راشد: چند یادیں


1928 ء کے اواخر میں جب لاہور کے مشہور نشری ادارے ”دارالاشاعت پنجاب“ سے منسلک ہوا تو اس وقت میری عمر اٹھارہ انیس برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ اس ادارے کے ایک اہم رکن سید امتیاز علی تاج تھے جن کا شمار ملک کے ممتاز ادبا میں ہوتا تھا۔ ان کی شخصیت بڑی جاذب نظر تھی، انہوں نے ڈرامہ ”انارکلی“ لکھا تھا جس کی شہرت اس کی اشاعت سے قبل ہی دور دور پھیل گئی تھی اور لوگ اس ڈرامے کے اقتباسات ان کی زبان سے سننے کے بڑے مشتاق رہا کرتے تھے۔

تاج صاحب کے احباب کا حلقہ خاصا وسیع تھا مگر ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر سید احمد شاہ بخاری پطرس تھے جو ان کے کالج کے زمانے کے رفیق اور دوست تھے۔ ایک زمانے میں ان کی جوڑی کو خاصی شہرت حاصل رہی کیونکہ وہ لاہور کی علمی و ادبی مجالس اور میلوں ٹھیلوں میں ہمیشہ ایک ساتھ دیکھے جاتے تھے۔

ایک دن بخاری صاحب تاج صاحب سے ملنے آئے تو وہ بڑے جوش میں تھے۔ کہنے لگے، ”امتیاز، آج میں نے ایک اردو رسالے میں ایک نظم پڑھی ہے جسے بلاشبہ اس صدی کی نظم کہا جاسکتا ہے، اس کا عنوان ہے ’اتفاقات‘ اس کا خالق ن ۔ م ۔ راشد ہے جو ہمارے گورنمنٹ کالج ہی کا فارغ التحصیل ہے۔“

پھر بخاری صاحب نے بتایا کہ وہ راشد سے ملنے اور اس نظم کی داد دینے اس کے مکان پر گئے تھے۔ اس وقت راشد بڑی تنگی ترشی سے گزر کرتے تھے، ان کا رہن سہن کچھ زیادہ اچھا نہ تھا۔ کرسی تلاش کرنے لگے جو موجود نہ تھی۔ بخاری صاحب نے کہا، رہنے دو۔ فرش پر جو کتابیں پڑی ہیں، میں ان کو جمع کر کے ان پر بیٹھ جاؤں گا۔ پھر وہ دیر تک راشد سے اس کی نظم پر گفتگو کرتے رہے۔ یہ 1935 ء کا واقعہ ہے۔

میں نے راشد کو کئی بار مشاعروں میں شعر پڑھتے سنا تھا لیکن ان سے شناسائی اس وقت ہوئی جب مولانا چراغ حسن حسرت بھی ”دارالاشاعت پنجاب“ کے ادارے میں شامل ہو گئے۔ حسرت صاحب پیشے کے لحاظ سے تو صحافی مگر ادب کا بڑا ارفع مذاق رکھتے تھے۔ ان کی علمی استعداد کا کچھ ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ نظم اور نثر دونوں پر استادانہ مہارت رکھتے تھے، ان کے گرد اس وقت کے ابھرتے ہوئے ادبا و شعرا اور ادب کے طالب علموں کا خاصا مجمع لگا رہتا تھا۔ ان میں اکثر راشد اور میرا جی بھی ہوتے تھے۔ حسرت صاحب کو جدید شاعری قطعاً ناپسند تھی۔ وہ کہتے تھے کہ آزاد شاعری جب قافیہ اور ردیف سے آزاد ہے تو اس میں تعقید لفظی اور اسی قسم کے دوسرے عیوب نہیں ہونے چاہیں۔ اگر نئی نظم میں ”میں نہیں سکتا بتا“ جیسا ٹکڑا ہو تو وہ سخت ناگوار گزرتا ہے۔ نثر ہو تو صاف اور رواں۔

حسرت صاحب کی وسیع القلبی دیکھیے کہ جب میرا جی نے اپنی بے قافیہ نظموں کی کاپی حسرت صاحب کو بغرض اصلاح پیش کی تو وہ انکار نہ کرسکے۔ اور کئی دن تک اس پر بڑی محنت صرف کرتے رہے۔ اس کے کئی سال بعد دلی میں جب راشد نے اپنی نظموں کے پہلے مجموعے ”ماوریٰ“ کا مسودہ حسرت صاحب کو اصلاح کے لیے دیا انہوں نے اس پر بھی غائر نظر ڈالی۔ اور اس کے زبان کے بعض اسقام کو دور کیا۔ راشد نے ”ماوریٰ“ کے دیباچے میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔

راشد نے ایام جوانی ہی میں خود کو خاکسار تحریک سے وابستہ کر لیا تھا۔ وہ کئی سال تک اس کے سرگرم رکن بنے رہے۔ ایک دفعہ گورنمنٹ کالج کی طرف سے انہیں دعوت دی گئی کہ وہ خاکسار تحریک کے بارے میں کالج کی ایک تقریب میں مقالہ پڑھیں۔ اور کالج کے طلباء کو اس تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کریں۔ راشد نے کہا میں اس تقریب میں شامل ہونے کو تیار ہوں بشرطیکہ مجھے خاکساروں کی وردی پہن کر آنے اور ہاتھ میں بیلچہ اٹھانے کی اجازت ہو۔

کالج والوں کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ چنانچہ راشد اپنی شرائط کے مطابق خاکساروں کی وردی پہن کر اور کندھے پر بیلچہ اٹھا کر کالج گئے اور خاکسار تحریک پر ایک نہایت دل چسپ اور پر از معلومات مقالہ پڑھا۔

1937 ء میں مجھے ”پھول“ اخبار کی ایڈیٹری چھوڑ کر دلی جانا پڑا۔ جہاں آل انڈیا ریڈیو کے رسالے کی ایڈیٹری مجھے سونپ دی گئی۔ اس کے کچھ دن بعد پروفیسر احمد شاہ بخاری نے، جو اب آل انڈیا ریڈیو کے ڈپٹی کنٹرولر تھے، مجھ سے کہا کہ راشد ریڈیو میں ملازم ہو گیا ہے۔ فی الحال لاہور میں ہے لیکن عنقریب اسے دلی بلوا لیا جائے گا اور خبروں کے ترجمے کے کام پر لگادیا جائے گا۔ تم ذرا اس کی دل جوئی کرتے رہنا۔

چنانچہ چند روز بعد راشد دلی آ گئے۔ اور شام کی خبروں کے بلیٹن کے مترجم بن گئے۔ میں نے خبروں کے بعد ان کے دفتر میں جاکر ان سے ملاقات کی۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ تنہا آیا ہوں اور ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوں۔

اتفاق سے ان دنوں میں گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا۔ کیونکہ بیوی طویل علالت کی وجہ سے ہسپتال میں تھی اور والدہ نے بھی اس کی تیمارداری کے لیے ہسپتال ہی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ چنانچہ میں نے کہا کہ میرے ہاں کیوں نہیں آ رہتے۔ راشد مان گئے۔ اور تقریباً اًیک ماہ میرے پاس ہی رہے اور یوں ہماری شناسائی نے رفتہ رفتہ ایک گہری دوستی کی شکل اختیار کرلی۔

ہم دن رات ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ دنیا جہان کی باتیں کرتے۔ موضوع گفتگو زیادہ تر ادب ہوتا۔ میری طرح انہیں بھی روسی لٹریچر سے بڑی دل بستگی تھی۔ میں نے دوستوفسکی، ”ٹالسٹائی“، گورکی اور چیخوف کے افسانے ترجمہ کیے تھے۔ انہوں نے الیگزنڈر کپرن کے ناول ”Yama The Pit“ کو اردو کا جامہ پہنایا تھا۔ یہ ایک بڑا طویل ناول تھا جس کا ترجمہ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے کیا تھا۔ مگر ظالم ناشر نے نہ تو ترجمے کا کوئی معاوضہ دیا تھا اور نہ کتاب پر بہ حیثیت مترجم ان کا نام ہی درج کیا تھا، اس پر اور ستم یہ کہ رسالوں اور اخباروں میں اس کتاب کے جو اشتہار چھپتے تھے، ان میں ان کا نام بڑے جلی حروف میں چھپوایا جاتا تھا۔

کبھی کبھی موضوع سخن ان کی شاعری اور میری افسانہ نویسی بھی ہوتا تھا۔ ان کی جو نظمیں میری سمجھ میں نہ آتیں وہ ان کا ایک ایک نکتہ مجھے اس طرح سمجھاتے جس طرح کوئی بچے کو سمجھاتا ہے اور اس طرح میں ان کی نظموں کے مفہوم اور ان کے نقطۂ نظر سے آگاہ ہو کر ان سے پورے طور پر لطف اندوز ہونے لگا۔

وہ میرے مختصر ناول ”جزیرہ سخنوراں“ کے بڑے مداح تھے۔ اور ہر چند میں نے ایک معصوم سی شرارت کے تحت اس ناول میں ان کا کردار ایک باغی شاعر کے طور پر استعمال کر کے اسے سخن ناشناسوں کے ہاتھوں پٹوا بھی دیا تھا۔ مگر اس کے باوجود ان کی ستائش میں کچھ فرق نہیں آیا تھا۔ بلکہ اس کے کئی سال بعد بھی انہوں نے ریڈیو پاکستان سے ”میری پسندیدہ کتاب“ کے عنوان سے ”جزیرہ سخنوراں“ کے بارے میں ایک طویل انٹرویو براڈ کاسٹ کیا گیا تھا۔

راشد تنقید کی بے پایاں صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے یورپ کے اعلیٰ پایہ کے نقادوں کو بہت غور سے پڑھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ”اردو ادب پر غالب کا اثر“، ”ظفر علی خاں کی شاعری“، ”انار کلی“، ”اختر شیرانی کے ساتھ لمحے“ کے عنوانوں سے جو مقالات لکھے تھے ان میں تنقید کا بہت اونچا معیار پیش کیا گیا تھا۔

آل انڈیا ریڈیو میں راشد کا تبادلہ جلد ہی خبروں کے محکمے سے تقریروں کے محکمے میں ہو گیا۔ اب وہ تقریروں کے نئے نئے سلسلے سوچنے لگے۔ یہ کام ان کی مرضی کے عین مطابق تھا، بڑی محنت کرتے اور سرگرم رہتے۔ جب وہ مقررین کی جستجو میں نکلتے تو رہنمائی کے لیے اکثر مجھے بھی ساتھ لے لیتے۔ کبھی تو گوہر مقصود جلد ہی مل جاتا اور کبھی اس کی تلاش میں پہروں دلی کے کونوں کھدروں کی خاک چھاننی پڑتی۔ ہمارے لیے یہ امر باعث طمانیت ہوتا تھا کہ ہم نے اس تقریب کی بدولت دلی کے بزرگ شعراء کے علاوہ ڈاکٹر ذاکر حسین (بھارت کے سابق صدر)، شمس العلماء مولوی عبدالرحمن، مرزا محمد سعید دہلوی، مولوی عبدالحق، پنڈت دتا تریہ کیفی، ڈاکٹر عابد حسین، پروفیسر مجیب، خواجہ حسن نظامی جیسے ذی علم اور برگزیدہ حضرات سے شرف نیاز حاصل کر لیا۔

اس زمانے میں خاکسار تحریک کے بانی علامہ مشرقی نے ایک پروگرام بنایا کہ قرول باغ دلی میں خاکساروں کا ایک بڑا اجتماع ہو جس میں ایک لاکھ سے زیادہ خاکسار شرکت کریں۔ راشد اس تحریک کے رکن ہی نہیں بلکہ ملتان کے ضلع کے سالار بھی تھے۔ بڑی پریڈیں کرتے اور سالاری کے فرائض محنت سے انجام دیتے تھے۔ قواعد کے اتنے پابند تھے کہ ایک مرتبہ جب ان سے کوئی بے ضابطگی ہوئی تو انہوں نے سربازار اپنے ہاتھ پاؤں بندھوا کر کوڑے کھائے۔ بڑے فخر سے کہا کرتے کہ نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے اگر سالار خود مثال پیش نہ کرے تو کام کیسے چل سکتا ہے۔ مگر اب کچھ بددل سے ہو گئے تھے۔ علامہ مشرقی نے بلوایا۔ یہ جاکر مل آئے۔ میں نے کہا اگلی دفعہ جاؤ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا۔ کہنے لگے، اب تو شاید میں بھی نہ جا سکوں۔ اس کے بعد انہوں نے تحریک میں کوئی عملی حصہ نہیں لیا۔

راشد خاصی تنگدستی کا زمانہ گزار کر دلی آئے تھے۔ ملتان میں جہاں وہ کمشنر کے دفتر میں کلرک تھے، انہیں شاید تیس یا چالیس روپے تنخواہ ملتی تھی جو دلی میں ایک دم ڈیڑھ سو ہو گئی۔ یعنی تقریباً چار پانچ گنا زیادہ۔ چنانچہ اب وہ آہستہ آہستہ آسائش کی زندگی کی طرف مائل ہونے لگے۔ پینے پلانے کی طرف سے بھی حجاب اٹھنے لگا۔ مگر جو مشاہرہ انہیں ملتا تھا اس میں کسی قسم کی فضول خرچی کی گنجائش نہ تھی۔ البتہ ذہن میں طرح طرح کے خیالی پیکر اور ہیولے ابھرنے لگے تھے جن کو شعر کے سانچے میں ڈھالنے سے خاصی تسکین ہوجاتی تھی۔ چنانچہ ”شرابی“، ”انتقام“، ”اجنبی عورت“، ”رقص“، ”خودکشی“ وغیرہ نظمیں اسی دور کی یادگار ہیں۔

”ماوریٰ“ چھپ گئی۔ چغتائی صاحب نے اس کا بہت خوبصورت گرد پوش بنایا تھا۔ کرشن چند نے دیباچہ لکھا تھا۔ جیسا کہ توقع تھی کتاب ملک میں بہت مقبول ہوئی۔ اور ہاتھوں ہاتھ بک گئی۔ کچھ رسائل و جرائد میں اس کے خلاف تنقیدیں بھی چھپیں مگر اس کی مقبولیت پر کچھ اثر نہ پڑا۔

اس دوران میں دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔ راشد کو فوج میں کمیشن مل گیا۔ اور وہ کپتان بن کر ملک سے باہر چلے گئے۔ کوئی ڈیڑھ دو سال بعد واپس آئے تو دلی میں میرے ہی پاس آ کر ٹھہرے۔ ان کی عدم موجودگی میں ”ماوریٰ“ کا دوسرا ایڈیشن چھپ گیا تھا۔ جس کی ایک جلد میں خرید لایا تھا۔ خوش خوش اس کی ورق گردانی کرنے لگے۔ اچانک ان کا چہرہ غصے سے متغیر ہو گیا۔ ناشر نے دوسرے ایڈیشن میں ان کی وہ نظمیں بھی رسائل سے لے کر شامل کردی تھیں جو انہوں نے ”ماوریٰ“ کے چھپنے کے بعد پچھلے ڈیڑھ دو سال میں کہی تھیں۔ حالانکہ انہوں نے ناشر کو اس کی سخت ممانعت کردی تھی۔ راشد شاید ان نظموں کو اپنے دوسرے مجموعے کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔

وہ اس واقعہ سے سخت پریشان ہوئے۔ رات کو نیند بھی نہ آئی۔ بس تڑپتے اور کروٹیں بدلتے رہے۔ صبح ہوئی تو وہ کسی کو کچھ بتائے بغیر وردی پہن کر گھر سے نکل گئے، تین چار دن غائب رہے۔ اس کے بعد آئے تو بڑے ہشاش بشاش، لپٹ لپٹ کر گلے ملتے اور قہقہے لگاتے رہے۔

بولے، جانتے ہو میں کہاں سے آ رہا ہوں؟ لاہور سے۔ میں اس صبح اپنے دفتر سے اجازت لے کر لاہور روانہ ہو گیا تھا۔ میں سیدھا انارکلی چوک کے تھانے میں پہنچا۔ میں نے تھانے دار سے کہا، میں فوج میں کپتان ہوں۔ میں جنگ کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا ہوا تھا، ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب ہم جنگ پر ملک سے باہر جائیں تو سرکار ہمارے پیچھے ہمارے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔ اب دیکھیے میرے ساتھ میرے پبلشر نے کیا کیا، اس کے بعد میں نے تھانے دار کو اس واقعہ کی تفصیل بتائی۔ اس نے کہا، صاحب آپ فکر نہ کریں، میں ابھی اس کا بندوبست کرتا ہوں۔ اس نے فوراً سپاہی بھیج کر ناشر کی دکان پر تالا ڈلوا دیا۔ اس کے ساتھ ہی جس پریس میں کتاب چھپی تھی اس کے مالک کو بھی طلب کر لیا۔

