کیا سائنسدان مذہب سے بیزار ہو رہے ہیں؟



کیا سائنس اور مذہب ایک دوسرے سے متصادم ہیں؟ اس سوال کو سنتے ہی دماغ میں گلیلیو کی تصویر آجاتی ہے۔ ایک طرف تنہا اور بے بس سائنسدان اور دوسری طرف چرچ کے عمائدین جنہوں نے زبردستی اس سے یہ اقرار کروا کر ہی دم لیا کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ ایک وقت تھا جب دنیا کے ذہنوں پر مذہب کی اجارہ داری تھی۔ پھر سائنس کی ترقی کے ساتھ انسانوں میں سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت بڑھی اور انہوں نے ایک ایک کر کے مذہبی توہمات کو رد کرنا شروع کر دیا۔ اور آئندہ کی صدیوں میں مذہب سے وابستگی ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ سائنس کا راج قائم ہو گا۔ خاص طور پر رچرڈ ڈاکنس، لارنس کراس اور سیم ہیرس جیسی شخصیات اس نظریہ کی حمایت کر رہی ہیں۔

رچرڈ ڈاکنس اپنی شہرہ آفاق کتاب دی گاڈ ڈیلوژن میں یہ دعویٰ پیش کرتے ہیں کہ اس دور میں دنیا کے بہت کم سائنسدان خدا کے وجود کے قائل ہیں اور عمومی طور پر وہ لوگ مذہب کے نظریہ سے چمٹے رہتے ہیں جن میں ذہانت یا آئی کیو کم ہو اور ظاہر ہے کہ سائنسدان معاشرے کا ذہین طبقہ ہوتا ہے، اس لئے ان میں خدا کے وجود کے قائل لوگ بہت کم ہیں۔ لہذا رفتہ رفتہ مذہب سے وابستگی ختم ہو جائے گی۔ ایسے موضوع پر اس کتاب کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کتاب کا تیس زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور اس کی کروڑوں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس قسم کے موضوع پر بہت کم کتب کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ سائنسدانوں کا ایک اور گروہ بھی ہے۔ اور یہ وہ گروہ ہے جو کہ شروع میں اتنے مذہبی نہیں تھے مگر جوں جوں ان کی سائنسی تحقیق کا سفر آگے بڑھا ان کے مذہبی رجحانات میں اضافہ ہوتا گیا۔ مثال کے طور پر انسان کے ڈی این اے کا نقشہ تیار کرنے والے امریکی ماہر جینیات فرانسس کولنس بچپن سے ہی مذہب سے لاتعلق تھے۔ ماں باپ نے موسیقی سیکھنے کے لئے چرچ بھجوایا تو نصیحت کی کہ صرف موسیقی ہی سیکھنا۔ ان کے مذہبی وعظ کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینا۔ اور فرمانبردار بیٹے نے ایسا ہی کیا۔ یونیورسٹی میں پہنچے تو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی سائنسدان خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھ سکتا۔ لیکن چھبیس سال کی عمر میں ان کے خیالات نے پلٹا کھایا اور ان کے مذہبی رجحانات بڑھتے رہے اور جب سائنس کی دنیا میں ان کی شہرت عروج پر پہنچی تو انہوں نے ایک مسیحی مناد کا روپ دھار لیا۔

اسی طرح نظریاتی فزکس کا بڑا نام جان پولکنگ ہارن کی مثال ہے جنہوں نے باون سال کی عمر میں کیمبرج یونیورسٹی کو چھوڑ کر ایک مذہبی درسگاہ میں داخلہ لیا اور چرچ سے وابستہ ہو گئے۔ اور مذہب اور سائنس کے موضوع پر کئی کتب بھی لکھیں۔ پاکستان میں ہم نے زیادہ سائنسدان پیدا ہی نہیں کیے کہ ان کے نظریات پر تبصرہ کرنے کا جھنجٹ ہو۔ نوبل انعام کے مرحلہ تک ایک ہی سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام پہنچے اور ان کے مذہبی رجحانات سے سب واقف ہیں۔ چونکہ احمدی تھے اس لئے اسی بنا پر پاکستان میں معتوب ٹھہرے۔

اب اس بارے میں حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔ چونکہ سب سے زیادہ سائنسدان امریکہ میں کام کرتے ہیں۔ اس لئے اس پہلو سے تاریخی طور پر امریکی سائنسدانوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے 1914 میں ایک ماہر نفسیات جیمز لیوبا کو یہ خیال آیا کہ یہ تحقیق کی جائے کہ مذہب اور خدا کے بارے میں سائنسدانوں کے نظریات کیا ہیں؟ ان کی تحقیق سے یہ نتیجہ نکلا کہ بیالیس فیصد سائنسدان خدا کے وجود کے قائل ہیں اور بیالیس فیصد ہی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسا خدا موجود نہیں جو انسانوں سے کوئی تعلق رکھے۔ باقی سائنسدان اب تک فیصلہ نہیں کر پائے تھے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ کی عام آبادی کی نسبت سائنسدانوں میں خدا کے وجود کے قائل لوگوں کا تناسب کافی کم تھا۔

اس کے بعد کی دہائیوں میں سائنس کا اثر و رسوخ بہت بڑھا اور عمومی طور پر مغربی ممالک کے لوگ مذہب سے دور ہونا شروع ہوئے۔ اسی سال سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد 1996 میں سائنس کے مورخ ایڈورڈ لارسن نے اس تحقیق کو دہرایا۔ اس تحقیق کے نتیجہ میں یہ حیران کن نتائج سامنے آئے کہ 1914 اور 1996 کے درمیان امریکہ کے سائنسدانوں کے مذہبی رجحانات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔ چالیس فیصد سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور 45 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ خدا کے وجود کے قائل نہیں ہیں۔

اس کے بعد 2009 میں پیو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے ایک تحقیق کی کہ اب سائنسدانوں کے مذہبی رجحانات کیا ہیں؟ 51 فیصد سائنسدانوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ خدا یا کسی ایسی بالا ہستی کے وجود کے قائل ہیں جو کہ پوری کائنات کی روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ 33 فیصد اس بالا ہستی کے لئے خدا کا لفظ استعمال کر رہے تھے اور 18 فیصد کا یہ کہنا تھا کہ وہ خدا کے قائل تو نہیں لیکن تمام کائنات میں ایک بالا ہستی موجود ہے جو کہ پوری کائنات کے لئے ایک روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور ایسے سائنسدان جو کہ کسی بھی معنی میں خدا کے وجود کے قائل نہیں کل تعداد کا 41 فیصد تھے۔ جب مختلف طریق پر تفصیلی سوالات کیے گئے تو ان میں 17 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ خدا کے وجود کے قائل نہیں۔ گیارہ فیصد کا نظریہ تھا کہ یہ بتانا ممکن نہیں کہ خدا موجود ہے کہ نہیں اور بیس فیصد کہتے تھے کہ کسی خاص نظریہ سے وابستہ نہیں۔ دو فیصد نے ان سوالات کا جواب دینا پسند نہیں کیا۔ اور باقی سائنسدان کسی نہ کسی مذہب کے ساتھ وابستہ تھے۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ جو سائنسدان 34 سال یا اس سے کم عمر کے تھے ان میں بیالیس فیصد ایسے تھے جو کہ کہتے تھے کہ وہ خدا کے وجود کے قائل ہیں۔ اور چوبیس فیصد کائنات میں ایک بالا ہستی کے قائل تھے۔ اور ایسے سائنسدان جو کہ خدا کے وجود کا انکار کر رہے تھے کل تعداد کا 32 فیصد تھی۔ جب کہ بڑی عمر کے سائنسدانوں میں مذہب یا خدا کے تصور سے وابستہ لوگوں کا تناسب اس سے کم تھا۔

ان تینوں تحقیقات میں کیے گئے سوالات اور استعمال کیے گئے معیاروں کا فرق ضرور ہے لیکن ان تینوں کے نتیجہ میں یہ حقائق سامنے آتے ہیں۔ پہلے تو یہ کہ عام آبادی کی نسبت سائنسدانوں میں خدا کے وجود کے قائل لوگوں کا تناسب شروع سے کم رہا ہے کیونکہ امریکہ میں اب تک 83 فیصد لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور 12 فیصد کائنات میں موجود کسی بالا ہستی کے وجود کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران سائنسدانوں میں دہریت یا خدا کے وجود کا انکار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اور وہ مذہب کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں اس تناسب میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پوری دنیا سے چوٹی کے سائنسدان امریکہ کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں پر سائنسی تحقیقات کی سہولیات سب سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ یہ تحقیقات امریکہ میں کی گئیں لیکن ان میں بڑی تعداد میں ان سائنسدانوں کی تعداد بھی شامل تھی جو کہ مختلف ممالک سے نقل مکانی کر کے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔

اس کالم کے شروع میں فرانسس کولنس کا ذکر کیا گیا تھا۔ وہ اپنی ایک کتاب میں یہ دلچسپ تبصرہ کرتے ہیں کہ جب سائنس اور مذہب کے موضوع پر کوئی مکالمہ شروع ہو تو دونوں طرف سے کچھ لوگ اتنی بلند آواز میں بحث کرنے لگتے ہیں کہ اس شور میں حقائق کی آواز دب جاتی ہے۔

(پیارے الم نگار، پاکستان سے سائنس دانوں کا ذکر آیا تھا تو Nergis Mavalvala کا بھی ذکر فرما دیتے۔ محترمہ نے Astrophysics کی دنیا میں تہلکا مچا رکھا ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والی نرگس ماول والا پارسی گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں اور علانیہ Lesbian ہیں۔ ایک گزارش یہ ہے کہ 1902 میں نوبل انعام کا اجرا ہوا تھا۔ اب تک کوئی 1000 سائنس دان یہ اعزاز پا چکے ہیں۔ امن اور ادب کے نوبل انعام پر تو اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن سائنس میں یہ انعام علمی سند کا درجہ رکھتا ہے۔ کسی آئندہ تحریر میں نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کے مذہبی رجحانات کا شماریاتی جائزہ بھی لے لیجئے۔ و-مسعود)

Facebook Comments HS