(3) چاندنی راتوں میں بنسری کی مدھر تانیں


خدا کی اس بستی کے ایک طرف بے آباد زمینوں کا وسیع و عریض سلسلہ دور دور تک سطح مرتفع کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ جب کبھی بارش تھوڑی سی زیادہ ہوجاتی۔ تو اس سطح مرتفع سے بارش کا پانی آبی رووں کی شکل میں بڈھ میں آن گرتا۔ جہاں پر یہ پانی بڈھ میں شامل ہوتا۔ وہاں سے اکثر مچھلیاں بڈھ سے نکل کر ان آبی رووں میں آ جاتیں اور پانی کے مخالف سمت میں چل پڑتیں۔ چلتے چلتے اچانک ہی یہ پانی ختم ہوجاتا۔ اور وہیں پر وہ ماہی بے آب تڑپا کرتیں۔

اس لیے جب بھی بارش ہوتی تو بستی کے اکثر باسی بڈھ کے کناروں کے نزدیک ایسی مچھلیوں کی تلاش میں نکل پڑتے اور اگر بارش زیادہ ہوجاتی تو بستی کے ہر گھر کی ہنڈیا میں یہ بھولی بھٹکی مچھلیاں پکائی جاتیں۔ اس سطح مرتفع پر جھنڈ کر ہر پہاڑی کیکر اور دوسری چھوٹی موٹی بہت سی جڑی بوٹیاں اگی ہوئی ہوتیں۔ بارش کے بعد کھمبیاں وافر مقدار میں نکلتیں جو بڑی رغبت سے سالن کر کھائی جاتیں۔ یہیں پر ایک جڑی بوٹی سے گاؤں کے لوگ صابن تیار کر لیا کرتے۔

جو کپڑے وغیرہ دھونے کے کام آتا اس جھاڑ جھنکار میں گیدڑ گوہ، سہہ، نیولا، سانڈا اور بھیڑے جیسے جانور بکثرت موجود ہوتے۔ بھیڑے راتوں کو بستی میں داخل ہو کر گھروں میں موجود بھیڑ بکریوں کو اپنی خوراک کا جزو بنانے کی کوشش کرتے۔ کبھی کبھار وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتے۔ لیکن اکثر و بیشتر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ رات کو گیدڑوں کے غول کے غول تمہاری بستی کو چاروں طرف سے گھیر لیتے اور بلند آواز میں وہ چیخم دھاڑ کرتے کہ خدا کہ پناہ اندھیری راتوں میں یہ شور و غوغا زیادہ ہوتاگیڈروں کی ان آوازوں میں ایک دو آوازیں ایسی بھی ہوتیں۔ جو عام آوازوں سے قطعی مختلف ہوتیں۔ تو بابا جی وضاحت کرتے کہ یہ پھوی کی آواز ہے۔ پھوی باؤلی گیڈری کو کہا جاتا تھا۔ عام گیڈر تو انسانوں سے ڈر کر ان سے دور بھاگتے ہیں۔ لیکن پھوی لوگوں کو کاٹ کھاتی ہے۔ اور پھوی کا کاٹا ہوا شخص بھی باؤلے پن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

چاندنی راتوں کو اس لحاظ سے بھی ایک بہت بڑی نعمت تصور کیا جاتا کہ چاند کی روشنی میں جنگلی جانور بستی کا رخ کرنے سے گریز کرتے اور دوسرے یہ خوب صورت چاندنی پورے ماحول کو مسحور کن اور شاداں و فرحاں بنا دیتی۔ ٹپوں، ماہیوں اور دو دھڑوں کی سریلی اور مترجم آوازیں چہار اطراف گونجا کرتیں۔ کہیں کہیں بنسری کی سریلی تانیں جیسے وقت کی باگوں کو کھینچ کر اسے رک جانے پر مجبور کر دیتیں ایسا معلوم ہوتا کہ قدرت نے اپنے حسن و جمال کا دامن جھٹک کر یہیں پر خالی کر دیا ہو۔

سہ تازہ کاشت شدہ زمینوں کو اکثر کھود ڈالتی اور عموماً اس سے فصل کی پیداوار پر اثرات بد مرتب ہوتے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے بستی کی مسجد کے مولوی میاں بسارا سے مدد حاصل کی جاتی۔ وہ فصلوں کے اردگرد کچھ دم درود پڑھتے ہوئے ایک چکر لگا کر انہیں کڑے کے اندر محفوظ کر دیتے۔ اس غیر مرئی کڑے کو عبور کر لینا جنگلی جانوروں کے بس میں نہ ہوتا۔

