بڑھتا ہوا گھریلو تشدد


سوسائٹی کے اندر پھیلی دیگر سماجی برائیوں میں ایک ”تشدد“ بھی ہے۔ قانون اور نظام کے بانجھ ہو جانے کے بعد ہمارا معاشرہ تشدد کی ایسی آماج گاہ بن چکا ہے جہاں ہر طرح کا تشدد تسلسل کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی تشدد کا ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جو پہلے کی نسبت زیادہ لرزہ خیز ہوتا ہے۔ تشدد، جنسی تشدد، اجتماعی عوامی تشدد کے بعد اب گھریلو تشدد میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ گھریلو ملازمین تشدد ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کرچکا ہے جو ذہنی بیماری میں مبتلا اشرافیہ کے گھروں میں ہوتا ہے۔

آج کل دارالحکومت اسلام آبا کے ایک سول جج عاصم حفیظ کے گھر میں ایک چودہ سالہ غریب ملازم بچی جج کی بیوی کے تشدد کا نشانہ بن کر ملکی و عالمی خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے چیف کے مطابق جن دفعات کے تحت جج اور اس کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے وہ ناقابل ضمانت ہیں لیکن اس کے باوجود عدالت ضمانت منظور کرتی ہے، اس لئے کہ خاتون ایک سول جج کی بیوی ہے۔ سرگودھا کے ڈی پی او کے مطابق بچی کے سر پر چوٹوں کے پندرہ نشان ہیں اور زخموں میں کیڑے پڑ چکے ہیں۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی بدترین تشدد کی تصدیق کرچکی ہے۔ یہ ضمانت نظام عدل پر زور دار طمانچہ ہے۔ اس کیس میں عجیب و غریب تضاد دیکھنے کو ملے ہیں جو جج کو بچانے کی سازش لگتی ہے۔ کم عمر لڑکی کو اپنے گھر میں بطور گھریلو ملازمہ رکھ کر سول جج قانون شکنی کا بھی مرتکب ہوا۔ ایک پرچہ اس حوالے سے بھی کٹنا چاہیے۔ کیونکہ اس نے پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس میں گھریلو ملازم کی عمر کم از کم پندرہ سال رکھی گئی ہے۔

اس حوالے سے مختلف رپورٹس بتاتی ہیں کہ ”لائٹ ورک“ کے نام سے گھریلو ملازم رکھنے کی جو زبردستی راستے نکالے جاتے ہیں ان کا نتیجہ ایسے پرتشدد واقعات کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔ تسلسل کے ساتھ ہر طرح تشدد کے بڑھتے واقعات کی روشنی میں اب تشدد کے خلاف ایک مربوط مہم چلانی کی ضرورت ہے اور اس کی روک تھام کے لئے بھرپور مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ایک مربوط پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے لیکن وہی بات کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

تشدد ایک عالمی جرم ہے۔ تشدد میں خاتمے کا دن ہر سال 26 جون کو منایا جاتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو تشدد کے مضمرات سے آگاہی ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں معاملہ ہی الٹ ہے۔ یہاں تحریروں اور تقاریر کے ذریعے لوگوں کو تشدد کی ترغیب دی جاتی ہے اور اکسایا جاتا ہے۔ سب سے بڑی ذمہ داری پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر عائد ہوتی ہے لیکن وہ اس پر شاید کبھی سنجیدہ قانون سازی نہ کریں کیونکہ تمام اراکین کے گھروں میں یہ ”گھریلو ملازم“ ہوتے ہیں۔

توہین پارلیمنٹ کے قانون کے نام سے اراکین نے خود کو ایک مضبوط آئینی و قانونی حصار میں محفوظ کر لیا گیا ہے، اب یہ قابل گرفت اور باعث احتساب نہیں رہے۔ ماضی میں ججوں کے گھروں میں ملازم کم عمر بچے، بچیاں بدترین تشدد کا شکار ہوئیں لیکن مجرموں کو ان کے رتبے کو دیکھتے ہوئے برائے نام سزائیں دی گئیں۔ جولائی 2017 میں ایک خاتون ایم پی اے جس کا تعلق لاہور کے علاقے اکبری منڈی سے تھا، کی بیٹی کے گھر ایک ملازم مبینہ تشدد کے بعد ہلاکت ہوئی تھی اور عدالت نے ملزمہ کو قبل از گرفتاری ضمانت کی سہولت دے رکھی تھی۔

ہلاک ہونے والے لڑکے اختر علی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کی تصدیق ہوئی تھی۔ دسمبر 2016 میں ایک ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی کی بیوی پر گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔ اتنا بھیانک واقعہ تھا کہ سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج اور اس کی بیوی کو ایک ایک سال قید اور پچاس ہزار فی کس کی سزا سنائی تھی۔ اس کیس میں بھی بچی طیبہ پر تشدد جج کے گھر میں اس کی بیوی نے کیا تھا۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق طیبہ کے جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے گیارہ نشان تھے۔ اس کے علاوہ بازوں، ٹانگوں اور کمر پر بھی تشدد کے نشان تھے۔ یہ سب کارروائی عوامی ردعمل اور دباؤ پر کی گئیں تھیں، ایک بھی کارروائی قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لئے نہیں کی گئی تھی۔ یوں کہہ کہ ”بادل ناخواستہ“ کارروائیوں کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا تھا۔ اس بار واقعہ جج کے گھر ہوا تو اس پر شدید ردعمل ہوا ہے۔ گھریلو ملازمین اور خصوصاً کم سن بچوں پر تشدد مجموعی سماجی رویوں کی نشاندہی کرتا ہے اور معاشرے کے چہرہ پر ایک بد نما داغ ہے۔

بدقسمتی سے ملکی اشرافیہ بے حسی کی سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ہے اس کو کچھ نظر نہیں آتا۔ اس تعفن زدہ نظام کی تازہ ترین مثالیں یہ ہیں کہ اٹک میں 14 سال اپیل کے فیصلے کے انتظار میں بوڑھا پاکستانی جیل میں انتقال کر گیا۔ ایک قلفی بیچنے کر حلال رزق کمانے والا جج کے حکم پر تین ماہ کے لئے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ایک جج کی بیوی کو نو عمر لڑکی پر جان لیوا تشدد کے باوجود ضمانت فراہم کردی جاتی ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن حنا جیلانی نے تیس جولائی کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔

پریس ریلیز کے مندرجات میں گھریلو تشدد کے حوالے شدید تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے تیرہ سالہ رضوانہ بی بی کیس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کم عمر گھریلو ملازمین کی ملازمت کو جرم قرار دیا جائے۔ رضوانہ کو اس کے آجروں نے ایک طویل عرصے تک شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ملکی میں اس طرح کے واقعات خطرناک حد تک باقاعدگی کے ساتھ رونما ہوتے ہیں۔ پریس ریلیز میں رضوانہ کو ملازم رکھنے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر گھریلو ملازمین کی ملازمت پر پابندی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کم عمری میں ملازمت دی گئی۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے کنونشن جس پر پاکستان نے دستخط کنندہ ہے، کا بنیادی مقصد بچوں کو سرکاری اور نجی شعبوں میں ہر قسم کے تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست کو بچوں کے خلاف ہر قسم کی غفلت، بدسلوکی، استحصال اور تشدد کی روک تھام اور ایسے واقعات کے خلاف کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS