"مہوشاں”: چند تاثرات
ماریہ مہوش سے میری شناسائی اتنی پرانی نہیں بلکہ پہلا تعارف کرونا کے دوران، حلقہ ارباب ذوق کراچی کے آن لائن اجلاسوں سے ہوا۔ وہ ان اجلاسوں میں جس شوق اور جذبے سے شریک ہوتی تھیں، وہ قابل داد تھا۔ کبھی پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیتیں، کبھی اپنی سحر کن آواز میں نظمیں سناتیں اور کبھی دیگر تخلیق کاروں کی تخلیقات پر ناقدانہ گفتگو کرتیں۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے فلسفے میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ حال ہی میں ان کی نظموں کی کتاب اشاعت پذیر ہوئی ہے اور جس خلوص اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے بطور خاص مجھے بھجوائی، اس پر ، میں ان کا ممنون ہوں۔
”مہوشاں“ ماریہ مہوش کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ اس میں نظمیں، غزلیں اور اختراعات شامل ہیں۔ جس طرح دو ذائقوں کی آئس کریم کھانے والے کو امتحان میں ڈال دیتی ہے کہ وہ کس ذائقے کو کس پر فوقیت دے، بعینہ قاری مذکورہ کتاب میں اسی امتحان کا شکار ہو جاتا ہے کہ وہ نظموں کو اختراعات پر فوقیت دے یا نظموں کو ! ان کی شاعری کی خاص بات جس نے مجھے متاثر کیا وہ ان کے اظہار کا فطری پن اور کفایت لفظی ہے۔ کم سے کم لفظوں میں بڑی سے بڑی بات کہنا ان کے فن کا کمال ہے۔ بعض شاعروں کے ہاں کفایت لفظی کے باعث بات چیستان اور پہیلی بن جاتی ہے۔ ماریہ نے اپنی نظموں میں یہ کیفیت کہیں پیدا نہیں ہونے دی۔ وہ صرف ابہام اس قدر رہنے دیتی ہے کہ قاری کو سوچ کی ترغیب دے سکیں۔ انھوں نے پوری کتاب میں پیچ دار اسلوب سے قاری کو مرعوب کرنے کی کہیں بھی کوشش نہیں کی۔
ماریہ مہوش محبت کرنے والی انسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے کلام میں بھی محبت، اخلاص اور مروت کے اوصاف نمایاں ہوئے ہیں۔ اس کی شاعری کی پڑھت سے احساس ہوتا ہے کہ اس کے دل میں پیار کا گنج ہائے گراں مایہ موجود ہے جسے وہ مٹھیاں بھر بھر کر تقسیم کیے جا رہی ہے۔ عصر حاضر میں خود غرضی، لالچ اور خود نمائی کا جذبہ عروج پہ دکھائی دیتا ہے۔ استحصال کی روایت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ چھینا چھپٹی روز کا معمول بن گیا ہے۔
اخلاص، بے لوث محبت اور انسانیت سے ہمدردی، موجودہ دنیا سے مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ماریہ مہوش جیسی شخصیت کسی اور ہی زمانے کی مخلوق محسوس ہوتی ہے۔ کراچی جیسا شہر جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کی ہر لمحہ بدلتی ثقافتی صورت حال میں سے، ماریہ نے مثبت اقدار کے ورثے کو قبول کیا ہے۔ وہ امن اور محبت کی پرچارک تو ہے ہی سہی لیکن وہ صورت حال پر افسردہ بھی ہے جس نے آج کل محبت کے امکانات کو قریب قریب ختم کر دیا ہے :
تمھاری محبت سونے جیسی تھی
میرا دل بھی سنہرا کر کے بیٹھی تھی
میری رگوں میں سونے جیسا لہو دوڑتا تھا
میں سورج کی کرنوں کے ساتھ چمکتی تھی (سنہرے غم)
