ہماری چارپائی

جدید دور کی ضروریات کے مطابق دنیا ٹیکنالوجی کی جانب ہر دن ایک قدم بڑھا رہی ہے۔ لیکن رات ہوتے ہی ایک قدم پیچھے کی جانب بڑھایا جائے اور گھر جاکر اپنی طبعی ضرورت پوری کرنے کا سوچا جائے تو جس چیز کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ چارپائی ہے۔ چارپائی کا رواج پورے پاکستان کے ہر صوبے میں ہے۔ ہم نے پنجاب کی چارپائی زیادہ دیکھی ہے لہذا پنجابی زبان میں اسے منجی کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تخت ہے جس کے چار پاؤں اور چار ہی بازو ہوتے ہیں۔ پہلے پہل چارپائی لکڑی کی ہوا کرتی تھی مگر آج کل لوہے کی چارپائیاں بھی کافی رواج میں آ رہی ہیں۔ چارپائی لکڑی سے لے کر ادوائن تک مختلف پیشہ ور لوگوں کے ہاتھوں سے ہو کر گھر تک پہنچتی ہے۔ اس کا باقاعدہ طور پر پورا خاندان ہے۔ جس میں سب سے بڑا دھرنگا ہے جسے سربراہ کہا جا سکتا ہے۔ دوسرا نمبر چارپائی کا ہے۔ تیسرا نمبر پنگھوڑی کا ہے جو چارپائی سے ذرا چھوٹی ہوتی ہے۔ اس کے بعد پیڑھا اور آخر میں پیڑھی آتی ہے۔ پیڑھا اور پیڑھی کو دیگر سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سارے خاندان کو پرانے زمانے کا فرنیچر بھی کہا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں اور خاص طور پر پنجاب میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں چارپائی موجود نہ ہو۔ جب سے چارپائی ایجاد ہوئی ہے جہیز کے لئے آج تک لازم و ملزوم ہے۔ جو چارپائیاں جہیز میں دی جاتی ہیں ان کے پائے بڑے رنگین اور خوبصورت نقش و نگار سے سجائے جاتے ہیں۔
یوں تو لکڑی کے بعد چارپائی ادوان سے تیار ہوتی ہے۔ جسے پنجابی میں دونڑ بھی کہتے ہیں جو کہ ایک قسم کی رسی ہی ہوتی ہے۔ اس رسی کی بھی کئی اقسام ہیں جن میں وان اور سوتر زیادہ مقبول ہیں، اس کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ جب چارپائی استعمال میں آتی ہے تو یہ رسی ڈھیلی ہوجاتی ہے جسے بعد میں خود کھینچ کر دوبارہ مضبوط بنایا جاتا ہے۔ گوکہ اس ادوان کی بدولت چارپائی دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک حصہ تو آرام دہ اور پرسکون ہوتا ہے جبکہ دوسرا حصہ ذرا ناگوار ہوتا ہے۔ ایک ہی چارپائی میں اس قسم کی تقسیم تو باقاعدہ تکنیک کی بدولت ہے۔ لیکن اس تقسیم کی بدولت رویے، عزت نفس، اخلاق اور کردار کے مسائل الگ پیدا ہو گئے ہیں۔
چارپائی کی بڑی عزت ہے اور ہر جگہ ہی اس کا بڑا احترام کیا جاتا ہے۔ کچھ چارپائیاں ساری زندگی ایک کمرے میں ہی جڑی رہتی ہیں جبکہ کچھ سارا سال استعمال ہوتی ہیں۔ جن کو کمرے میں سنبھال کر جوڑا جاتا ہے وہ صرف خوشی و غمی کے موقع پر کام آتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر فرد کی گھر میں الگ چارپائی ہوتی ہے جس سے فرد کو انسیت سی ہوجاتی ہے۔ نفسیاتی طور پر عادت بن جانے کی وجہ سے چارپائی پر سونے والوں کو پھر کہیں اور نیند ہی نہیں آتی ہے۔
دیگر فائدہ مند اشیا کی طرح چارپائی کے بھی کئی طرح کے مسائل ہیں۔ چارپائی بنانے والے نے اس کے خاص مسئلے کے بارے میں شاید کبھی نہیں سوچا ہو گا۔ اگر اس نے سوچا ہوتا تو چارپائی کی ادوان کو دو حصوں میں کبھی بھی تقسیم نہ کرتا۔ کیونکہ اس کا اوپر یعنی سر والا حصہ آرام دہ ہوتا ہے۔ جسے پنجابی میں (سرہاندی) جبکہ نیچے یعنی پاؤں والا حصہ ناگوار ہوتا ہے جسے (پواندی) کہتے ہیں۔
جب کوئی فرد اکیلا بیٹھتا ہے تو وہ چارپائی کے عین وسط میں بیٹھتا ہے۔ لیکن کسی دوسرے فرد کی آمد پر اسے اپنی جگہ تبدیل کرنا پڑتی ہے۔ اگر کوئی بڑا بزرگ آ جائے تو بڑے احترام سے جگہ خالی کردی جاتی ہے اور جب کوئی چھوٹا خواہ وہ عمر میں چھوٹا ہو یا پھر شخصیت کے حوالے سے، اسے نچلی طرف ہی بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کا اہتمام مہمانوں کے آنے پر بھی کیا جاتا ہے اور چاہتے نا چاہتے ہوئے بھی لوگ یہ کام ضرور کرتے ہیں۔ دیگر جدید فرنیچر مثلاً صوفہ یا کرسی کی طرح چارپائی کی کوئی پائنتی یا ٹیک (سہارا) بھی نہیں ہوتا کہ جو کمر یا بازوؤں کے لئے آرام بخش ہو۔ چارپائی پر آرام کرنے کے لئے لیٹنا پڑتا ہے جس کے لئے ایک عدد روئی کا سرہانا مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اگر اس کے بارے میں سوچا جائے کہ کیوں نہ یہ تقسیم ختم کردی جائے اور ساری چارپائی ہی آرام دہ بنا دی جائے، تو یہ کام مشکل ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے جسمانی طور پر تو سکون مل جائے گا لیکن نفسیاتی طور پر یہ قابل قبول نہیں۔ یہ تقسیم ہماری تہذیب اور رواج کے لئے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اسی کے ذریعے اخلاق اور کردار کو جانچا جاتا ہے۔ دیکھنے سننے میں چھوٹی سی بات ہے لیکن اسی ترازو سے بڑے کام مشکل سے آسانی میں بدلے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ کام بڑا آسان ہے کہ ذرا سی جگہ تبدیل کی اور دوسرے کے دل میں گھر کر لیا یا دل سے اتر گئے۔ گویا کہ ذرا سی حرکت ہی اچھائی اور برائی کی درمیانی لکیر ثابت ہوتی ہے۔
چھوٹی چارپائی یعنی پنگھوڑی زیادہ تر بچوں کے لئے بنائی جاتی ہے۔ لیکن نوزائیدہ بچوں کے لئے بڑی چارپائی پر ہی بندوبست کر لیا جاتا ہے۔ خواتین چارپائی کے بازو سے ایک مضبوط کپڑا باندھ کر اس کا جھولا بنا لیتی ہیں۔ بچوں کو اس کپڑے کے جھولے میں ڈال کر ہاتھ یا پاؤں سے اس جھولے کو جھولا جاتا ہے۔ آئندہ آنے والی کوئی بھی نسل اس جھولے میں جھولا نہیں لے گی کیونکہ یہ رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔
عزت اور تکریم کے لئے چارپائی کو الٹا نہیں رکھا جاتا۔ قبلہ کی طرف اس کے پاؤں نہیں کیے جاتے اور اس کے علاوہ بھی چارپائی کے لئے کئی قسم کے اہتمام کیے جاتے ہیں۔ اور چارپائی سے کئی طرح کی توہمات بھی منسوب ہیں۔ جن میں خواتین کا اس کی ادوان کو کھینچ کر باندھنا، رات کو ادوان کھینچنا، اور چارپائی کو خاص مواقع کے مطابق خاص پوزیشن میں رکھنا وغیرہ زیادہ مقبول ہیں۔
کسی بھی تہذیب میں استعمال ہونے والی اشیا کو لوک گیتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پنجابی زبان کے کئی گیت ہیں جن میں چارپائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دور خواہ جیسا بھی آ جائے کم از کم پاکستان میں چارپائی کا رواج کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔

