سیما حیدر اور فیمنزم کے حوالے سے کچھ سوالات



سیما حیدر کا تعلق سندھ سے ہے۔ وہ ایک شادی شدہ عورت ہے کو اپنے چار بچوں کے ساتھ سرحد پار بھارت جا کر اپنے پریمی سچن سے جاکر ملی ہے۔ سیما کے اس عمل کو بہت سارے لوگ سراہ رہے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس بات کے خلاف ہیں کہ سیما کو ایسی بے وقوفانہ حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

اب محبت اور فیمنزم کے حوالے سے بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن سوالات کے جواب کے لئے بہت سارے لوگ منتظر ہیں۔ کیوں کہ بعض لوگ اسے سماج پر پڑنے والے منفی اثرات کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ مرزا غالب نے لکھا تھا کہ کہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کا۔ حقیقت میں محبت کس چیز کا نام ہے؟ آخر یہ کوں سی بلا ہے؟ سیما حیدر ایک شادی شدہ عورت جس نے چار بچوں کے مستقبل کی پرواہ کیے بغیر پڑوسی ملک ہندستان کی سرحد پار کر لی۔

سوال یہ ہے کہ آخر عورت ایسا قدم کیوں اٹھاتی ہے؟ اس کا نفسیاتی جائزہ لینا ضروری ہے، ہمارے سماج میں صرف قدامت پسند لوگ نہیں ہیں، لبرل لوگ بھی ہیں، اور بہت سے فیمینسٹ خواتین و حضرات بھی ہیں جو سیما کے اس عمل کو فیمینسٹ نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ آخر سیما کے اس عمل کو لوگ فیمنزم کے نظریے سے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ ایک شادی شدہ عورت جو چار بچوں کی ماں ہے، جس کا شوہر سعودی عرب میں بیٹھا ہے جو بچوں کے اخراجات پورے کرتا ہو، جو باہر رہتا تھا وہ سندھ میں رہنے والی سیما پر کیسے تشدد کرتا تھا، جو ساتھ رہتا نہیں تھا، وہ ظلم کیسے کرتا تھا؟

اور بچے بھی پاکستان میں خوش تھے۔ سیما کو دیکھ کر یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سیما خوش تھی۔ گھر سے بھاگ کر جانا یا شوہر سے علیحدگی اس عورت کو لینی چاہیے جو تشدد کا شکار ہو۔ مگر سیما کے عمل کو ہم فیمنزم کی نظر سے نہیں دیکھ سکتے۔ سیما کے اس عمل سے ایک خاندان اور سماج پر کیا اثرات پڑیں گے، اس کے بارے میں لوگ سوچے بغیر سیما کے اس عمل کی تعریف کیوں کر رہے ہیں؟ آخر مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ جو لوگ خواتین کے لئے کچھ نہیں کرتے، نہ کبھی کسی عورت کو انصاف دلایا ہو، یا کسی عورت کی بغیر کسی لالچ کے مدد کی ہو۔

وہ لوگ بھی سیما کے معاملے میں فیمنسٹ بن گئے ہیں۔ جب کہ ہمارے اپنے گھروں میں خواتین پر تشدد ہوتا ہے، تو ہم چپ رہتے ہیں مگر ہم تب تک آواز نہیں اٹھاتے جب تک وہ ظلم برداشت کرتے کرتے گھٹ کے مر جاتی ہے۔ پھر ہمارے پاس افسوس کرنے کہ سوا کچھ نہیں رہتا۔ ہمارا کوئی کردار نہیں ہوتا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

سرحد پار محبت کی کہانی میں سیما کے شوہر حیدر کا کیا قصور ہے؟ اس کے بچوں کا کیا قصور ہے؟ صرف ایک سیما کے اس انفرادی عمل کو، اس کی محبت کو سماج لبرل اینگل سے نہیں دیکھ سکتا۔ کیوں کہ سماج میں صرف ایسے افراد نہیں رہتے، بہت سارے معاملات ایسے نہیں ہوتے۔ جیسے ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ سیما کا معاملہ ایک طرف شادی اور دوسری طرف چار بچوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ صرف پریم کہانی نہیں ہے۔ جس کو ہم فیمنزم کی نظر سے دیکھیں۔

فیمنزم کے نظر سے ہم تب دیکھتے، جب اس پر شادی شدہ زندگی میں شوہر تشدد کرتا ہو، جن خواتین پر تشدد ہو رہا ہے، وہ گھر سے بھاگ کر دوسرے ملک تو نہیں جاتیں، گھر سے نجات تو ان خواتین کو لینی چاہیے جن پر تشدد ہو رہا ہے۔ اس کو اور اس کے بچوں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ وہ تکلیف میں ہوتی۔ مگر ایسا کچھ نہیں تھا۔ حیدر سیما کو ماہانہ پیسے بھیجتا تھا، اور حیدر نے بارہ لاکھ اپنا ذاتی گھر خریدنے کے لئے بھیجے تھے، ان پیسوں سے سیما چار بچے ساتھ لے کر بھارت چلی گئی۔ وہ سیما اب نظربند ہے۔ مطلب سیما پر کوئی ذہنی اور جسمانی تشدد بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ نفسیاتی طور پر بھی بالکل تندرست تھی۔

