولہ سنگھار کا سامان اٹھا اٹھا کر زمین پہ پٹخ دیا اور بستر پہ لپیٹ کر اونچے اونچے رونا شروع کر دیا۔ ’آ جائیں ابو، میں ان سے دو ٹوک بات کروں گی۔

اماں نے یہ سن کر دروازہ باہر سے بند کر دیا۔

اگلے ہفتے گھر میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ شادی میں صرف دس دن باقی تھے۔ درزی گھر بیٹھا ہر ایک کے کپڑے سی رہا تھا۔ گھر کی مرمت اور رنگ و روغن کے لئے ایک فوج مصروف ہو گئی تھی، گھر کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا جبکہ دلہن خود ویرانگی اور یاسیت کا شکار تھی۔ مریم نے خود کو وقت کے دھارے پہ چھوڑ دیا تھا۔ ہلکے سرخ رنگ کا عروسی لباس، حنا، زیورات سے سجا سجا کر اسے دلہن بنایا جا رہا تھا لیکن اس نے چپ کا روزہ رکھ لیا تھا۔ کسی چیز کا کوئی ردعمل نہیں، بس ایک بت کی طرح وہ سجی سجائی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی خالہ نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اسے ہلایا اور اسے مریم کی رضا مندی کے طور پہ قبول کر لیا گیا۔ شادی کی چند رسموں کے بعد مریم کو اس کے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد دولھا داخل ہوا اور مریم کا گھونگھٹ اٹھایا۔

مریم نے پلکیں اٹھائیں تو اس کے سامنے ایک خوبرو جوان تھا۔ چوڑے قد و کاٹھ، چہرے پہ دلکش مسکراہٹ۔ دولھا نے نرم گفتگو سے میٹھے بول کہنے شروع کیے تو مریم نے دونوں ہاتھ پوری قوت سے دوپٹے میں سے باہر نکالے اور دوسرے ہی لمحے سعید گرتے گرتے بچا۔ غصے نے اس بت کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا۔

سعید نے خود کو سنبھالا۔ ’یہ تم کیا کر رہی ہو! میں اب تمہارا شوہر ہوں۔ تم میری بیوی ہو، میری خوبصورت دلہن، لاکھوں میں ایک۔ ‘

مریم نے گھونگھٹ کو پرے کیا۔ ’میں تمہاری دلہن نہیں ہوں۔ سن لو، تم میرے شوہر نہیں ہو۔ تم نے خود کو بیچ دیا لیکن میں کوئی بکاؤ مال نہیں ہوں۔ ‘

سعید نے آواز اور آہستہ کر لی۔ ’میں نے کب کہا کہ تم بکاؤ مال ہو۔ اور نہ ہی میں نے کوئی سودا کیا ہے شادی کے لئے۔ ‘

مریم نے بر جستہ جواب دیا۔ ’میں سب جانتی ہوں۔ ‘

سعید پلنگ کے کنارے بیٹھ گیا۔ ’میں تمہارا ہر طرح سے خیال رکھوں گا۔ تمہیں اپنی جان بنا کر رکھوں گا۔ اب تو نکاح ہو چکا ہے۔ اب تم کیوں ایسی باتیں کر رہی ہو؟‘

’بس تم آگے نہیں بڑھنا۔ صوفے پہ بیٹھے رہو یا باہر چلے جاؤ۔ یہ نکاح غیر مذہبی ہے کیونکہ میری مرضی کے بغیر ہوا ہے۔ مریم کی آواز اونچی ہو گئی تھی۔ یہ نکاح نا جائز ہے! ‘

یہ مریم کی آواز نہیں بلکہ قیامت کے فرشتے کا صور تھا جو ایک ہی لمحے میں ہزاروں بار سعید کی روح قبض کر گیا۔ اس نے شیروانی کے سارے بٹن کھول کر اسے ایک طرف پھینکا، نزدیک رکھے ہوئے جگ کو منہ لگا کر سارا پانی گیا، اور صوفے پہ ڈھیر ہو گیا۔ مریم کے چہرے پہ ایک شیطانی مسکراہٹ تھی جیسے ایک شیرنی نے شکاری کو پہلی ہی وار میں شکست دے دی ہو۔

