ندیم پراچہ صاحب کا کالم: اخبارات کا کردار
چھ اگست 2023 کو روزنامہ ڈان میں مکرمی ندم پراچہ صاحب کا ایک کالم ’Constitution and their Discontent‘ شائع ہوا۔ اس میں 1974 میں ہونے والی دوسری آئینی ترمیم کے مضمرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری آئینی ترمیم میں احمدیوں کو آئین اور قانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور اس کے بعد 1984 میں جنرل ضیاء الحق صاحب نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ احمدیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ ندیم پراچہ صاحب پاکستان کے سنجیدہ اور زیرک کالم نگاروں میں سے ایک ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے اس کالم میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ ایک عرصہ سے اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں اور اس بارے میں پہلے بھی ان کی متعدد تحریریں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
اس کالم میں انہوں نے چند تاریخی حقائق کا ذکر کرنے کے علاوہ دو بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک تو یہ ہے جب یہ ترمیم منظور کی گئی تو کسی اخبار کے اداریہ نے اس ترمیم کا تجزیہ نہیں کیا کہ اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ بلکہ اکثر اخبارات نے اس کا خیر مقدم کیا تھا اور اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا تھا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اور بعد میں بھی اخبارات اس کے مضمرات کا جائزہ لینے سے پرہیز کرتے رہے۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ 1974 اور 1984 میں جب یہ اقدامات اٹھائے گئے اس وقت پاکستان کے لبرل، معتدل اور ترقی پسند احباب نے مشکوک خاموشی کا رویہ کیوں اختیار کیا۔
یہ عاجز اس موضوع پر بہت مرتبہ اظہار خیال کر چکا ہے۔ اس کالم میں خاکسار ان سوالات کے چند تاریخی پہلوؤں کا تجزیہ پیش کرے گا۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کی جڑوں تک پہنچنا ہو گا۔ اور 1974 اور 1984 کے حالات کا تجزیہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان بننے کے فوری بعد کے زمانے کے حالات کا جائزہ لیں۔
پاکستان بننے کے فوری بعد مجلس احرار کی طرف سے احمدیوں کے خلاف تحریک شروع کر دی گئی تھی۔ ان کے مطالبات تھے کہ وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو جو کہ احمدی تھے برطرف کیا جائے۔ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اور احمدیوں کو تمام کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ بہت جلد حکمران مسلم لیگ پنجاب کے بہت سے ممبران اسمبلی اور وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ صاحب نے اپنی سیاسی مقاصد کے لئے اور خواجہ ناظم الدین صاحب کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اس شورش کی حمایت شروع کر دی۔ اور دوسری مذہبی جماعتیں بھی اس تحریک میں شامل ہو گئیں۔ یہ شورش 6 مارچ 1953 کو اپنی انتہا کو پہنچی اور لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔
اب اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ جب احمدیوں کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے تو اخبارات نے اس کا تجزیہ کرنے کی بجائے ان کی حمایت اور تعریف و توصیف کا راستہ کیوں اپنایا؟ سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ 1953 کے فسادات میں اخبارات نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ شاید واحد موقع تھا جب کہ احمدیوں کے خلاف فسادات پر ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی گئی اور اس کی کھلی کارروائی ہوئی۔ اس کارروائی کے دوران جو حقائق سامنے آئے ان کے مطابق اس وقت پانچ اخبارات تھے جو کہ احمدیوں کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ ان کے بارے میں تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے :
”اس اعتبار سے بد ترین مجرم آزاد، زمیندار، آفاق، اور مغربی پاکستان تھے۔ ان میں سے پہلا تو خالص احراری اخبار تھا۔ لیکن باقی چار تو یقیناً حکومت کا اثر قبول کر سکتے تھے کیونکہ وہ حکومت سے بڑی رقمیں وصول کر چکے تھے۔ آفاق عملاً مسٹر دولتانہ کا اخبار تھا۔ بہر کیف وہ براہ راست میر نور احمد کے اختیار اور نگرانی کے ماتحت تھا۔“
اسی رپورٹ میں یہ تفصیلات بیان ہوئی ہیں کہ اس وقت پنجاب میں دولتانہ صاحب کی حکومت نے ’تعلیم بالغاں فنڈ‘ سے بھاری رقوم ان اخبارات کو منتقل کیں اور اس غیبی مدد کے بعد ان چاروں اخبارات نے احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیزی میں بھرپور حصہ لیا۔ اور ان اخبارات میں جو مضامین شائع ہو رہے تھے، وہ بھی ان اخبارات کے نہیں لکھے ہوئے تھے بلکہ وہ بھی اس وقت کی پنجاب حکومت کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائرکٹر نور احمد صاحب تیار کروا کر ان اخبارات کو بھجوا رہے تھے اور یہ امداد یافتہ اخبارات حق الخدمت وصول کرنے کے بعد یہ مضامین شائع کر رہے تھے۔ یہ حقائق تو تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں شامل ہیں۔ لیکن اس تحقیقاتی عدالت کی گواہیاں محفوظ ہیں اور اب لمز یونیورسٹی کی ایک سائٹ پر درج کر دی گئی ہیں، ان کے مطابق جب احمدیوں کے خلاف کوئی جلسہ ہوتا تو یہ اخبارات نہ صرف ان جلسوں کی تقاریر کو شائع کرتے بلکہ اپنی طرف سے ان میں اضافہ بھی کر دیتے تاکہ اشتعال انگیزی کی آگ کو اور بھڑکایا جائے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام اخبارات اور صحافی حکومتی مدد کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھو رہے تھے۔ بلکہ بعض اخبارات کو علم تھا اور وہ اہل اقتدار کے سامنے اس بات کا اظہار بھی کر رہے تھے کہ قبلہ ایک طرف تو آپ ہمیں واعظ فرما رہے ہیں کہ ان فسادات کو ختم کرنے کے لئے کوششیں کریں اور دوسری طرف آپ خود سرکاری فنڈز سے رشوتیں دے کر یہ مہم چلا رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت حمید نظامی مرحوم کے تحت نوائے وقت ان اخبارات کی صف میں شامل نہیں تھا بلکہ ایک وفاقی وزیر سے مدیروں کی ملاقات کے دوران حمید نظامی مرحوم صاحب نے صاف کہہ دیا تھا اس شورش کو خود پنجاب حکومت رشوتیں دے کر چلا رہی ہے بلکہ جو مواد شائع ہو رہا ہے وہ بھی ڈائریکٹر تعلقات عامہ نور احمد صاحب جیسے سرکاری ملازم مہیا کر رہے ہیں۔ نور احمد صاحب اس میٹنگ میں موجود تھے انہوں نے اس الزام سے انکار نہیں کیا۔
اور ایک اور نمایاں اخبار ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ تھا۔ بلکہ اس کے ایڈیٹر خواجہ نذیر صاحب نے تحقیقاتی عدالت میں گواہ نمبر 106 کے طور پر یہ بیان دیا کہ اس شورش کے دوران 1952 کے آخر پر وہ پنجاب کے گورنر چندریگر صاحب سے ان کی ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ جماعت اسلامی کو ایمبولینس کس نے دی ہیں۔ ان کو کچھ امریکی مالی مدد مہیا کر رہے ہیں۔
اس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ ابھی نہیں چھیڑیں۔ اس پر عدالت نے دریافت کیا کہ کیا آپ ان امریکیوں کے نام بتا سکتے ہیں۔ اس پر سول اینڈ ملٹری گزٹ کے مدیر صاحب نے کہا کہ اگر میں نے عدالت میں ان کے نام بتائے تو اس سے بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ اس پر عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ یہ نام ایک کاغذ پر لکھ کر دے دیے جائیں۔ چنانچہ خواجہ نذیر صاحب نے ایک کاغذ پر یہ نام لکھ دیے۔ عدالتی کارروائی کے ریکارڈ میں لکھا ہوا ہے کہ عدالت نے یہ کاغذ تلف کر دیا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1974 کے فسادات 1953 کا تسلسل تھے۔ 1974 اور 1984 میں کوئی ایسی عدالتی تحقیقات نہیں ہوئیں جن میں اخبارات کا کردار بھی زیر تفتیش آیا ہو۔ لیکن یہ حقیقت 1953 کے فسادات پر بننے والی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں درج ہے کہ کئی اخبارات اور صحافیوں نے سرکاری فنڈز میں خرد برد ہونے والی رقوم قبول کیں اور اس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ صاحب کی منشا کے مطابق احمدیوں کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ یہ تھا اس مسئلہ کا آغاز۔ ندیم پراچہ صاحب نے اپنے کالم بعض اہم سوالات اٹھائے ہیں، ان پر آئندہ کچھ کالموں پر تبصرہ کیا جائے گا۔ لیکن ہم میں سے ہر ایک نے گزشتہ دس سال میں کئی مرتبہ احمدیوں کے خلاف برپا ہونے مختلف فسادات کے بارے میں مضامین اور کالم پڑھے ہوں گے اور ان میں سے 1953 کے فسادات کا تذکرہ بھی پڑھا ہو گا۔ لیکن آپ نے کتنی مرتبہ یہ تذکرہ پڑھا ہے کئی اخبارات نے پنجاب حکومت سے بھاری رقوم وصول کر کے اس شورش کو بھڑکانے میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔


