تیسری منزل اور ابا کا باغیچہ

ہجرت شاید اپنے مقدر میں ہے۔ ابا ساری زندگی کسب معاش کے لیے آئے روز نئے شہروں کا رخ کرتے رہے اور اگر کسی ایک شہر میں بھی رہے تو آج اگر ایک جگہ دیہاڑی مکمل کی تو اگلے دن دیہاڑی لگانے کے لیے کہیں اور جانا پڑا۔ ابا بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں جب انھوں نے باقاعدہ کام شروع کیا تو مزدور کی یومیہ اجرت پچیس روپے تھے، جو اب دو ہزار کے لگ بھگ تو ہے مگر مہنگائی اتنی ہے کہ بعض اوقات اس سے بھی گزارا مشکل ہو جاتا ہے۔
ابا نے کشمیر سے ہجرت کے بعد زندگی کا اکثر حصہ راولپنڈی اور اسلام آباد یا ان دو جڑواں شہروں کے گردونواح میں کام کرتے ہوئے گزارا۔ کبھی شہر کے ایک کنارے میں کام ملتا اور کبھی کسی دوسری جگہ، آج اسلام آباد میں گزرا تو کل شاید راولپنڈی میں۔ اکتوبر 2005 کے بعد سے اب تک میرے اندازے کے مطابق ہمیں تقریبا 10 بار مکان بدلنا پڑا۔ ابتداً کچھ سال راولپنڈی کے علاقوں موتی محل، ڈھوک کالا خان اور غوث اعظم روڈ کوہالہ میں گزرے اور پھر اسلام آباد کے ایک تب کے نواحی علاقے غوری ٹاون، جو اب تقریبا نواحی نہیں ہے کا رخ کیا۔ اور یہاں بھی سہولت اور ضرورت کے پیش نظر اب تک پانچ بار مکان بدل چکے ہیں۔
ابا کو ہمیشہ سبزیاں اگانے کا بے حد شوق رہا ہے۔ شہروں میں جہاں کہیں بھی سکونت اختیار کی، ابا ہمیشہ ایسے مواقع اور وسائل کی تلاش میں رہے جس سے کچھ اگایا جا سکے۔ جب غوث اعظم روڈ کوہالہ میں ہم مقیم تھے تو اس دیہی علاقے میں ابا ہر موسم کے مطابق سبزیاں اگانے کے ساتھ ساتھ مکئی یا باجرہ وغیرہ بھی کاشت کرتے تھے۔ اور زمین ابا کی محنت کا اتنا ثمر دے دیتی کہ سارا سال ہنسی خوشی گزر جاتا بلکہ پڑوسیوں کے گھر کی بانڈی بھی کبھی کبھی انہی تازہ سبزیوں سے بنتی۔
پانچ سال قبل جب کسب معاش غوری ٹاؤن لے آیا، جہاں علاقے کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور آس پاس کہیں ایسی جگہ نا تھی کہ کچھ اگایا جا سکے تو اب کی بار ابا نے مکان کی تیسری منزل پہ یہ سب کرنے کی ٹھانی۔ ابا کی ساری عمر چونکہ لوگوں کے مکانات بنانے میں گزری تو ابا خوب جانتے تھے کہ ایسے کونسے عناصر ہیں جو ایک مکان کی چھت کو مضبوط بناتے ہیں اور اگر چھت پر پانی کھڑا ہو جائے تو اس پانی کے اثر سے مکان کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ان سارے معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے ابا نے چھت پر ایک کیاری ترتیب دی، جسے مٹی اور گوبر سے بھر دیا گیا اور قریب ایک کباڑ خانے سے ایک باتھ ٹب بھی خرید کر اسے بھی مٹی سے بھر دیا اور دونوں جگہ پر بلترتیب پودینہ، ہری مرچ، لیمن گراس ٹی اور کئی دیگر بیج تجربے کے لیے بو دیے۔
وقت گزرا، محنت رنگ لائی، ابا بھی ہر روز پانی سے سیراب کرنا نا بھولتے تھے، اور سبزیاں اگنا شروع۔ اب تک اس چھوٹے سے باغیچے میں کئی موسمی سبزیاں اگانے کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ لیمن گراس اگانے کا تجربہ اس قدر کامیاب رہا کہ نا صرف گھریلو استعمال بلکہ رشتہ داروں کو بطور تحفہ بھی دینے کے لیے کافی تھی۔ ابھی کچھ ماہ قبل ابا نے مکئی کے کچھ دانے بطور بیچ بوئے تو آج اماں وہاں سے کچھ تیار مکئی کے سٹے توڑ لائی ہیں اور یوں آئے روز کچھ نا کچھ نیا اگانے کا عمل جاری رہتا ہے اور ابا بھی کسی نئے تجربے کی خواہش میں مگن رہتے ہیں۔
اپنے ہاتھ سے اگائی گئی سبزی یا پھل کھانے میں عجب لذت ہے۔ یہ شاید خلوص کا ایک رشتہ ہے جو آپ ہی شروع کرتے ہیں اور آپ ہی انجام تک پہنچاتے ہیں۔ یہ تعلق انسان کو حساس بھی بناتا ہے، آئے روز پودوں کی خیریت جاننا، انھیں کچھ نا ہونے دینا، پھل پک جانے تک صبر کرنا، اور جب تیار ہو جائے تو شکر کرنا بھی۔ پودے کو کوئی بیماری لگ جائے تو کسان کا دکھ کسی قریبی دوست یا قربت دار کے دکھ سے کم نہیں ہوتا جسکا کوئی اینا علیل ہو۔ محنت پھل نا لائے تو پھر صبر کا عالم بھی بے مثل ہوتا ہے۔ مگر یہ سب باتیں اس انسان کو کہاں سمجھ آئیں گی، جسے یہ لگتا ہے کہ سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ اور پھر وہ کئی چیزیں خرید کے پیٹ تو دن میں دو سے تین بار بھر لیتا ہے مگر کبھی اس کی بھوک نہیں مٹتی۔ خیر ابا کا تیسری منزل پہ یہ سب اگانے کا شوق سلامت رہے، ہمیں بھی ہر بار چھٹیوں میں گھر آ کر کچھ خالص کھانے کو مل جاتا ہے۔