سیما اب خود اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ میرے بچے پریشان ہیں، ان کی دیکھ بھال کے لئے کوئی نہیں ہے۔ اور اس کے بچے بھوکے ہیں۔ سچن ایک تو خود بھی غریب ہے، اور غریب علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کی ماہانہ آمدنی تیرہ ہزار روپے ہے۔ جس کے اپنے خاندان کے بھی اخراجات ہیں۔ وہ سیما اور اس کے چار بچوں کی کیا دیکھ بھال کرے گا؟ اور سیما کے اس ایک عمل میں بچوں کا کیا قصور ہے۔ جب سیما اس حالت میں ہے تو بچے کس حالت میں ہوں گے؟ انسانی حقوق کے دعویدار فیمنسٹ، سیما اور اس کے بچوں کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟

آخر یہ سارے اینگل سے سوچنے سے کیوں قاصر ہیں۔ سیما پاکستان میں مشکل حالات میں نہیں تھی۔ ماہانہ اس کا شوہر حیدر اس کو پیسے بھیجتا تھا۔ ہم ہمیشہ مرد کو ہی غلط کیوں کہتے ہیں۔ مرد بھی مظلوم ہو سکتا ہے۔ حیدر کا کیا قصور تھا، میں خود ذاتی حیثیت میں اس بات کی گواہ ہوں اور میں نے خود اس بات پر تحقیق کی ہے اور کچھ ایسے کیسز بھی دیکھے ہیں جن خواتین پر تشدد ہوتا ہے، وہ برداشت کرتی ہیں۔ جب کہ تشدد کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کرنا چاہیے، قانون بھی اس کے خلاف ہے۔

اور خواتین کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے، مگر قانون ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مگر سیما پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں ہوا، پھر بھی وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر بھارت چلی گئی۔ اب ایسے فیمنسٹ کہاں ہے جو سیما کی نظر بندی اور اس کے بچوں کی فاقہ کشی پر آواز نہیں اٹھاتے۔ کچھ ایسے حضرات بھی موجود ہیں جو کہ سیما کو شاہ لطیف کی شاعری کے اہم کردار ماروی اور سوہنی جیسے کرداروں سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ بغیر کسی تحقیق کے سیما کو لطیف کے انقلابی کردار ماروی سے مشابہت دینا چھوٹی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

جو لوگ صحافت کارڈ استعمال کرتے ہیں انہوں نے خواتین کے لئے کیا کیا ہے۔ حیدرآباد کی قرۃ العین کے قتل سے پہلے جب شوہر اس پر ظلم کرتا تھا، اس کے بچے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں مگر اس کے لئے قتل سے پہلے کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ جو خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ اپنی بچوں اور اپنی زندگی بچانے کے لئے کچھ کریں تو سمجھ میں آتا ہے۔ ایسے بہت سارے اور بھی کیسز ہیں۔ جو خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں یا تو وہ کورٹ جاتی ہیں، ایسے کوئی اپنے معصوم بچوں کو سرحد پار لے کر نہیں جاتا۔

بحیثیت ایک ہیومنسٹ اور فیمنسٹ مجھے اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ معصوم بچوں کا کیا ہو گا، جن کی ماں نظربند ہے، وہ کس حالت میں ہوں گے؟ کیا بچوں کے ساتھ اگر کچھ برا ہوا، کسی نے ہراسمینٹ کی، پھر ان کا تحفظ کون کرے گا؟ کیونکہ سیما سے ابھی تک انویسٹیگیشن ہو رہی ہے۔ جب بچوں کے سر پر ماں باپ کا ہاتھ نہیں ہوتا۔ تو بچوں کے ساتھ کوئی بھی ہراسمینٹ ہو سکتی ہے۔ پتا نہیں وہ معصوم سی جانیں کن ہاتھوں میں ہوں گی؟ تین چھوٹی لڑکیاں ہیں، ایک بیٹا ہے۔

فیمنسٹ نقطہ نظر سے دیکھنے والے اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ ان معصوم بچیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سیما نے ماروی کا کردار ادا کیا ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ عورت کو شعور دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکے اور ہم سب کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ اس کا ساتھ دیں، اور اس کو انصاف دلانے میں مدد کریں۔ اصلی فیمنزم یہی ہے، مگر سیما نا ہی کسی ظلم کے خلاف نکلی ہے اور نہ ہی سیما کے ساتھ کوئی ظلم ہوا ہے۔ کیوں کہ اس کا شوہر یہاں پر موجود نہیں تھا۔ سیما کو سندھ کی ماروی کہنے والے لوگوں نے کیا کبھی اپنے گھروں میں ظلم کا شکار ہونے والی ہزاروں ماروی جیسی کرداروں کا ساتھ دیا ہے؟

Facebook Comments HS