اگلے صبح سعید ہلکے نیلے رنگ کا کرتہ پاجامہ زیب تن کیے بہت اسمارٹ لگ رہا تھا لیکن اس کی دلہن عام کپڑوں میں ملبوس تھی، نہ کوئی زیور نہ میک اپ، نہ ہی مسکراتی ہوئی شرماہٹ۔ کسی سے بھی مریم سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔ شادی کی رونقیں کہیں غائب ہو گئی تھیں، ہر طرف شک و شبہات، چہ مگوئیوں اور خاموشیوں کا ڈیرہ تھا۔

شکاری اور شیرنی کا یہ کھیل ایسے ہی چلتا رہا۔ جب بھی سعید نے مریم سے بات کرنے کی کوشش کی، مریم نے یہی محسوس کیا جیسے کوئی اسے شکار کرنا چاہتا ہے اور مریم سعید کو پیچھے دھکیل دیتی۔ سعید خاموشی سے اپنی ہار مان لیتا۔ مریم اس کھیل میں ہر دفعہ جیت کر خود کو سرخ رو محسوس کرتی! لیکن سعید کا ذہن یاسیت کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔

وقت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا بلکہ مریم اور سعید کے لئے بالکل رکا ہوا تھا۔ دو لوگ جو ایک ہی گھر میں رہتے تھے، ایک ہی کمرے میں سوتے تھے لیکن پھر بھی بالکل اجنبی، اجنبی ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے وجود سے منکر۔

ایک دفعہ اماں نے پوچھا۔ ’تم لوگ آپس میں بات کیوں نہیں کرتے ہو؟ شوہر کا دل جیتنے کی کوشش کرو۔ ‘
’شوہر! وہ میرا شوہر نہیں ہے۔ تم اسے پال رہی ہو گھر داماد بنا کے۔ ‘ مریم آگ برس رہی تھی۔
’آہستہ بول، دنیا کو سنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اپنی عزت کا خیال نہیں تو ہماری عزت کا بھرم رکھ لے۔ ‘
’اماں۔ تمہاری عزتیں، تمہاری زمینیں سب بچ جائیں، میں باقی رہوں یا نہیں! ‘

’بد تمیز، اب تم چاہتی کیا ہو؟ گھر بساؤ اپنا۔ تمہارا شوہر ایک اچھا آدمی ہے۔ خوش شکل ہے، ذمہ دار ہے، تمیز سے بات کرتا ہے۔ ابھی تک تمہاری حرکتوں کو برداشت کر رہا ہے۔ ‘

’وہ مجھے برداشت کر رہا ہے یا میں اسے برداشت کر رہی ہوں؟ ‘ مریم نے ایک گہرا سانس لیا۔
’مجھے اس سودے کی شادی سے کوئی مطلب نہیں۔ ‘

’بے وقوف۔ اپنی زندگی خود ہی بگاڑ رہی ہو، اور ہماری بھی۔ ‘ اماں کے چہرے کی جھریاں چند ہی دنوں میں نمایاں ہو گئی تھیں۔

’میں تمہارے فرضی داماد کو اور برداشت نہیں کر سکتی، جاتا بھی نہیں ہے یہاں سے، مفت کی روٹیاں توڑ رہا ہے۔ ‘

’زبان ہے یا کوئی سپنی زہر اگل رہی ہے۔ ‘ ماں نے چولھے کی طرف منہ موڑ لیا۔ ’

شادی کو تقریباً ایک ماہ ہونے کو تھا۔ سعید کمرے میں داخل ہوا، کمرے میں کوئی کلاسیکی موسیقی کی طلسماتی دھنیں صوتی لہریں بکھیر رہی تھی اور مریم تکیے کے سہارے بیٹھی ہوئی ان میں مجذوب تھی۔

آج سعید نے پہلی بار محسوس کیا کہ کمرے کا ماحول کچھ آسودہ تھا۔ شاید شیرنی کی جارحیت اپنی ہی آگ میں جل چکی تھی۔

سعید اپنی ساری ہمت کو اکٹھا کر رہا تھا۔ موقع محل دیکھ کر مریم سے مخاطب ہوا۔
’اب ہمیں دوستی کر لینی چاہیے یا اس رشتے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہیے۔ ‘
مریم کا پورا سراپا اضطراب کا شکار ہو گیا۔ اس نے وقت لینے کے بہانے کہا۔
’دوبارہ کہو، میں نے ٹھیک سے سنا نہیں۔ ‘

مریم کے لہجے میں نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھ گیا اور بہت آہستہ سے جملے کو دہرایا۔

مریم اب جواب دینے کے لئے تیار ہو چکی تھی۔ ’یہ سودے کی شادی ہے میں اس شادی کو قبول نہیں کر سکتی۔ ‘

’ہاں، تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ یہ شادی میری مجبوری تھی کیونکہ میں تمہارے ابو سے لیا ہوا قرض واپس نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن ہم اس شادی کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ ‘

’نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ نکاح ہی جائز نہیں ہے۔ ‘
سعید جان بوجھ کے مسکرایا۔ ’میں دوبارہ قاضی کو بلوا لیتا ہوں۔ پھر تم اپنی مرضی سے ہاں کر دینا۔ ‘
آج پہلی بار دونوں کتنے آرام سے بات کر رہے تھے۔

آج نہ یہاں کوئی شکاری تھا نہ ہی کوئی بپھری ہوئی شیرنی۔ نہ ہی کوئی ہوس بھری نگاہیں اور نہ ہی کوئی شرمیلی آنکھیں۔ نہ ہی طلسمی لباس نہ ہی کوئی پھولوں سے لدا پھندا بستر۔ نہ ہی کوئی ہار پہنا ہوا مرد اور نہ ہی کوئی زیور میں چھپی ہوئی عورت۔ نہ ہی کوئی ملاقات کی رسم نہ ہی تحفہ میں کوئی انگوٹھی۔ نہ ہی دلہن کے لئے تعریفی کلمات نہ ہی اس کا دبی مسکراہٹ سے جواب۔ نہ ہی ایک دوسرے کو پہلی ہی نظر میں متاثر کرنے کا دباؤ، اور نہ ہی آنے والے دنوں کے بارے میں انجانے خوف کے سائے!

پہلی بار آج دونوں نے ایک دوسرے کو گھور کر دیکھا تھا، سعید کی نگاہوں سے محبت کی کچھ کلیاں پھوٹ رہی تھیں۔ آج بھی اس کی دلہن ایک دیوی کی مانند اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی، اس کے عام کپڑے عروسی جوڑے سے زیادہ اس پہ سج رہے تھے، ایک عجب سکوت اس پہ چھایا ہوا تھا۔ یہ چند لمحے تھے جن کے لئے سعید پورے ماہ تڑپا تھا، اب یہ اس کو نصیب ہو گئے تھے۔ اس کا سراپا مسکرا رہا تھا۔

وصال کی رات کتنی پر تشدد تھی اور یہ ہجر کی رات کتنی پرسکون۔
سعید آہستہ سے اٹھا، دل اور دماغ کی کشمکش نے اس کے پاؤں جکڑ لئے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے مریم کی طرف دیکھا۔

پہلی بار اس نے مریم کو مسکراتے ہوئے دیکھا، اور شاید آخری بار۔ ’میں کل یہاں سے چلا جاؤں گا۔ ‘ اور یہ کہہ کر وہ صوفے پہ لیٹ گیا۔

مریم دوبارہ تکیے کے سہارے بیٹھ کر موسیقی کی دھنوں میں کھو گئی۔

Facebook Comments HS