”ماوریٰ“ کا ناشر بڑا اکڑ باز تھا۔ بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ کبھی کبھی مارپیٹ تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔ مگر راشد کی اس کارروائی سے اس کی ساری اکڑ فوں نکل گئی۔ گڑگڑا کر راشد سے معافی مانگی اور کہا کہ میں پوری رائلٹی کے علاوہ ایک ہزار روپیہ اس کا ہرجانہ بھی دوں گا۔ پریس والے بے قصور تھے، انہیں معاف کر دیا گیا۔ البتہ ان کے رجسٹر سے اس امر کا انکشاف ہوا کہ پہلا ایڈیشن ایک ہزار نہیں جیسا کہ اس میں درج تھا بلکہ دو ہزار جلدوں کا چھاپا گیا تھا۔ چنانچہ ناشر کو ایک ہزار کی مزید رائلٹی ادا کرنی پڑی۔

راشد مزاجاً سخت گیر تھے۔ کسی سے انہیں تکلیف پہنچے تو اسے آسانی سے معاف نہیں کرتے تھے۔ اپنے خلاف بے جا یا معاندانہ تنقید کی چبھن انہیں عمر بھر رہتی تھی۔ ہمارے معاصرین میں ایک افسانہ نگار تھے۔ حیات اللہ انصاری، انہوں نے راشد کی شاعری پر ایک تنقیدی مقالہ لکھا اور دلی کی ایک ادبی مجلس میں پڑھا جس میں میں بھی موجود تھا۔ تنقید شروع سے آخر تک ترقی پسند مصنفین کا نقطہ نظر لیے ہوئے تھی، کہیں کہیں راشد کی تعریف بھی کی گئی تھی۔ مقالہ بہ حیثیت مجموعی راشد کے زیادہ خلاف نہیں تھا۔ میں نے راشد سے اس کا ذکر کیا تو بڑے جزبز ہوئے اور بغیر مقالہ پڑھے اسی وقت حیات اللہ انصاری کے نام ایک سخت سا خط اور وہ بھی انگریزی میں لکھ ڈالا۔ انصاری صاحب کو یہ خط پڑھ کر یقیناً غصہ آیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے مقالے سے تمام تعریفی جملے تو حذف کر دیے اور اس میں بہت سے اعتراضات شامل کر کے اسے کتابی صورت میں شائع کر دیا۔ نام تھا ”ن۔ م۔ راشد پر“ ۔

راشد کو اپنی اس بے صبری اور جلد بازی کی عادت کی ایک دفعہ اور بھی سخت سزا بھگتنی پڑی تھی۔ راشد کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ انہیں فوج میں کمیشن مل گیا ہے اور اب صرف چند ابتدائی کارروائیاں باقی رہ گئی ہیں، مثلاً جسمانی معائنہ وغیرہ۔ تو وہ خود ہی فوج کے دفتر میں پہنچ گئے کہ میرا معائنہ کر لیجیے۔ شام کو جب واپس آئے تو ان کی بری حالت تھی۔ ان کے جسم پر جگہ جگہ چوٹیں آئی تھیں، گھٹنے زخمی تھے اور منہ سوجا ہوا۔ سارا جسم اکڑ گیا تھا، چلنا پھرنا دوبھر تھا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر مجھے ملال بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی۔ کہنے لگے بھائی یہ امتحان تو پل صراط سے گزرنے سے کم نہ تھا۔ مجھے خاردار تاروں پر سے گزرنا پڑا، خاصے اونچے اونچے درختوں پر چڑھا اور وہاں سے زمین پر چھلانگیں لگائیں۔ کبھی دوڑتا تھا، کبھی رینگتا تھا، قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اس جسمانی معائنہ کی صعوبتیں ناحق ہی اٹھائیں۔ کیونکہ انہیں تو اس معائنہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ یہ معائنہ تو صرف جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کے لیے لازمی تھا، لکھنے پڑھنے کا کام کرنے والوں کے لیے نہیں۔

جب راشد کی نظموں کا دوسرا مجموعہ ”ایران میں اجنبی“ شائع ہوا تو اس کا دیباچہ پطرس بخاری نے نہایت محبت اور خلوص سے لکھا۔ البتہ اس میں کہیں کہیں مخصوص طنزیہ رنگ میں راشد پر تنقید بھی کی تھی۔ یہ تنقید راشد کو بالکل پسند نہ آئی۔ کہنے لگے، مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو شائع کروں یا نہ کروں۔ میں نے کہا یہ سچ ہے کہ اس دیباچے میں تمہاری زیادہ مدح سرائی نہیں کی گئی، مگر یقین جانو کہ اس میں کسی بے التفاتی یا عناد کو ذرا بھی دخل نہیں۔ اگر یہ دیباچہ روایتی مدحیہ انداز میں ہوتا تو پھر بخاری صاحب میں اور دوسرے لکھنے والوں میں فرق ہی کیا رہ جاتا۔ مگر میں راشد کو مطمئن نہ کر سکا۔

(بائیں طرف سے) راشد صاحب اپنی اہلیہ شیلا اور احباب کے ہمراہ

راشد خط لکھنے اور خط کا جواب دینے میں بڑے مستعد تھے۔ ہماری دوستی کی اس طویل مدت کے دوران انہوں نے مجھے بے شمار خط لکھے جو محبت، یگانگت اور خلوص سے بھرے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں ان خطوط سے ان کی بے باک طرز نگارش اور اعلیٰ انشا پردازی کا رنگ بھی بخوبی جھلکتا تھا۔ نمونے کے طور پر ان کے خطوط کے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں :

1۔ ”میں نومبر کے آخر میں ریٹائر ہو رہا ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ریٹائر ہونے کے بعد کیا کیا جائے۔ پاکستان میں آباد ہونا مشکل ہے۔ ہمارے طبقہ میں کلچر کا جو فقدان شروع سے چلا آ رہا ہے وہ مجھے راس نہیں آ سکتا۔ اگر ایران میں کوئی مفید قسم کی مشغولیت مل گئی تو شاید یہیں بس جاؤں ورنہ یورپ کے کسی ملک میں۔ ایران میں اس وقت مواقع بہت ہیں۔ تاہم اس سوسائٹی کی اخلاقی خامیوں میں دروغ گوئی جسے ان لوگوں نے ہنر کی حد تک پہنچا دیا ہے بعض دفعہ اداس کر دیتی ہے۔“

2۔ ”پطرس بخاری کے بارے میں میرے ایک انٹر ویو کا ترجمہ“ اوراق ”لاہور میں شائع ہو رہا ہے۔ جو انگریزی میں پروفیسر انور شبنم دل (پنجاب یونیورسٹی) نے نیویارک میں میرے ساتھ کیا تھا۔ یہ انٹرویو قصیدۂ مدحیہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں بخاری کی ذات اور عمل پر ایک طرح سے تنقید بھی شامل ہے۔ شاید اس کے بعض حصوں سے تمہاری عقیدت کو ٹھیس پہنچے۔ تاہم اگر تمہاری نظر سے گزرے تو اپنی رائے سے ضرور مطلع کرو۔“

3۔ ”یہاں گزشتہ پندرہ سولہ مہینوں میں سولہ سترہ نظمیں لکھی گئی ہیں۔ میں نے اپنے ذہن کو اتنا چاق و چوبند کم پایا ہے۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ بجھتے چراغ کی لو نہ ہو۔“

4۔ ”ذوالفقار بخاری صاحب کے انتقال کی خبر ملی۔ بے حد رنج ہوا۔ سب آہستہ آہستہ چلتے چلے جا رہے ہیں۔ بخاری سے رنگین تر اور متنوع تر شخصیت کا مالک کم ہی کوئی ہو گا۔ ان سے دکھ بھی پہنچے۔ لیکن وہ کبھی نشتر نہ بنے۔ کانٹے کی چبھن سے زیادہ نہ ہوئے، اور پھر انہیں اس چبھن کو دور کرنے کے بھی ہزاروں مرہم یاد تھے۔ خدا ان کی روح کو تسکین دے۔“

Facebook Comments HS