انجمن تقریب پسنداں

ادبی تقریبات کا مقصد لوگوں کو ادب اور ادبی سرگرمیوں سے جوڑنا اور ادب کو عملی زندگی کے لئے مشعل راہ بنانا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں باقی جملہ معاملات کی طرح ادبی تقریبات بھی بے ادبی کا شکار ہو چکی ہیں۔ قومی مزاج کے عین مطابق یہ محفلیں بھی وقت مقررہ پر آغاز و اختتام کی سعادت سے محروم رہتی ہیں۔ ان کے انعقاد کا انحصار آپسی اثر و رسوخ اور ستائش باہمی کے بنا ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقی ادب کے خالق تو فطرتا انٹرو ورٹس ہوتے ہیں اور اپنے دوستوں سے بھی بچنے کی دہائیاں دیتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ بڑے اور شاہکار ادب کی تخلیق کے لئے اک بڑی تنہائی درکار ہے مگر یار لوگ قیامت کی بھیڑ میں بھی کچھ نہ کچھ لکھے جا رہے ہیں جس کی پذیرائی کے لئے تقاریب کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا کے مصداق نابغوں کو بنا تقریب ہی مقام مل جاتا ہے۔ شعرا اور ادبا اپنے نرغے میں پھنسے حاضرین و سامعین سے ناقدری عالم کا بدلہ لیتے ہیں اور خوب لیتے ہیں۔ اشفاق احمد ورک کے خیال میں کچھ تقریبات بہر ملاقات، بعض بہر مفادات اور چند بہر مکافات ہوتی ہیں۔
بہت سی محافل کے لوٹے جانے کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں۔ احباب موضوع کو خاطر میں لائے بغیر دھواں دھار تقاریر کرتے ہیں اور اپنے تئیں محفل لوٹتے ہیں۔ یہاں موضوع کی بجائے شخصیت کو دیکھ کر تحسین کا چلن ہے یعنی داد شعر کو نہیں شاعر کو ملا کرتی ہے۔ گمنام شاعر جتنا اچھا لکھ لیں گمنام ہی رہیں گے۔ ان متاثرین کے لئے مختار صدیقی کا شعر مرہم ہے،
نکطہ وروں نے ہم کو سجھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو دنیا میں گمنام رہو
راقم کے نزدیک متذکرہ محافل ان عناصر اربعہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔
1۔ منتظمین محفل: بادی النظر میں یہ احباب شدید ادب پرور ہوتے ہیں مگر در پردہ خود شاعر یا ادیب بھی ہوتے ہیں۔ ایسی تقریبات بھی دیکھی گئیں ہیں کہ سامعین ہاتھ نہ آئیں اور مجبوراً شعرا کرام کو ہی تقریب سجانا پڑی۔ ان حالات میں شرکائے محفل محض بریلی کو بانس بھیج کر رخصت ہوتے ہیں۔ لہٰذا مزید وضاحت کی ضرورت ہرگز نہ ہے۔
2۔ مہمانان اعزاز و خصوصی : وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تقریبات کے مہمانان گرامی کی تعداد بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک تقریب میں صدر محفل کے علاوہ متعدد مہمان خصوصی اور مہمان اعزاز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو ان کی تعداد سامعین سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ یہی نہیں وہ سارے کے سارے اپنے ”دیوانوں“ سے بھی لیس ہوتے ہیں۔ ان کے خصوصی علم ناک خطابات کے سلسلے دراز ہوتے ہیں البتہ چند ایک کبھی کبھی کام کی بات بھی کہہ جاتے ہیں۔
3۔ شعرا ء و ادبا : محفل میں شریک تمام شعرا لائق تحسین، نابغہ ہائے عصر، میر دوراں، بلبلان چمن، غالب زماں، ہوتے ہیں۔ انہیں ریلوں میں متشاعرین بھی الو سیدھا کر جاتے ہیں۔ اکثر کی ونڈو اور آف کا بٹن خراب ہوتا ہے۔ شاعر ایک دوسرے کو انتقاما داد دینے یا نہ دینے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ پرانے دور میں مشاعروں کے حوالے سے انڈوں اور ٹماٹروں کا بھی شہرہ ہوا کرتا تھا جو مہنگائی کے باعث آج مفقود ہیں۔
4۔ سامعین و حاضرین : تقریبات میں شامل سب سے قابل رحم اور مظلوم طبقہ حاضرین ہوتے ہیں۔ انہیں بڑی محنت اور منصوبے سے مدعو کر کے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ مسلسل تقریب میں شامل شاعروں کو سنتے ہیں بلکہ مسلسل واہ واہ، کیا کہنے اور بہت خوب کے رٹوں کو بھی دہرانے پر مجبور ہیں۔ انہیں ہر بار اک نئی کوفت اور ادبی جھٹکوں سے گزرنا ہوتا ہے البتہ بعض تقریبات کے آخر میں خو ر و نوش کا اہتمام طبع خاطر پر قدرے تلافی کا موجب ہو سکتا ہے۔ شرکا کی مزید اقسام یہ ہیں۔
داد دہندگان : باذوق و قدر دان لوگ قابل تعریف مصرعوں پر داد دیتے ہیں اور حوصلہ افزائی کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ دوسری صورت میں خوشامد درآمد کے عناصر بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ داد دے کر بہت سے کام نکالنے کے ہنر آشنا لوگ بھی تقاریب میں شامل ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ اک سرکاری افسر ( جو شاعر بھی تھے ) کے پاس سائل نے اپنا تعارف یوں کروایا، ”حضور پرسوں والے مشاعرے میں آپ کو سب زیادہ داد ناچیز نے ہی دی تھی“ ۔
داد نا دہندگان : یہ احباب بلائے اور بن بلائے بے ذوق طبقات کی نمائندگی فرماتے ہیں یا پھر ان کی شرکت کا سبب تقریب کا آخری سیشن ( کھابہ گیری ) ہوتا ہے
ادبی اصطلاح میں انہیں عزت مآب کے ساتھ تناول مآب بھی کہا جا سکتا ہے۔ شعری و ادبی ذوق سے اٹ کتے کا بیر ہوتا ہے اور اعلیٰ ترین تخلیقات پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے اور مسلسل پہلو بدلتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
اراکین ستائش باہمی : یہ تقریب میں موجود سب سے متحرک گروہ ہے اور زیادہ تر شعرا و ادبا پر مشتمل ہوتا ہے۔ انہوں نے آؤ تاؤ دیکھے سنے بغیر واہ واہ کے ڈونگرے برسانے ہوتے ہیں۔ وہ اس لئے کہ ان کی باری پر انہیں بھی انتقاما داد مل سکے۔ یہی اودھم سوشل میڈیا پر بھی مچا ہے کہ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو۔
ناقدریٔ جہاں کا رونا اپنی جگہ مگر یہاں بے جا قدری کا خوشامدانہ رجحان انہدام ادب کا موجب بن رہا ہے جس کی طرف محسن بھوپالی نے یوں اشارہ کیا ہے،
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے
احباب ستائش دیگراں : یہ لوگ تعداد میں برائے نام ہیں اور میرٹ پر داد دینے کے قائل ہوتے ہیں۔
کہنی مار گروہ : یہ گروہ حاسدانہ فطرت کے موجب شعرا کو سنتے ہوئے ایک دوسرے کو کہنیاں مار کر کلام کی خامیاں اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ اوزان، بحور، عروض اور قوافی و ردائف میں کیڑے مکوڑے نکالنا ضروری خیال کرتے ہیں۔
اس بابت صائب کا شعر قابل غور ہے
صائب دو چیز می شکند قدر شعر را
تحسین نا شناس و سکوت سخن شناس