ماریہ مہوش کی شاعری معاملہ بندی کی فضا اور سامنے کے موضوعات سے اوپر اٹھنے کی کوشش ہے۔ اگر ماریہ اس کوشش میں ظفریاب ہوئی تو اس کے ہاں شعری مواد فراوانی سے نمودار ہو گا اور بیانہ اسلوب پر علامتی بیانیہ غالب آ جائے گا۔ یہ وہ وقت ہو گا جب اس کے دل میں موجزن محبت، نئی اور نادر تمثالوں اور جدید پیکروں میں اظہار کرنے لگے گی۔ اس کے شواہد اس کی شاعری میں جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ عموماً شاعر، شاعری کا آغاز ذات کے دکھ سے کرتے ہیں اور پھر انسانیت کے دکھ میں پناہ لیتے ہیں۔ ماریہ کی شاعری اس بات کی شاہد ہے کہ انھوں نے اپنی ذات سے زیادہ انسانیت کے دکھ کو محسوس کیا ہے۔
”یہ جو ایک دائرہ ہے
غم کا گھیرا ہے
درد کا صحرا ہے
یہ جو ایک دائرہ ہے
مجھے اس دائرے سے باہر جانا ہے
دوسرا دائرہ دیکھنا ہے
جہاں خوشی ہے، آسودگی ہے
زندگی سانس لیتی ہے ” (زندگی کا دائرہ)
ان کی نظم ”زندگی کا دائرہ“ کو رفعت اسلام صدیقی نے بھی، کتاب کے دیباچے میں سراہا ہے۔ اسی طرح ان کی نظمیں ”محبت کا خدا“ ، ”دوسرا امتحان“ ، ”لمحہ“ ، ”ناراض ہمزاد“ اور ”خراٹے لیتے خواب کے پرچم“ قاری کی توجہ بطور خاص اپنی جانب کھینچتی محسوس ہوتی ہیں۔ ماریہ کی نظموں کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ ان کی گفتگو طرح دار ہے، طبیعت وضع دار ہے اور شاعری خوش گوار ہے۔ ان کی نظمیں محبت کی نظمیں ہیں۔ ان کی نظموں کے بارے میں اگر کوئی پوچھے کہ ان میں غالب عنصر کون سا ہے تو ایک ہی جواب ہو گا ”محبت“ ۔
پھر سوال کیا جائے کہ دوسرا غالب عنصر کون سا ہو گا تو جواب آئے گا ”محبت“ اور اگر پھر سے سوال کیا جائے کہ تیسرا اہم عنصر کیا ہے تو پھر بھی جواب آئے گا ”محبت“ ۔ ان نظموں کو یوں سمجھیں کہ آگ پہ کاڑھا ہوا دودھ ہیں، جس میں ذائقے اور رنگت کے ساتھ ساتھ تاثیر بھی بے بدل ہوتی ہے۔ قارئین آپ بھی اس کے ذائقے کو محسوس کیجئے :
تیرتے خواب
میرے تیرتے سپنے
ہوا کے دوش پر اڑتے جا رہے ہیں
میں ان سپنوں کی
ڈور پکڑے ہوا کی اور چلتی جاؤں ” ( تیرتے خواب)
میں چاہتی ہوں
میں تم کو وقت کے
اس لمحے میں واپس لے کر جاؤں۔
اور تم کو اپنی جگہ دوں
تاکہ تم محسوس کر سکو
اس لمحے کو ” ( وقت کا دائرہ)
”دو کپ کافی
تم
میں
اور
بہت سا وقت ” ( کافی اور وقت)
”مہوشاں“ کی شاعری دل سے نکل کر دل میں اترنے والی شاعری ہے۔ معنیاتی سطح پر یہ کثیر الجہتی کے وسیع امکانات کی حامل پر فکر شاعری ہے۔ اسلوبیاتی اور جمالیاتی زاویے سے یہ دل کو موہ لینے والی شاعری ہے۔ ماریہ مہوش کی نظموں کی زبان سادگی اور جمالیاتی لطافت کے حسن امتزاج کی شاعری ہے۔ فکری اور فنی جہات کے حوالے سے دیکھا جائے تو مذکورہ شاعری، شاعرہ کے تخلیقی جوہر کا خوب صورت نمونہ ہے۔ یہ ان کے منفرد شعری اسلوب اور تخلیقی شناخت کا استعارہ ہے۔ ماریہ نے گھسے پٹے راستوں پر چلنے کے بجائے غیر معمولی تخلیقی جوہر اور تخیل کی قابل رشک فسوں کاری سے، خون جگر سے نقش دوام تراشنے کی کوشش کی ہے۔ اس مجموعے کے انتخاب پر انھیں ڈھیروں مبارک باد اور مستقبل کے لئے نیک تمنائیں۔