جنات اور چڑیلیں نہ صرف یہاں پر عام ہی پائی جاتی تھیں۔ بلکہ کچھ لوگ تو مستقل طور پر ان کے زیر اثر تھے۔ ہفتے میں ایک آدھ دن و ہ لوگ ان کی زد میں آ کر عجیب و غریب حرکات کا مظاہرہ کرتے ان ہوائی چیزوں کے زیر اثر ایک آدمی پورے گھر کا کھانا کھا جاتا۔ جس بیل گاڑی کو اوپر اٹھانے کے لیے پانچ چھ آدمیوں کی ضرورت ہوتی۔ فرد واحد ہی اس کو با آسانی اٹھانے کا مظاہرہ سب کے سامنے کر ڈالتاکہ کسی کو کوئی شک شبہ نہ رہے۔

بعض خواتین بھی اس ہوائی مخلوق کے زیر اثر آ جاتیں۔ بلا خوف و خطر تشدد گالم گلوچ اور مارپیٹ کا نشانہ بنا ڈالتیں۔ ایسے مریضوں کے علاج کے لیے یہیں پر بابا سائیں وجود تھے۔ وہ جنات کے ساتھ ان کے زیر اثر مریض کے ذریعے باقاعدہ ڈائیلاگ کیا کرتے۔ بعض اوقات ان پر تشدد بھی کیا کرتے اور اکثر اوقات انہیں مریض سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہو جایا کرتے تھے۔ اور جاتے وقت یہ جنات دیا بجھا کر یا کسی دروازے کی کنڈی کھٹکھٹا کر اپنے جانے کی نشانی دے کر جایا کرتے۔

کسی بھی ہلکی سی آواز یا آہٹ سے تصدیق ہو جاتی کہ موصوف متاثرہ شخص کی جان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ویسے بھی ان کی رخصتی کے بعد وہ شخص خود ہی اٹھ بیٹھتا اور حیرت سے دریافت کرتا کہ میں کہاں پر ہوں اور یہ کیا ہو رہا ہے۔ بابا سائیں یہ سارے کام بغیر کسی معاوضے کے فی سبیل اللہ کیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں اس کام کا معاوضہ وصول کروں گا تو میرا دم بے اثر ہو جائے گا۔ لیکن بعد میں لوگ انہیں کسی نہ کسی شکل میں ادائیگی کر دیا کرتے تھے۔

کیونکہ بابا سائیں کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔ اس لیے ساری بستی کے لوگ مل جل کر ان دو افراد بابا سائیں اور سائیں لوکنی پر مشتمل کنبے کی کفالت خوشی خوشی کر دیا کرتے۔ وہاں بجلی کا قرب و جوار میں بھی نام و نشان تک موجود نہیں تھا اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے کوئی امکانات تھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک بجلی ایک ایسی خطرناک سہولت ہے جو لوگوں کی جان کی دشمن ہے۔ اس لیے اس کی عدم موجودگی کو ایک نعمت خیال کیا جاتا۔

برف کی دستیابی کی سہولت یہاں میسر نہیں تھی۔ بستی میں موجود واحد کھوئی کا ٹھنڈا ٹھار پانی پی کر یہاں کے باسی رب کا شکر ادا کرتے۔ ضرورت کی تقریبا تمام اشیا ان لوگوں کو گھر میں ہی میسر تھیں۔ دودھ، دہی، لسی، گھی اور مکھن اپنی بھینسوں، گائیوں اور بھیڑ بکریوں سے حاصل ہوتا۔ گندم، چاول، سبزی اور انواع و اقسام کی دالیں اپنی زمینوں میں کاشت کی جاتیں۔ سرسوں کاشت کر کے اس سے تیل اور کھل حاصل کر لیے جاتے۔ کپاس اگا کر اس کی مدد سے کھیس، دوہریں، رضائیاں اور تلائیاں حتیٰ کہ مردوں کے پہننے کے لیے کھدر کا کپڑا بھی جولاہے کے تعاون سے تیار کیا جاتا۔ صابن وہاں پر قدرتی طور پر اگنے والی ایک جڑی بوٹی سے خود تیار کر لیتے۔ وہ لوگ اکثر یہ بات کہتے ہوئے سنے جاتے کہ اگر نمک ان کی خوراک کا جزو نہ ہوتا۔ تو انہیں بازار جانے کی کبھی ضرورت نہ پڑتی۔

Facebook Comments HS

One thought on “(3) چاندنی راتوں میں بنسری کی مدھر تانیں

  • 09/08/2023 at 9:36 صبح
    Permalink

    Nice ch sab,,kia khoob tasweer kashi ki hai porany daor ki

Comments are closed.