مہنگائی کا حل بچت، مگر کیسے؟

روز بروز مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی دو چار روز پہلے پیٹرول کی قیمتوں میں لگ بھگ بیس روپے کا اضافہ کیا گیا۔ عام ضروریات زندگی کی ہر شے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عام آدمی اس کمر توڑ مہنگائی کا مقابلہ کیسے کرے۔ سڑکوں پر آ جائے؟ لیکن سڑکوں پر آ کر وہ کس سے احتجاجی مطالبات منوائے گا۔ معیشت کا تو بھتہ بیٹھا ہوا ہے تو ایسے میں مقتدرہ کیا کر سکتے ہیں۔ وہ تو بآسانی یہ کہ کر بری الذمہ ہو جائیں گے کہ اس معاشی بدحالی کا ذمہ دار ہم نہیں ہم سے پہلے والے ہیں۔
ان مسائل کا سدباب آپ کے ہاتھوں میں ہی ہے اور وہ یہ کہ جب تک حالات ڈگر پر نہیں آتے، بڑھتی مہنگائی کا حل تلاش کریں۔ امید ہے کہ اس کا جواب آپ کے ذہن میں بھی ہو گا، یعنی بچت۔ ہم سب نے بچت بچت کی تکرار اتنے بار سن لی ہے کہ یہ لفظ اپنی معنویت ہی کھو بیٹھا ہے۔ بعض الفاظ کثرت سے بولے جانے کے سبب اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہوں اور بولنے والوں کے اذہان میں بھی ان الفاظ کا کوئی واضح مطلب نہیں ہوتا۔ بچت کرنی ہے یہ سب کے ہاں زیر بحث ہے۔
لیکن بچت کیسے کرنی ہے یہ کوئی نہیں بتاتا۔ ابھی چونکہ حال ہی میں پیٹرول مہنگا ہوا ہے تو ہم یہیں سے شروع کرتے ہیں۔ پیٹرول آج کے دور میں عام ضرورت کی شے بن چکا ہے۔ اب اس میں بچت ایسے ممکن ہے کہ آپ حضرات جو محلے کی مسجد یا چوک تک جانے کے لیے بھی موٹر سائیکل کا استعمال کر رہے ہیں، اسے ترک کر دیجیے۔ یقیناً یہ بہت آسان ہے۔ آپ کو چہل قدمی کے لیے علیحدہ سے وقت نکالنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسی میں آپ کی چہل قدمی بھی ہو جائے گی، اور ویسے کیا افتاد آن پڑا ہے کہ آپ چوک یا مسجد تک جانے کے لیے بھی بائیک نکال رہے ہیں؟
ایسے تو آپ کتنے چکر چوک کے لگاتے ہوں گے اور کتنے مسجد کے! آنے جانے کا حساب لگائیے تو اندازہ ہو کہ بلاوجہ میں کتنی فضول خرچی ہو رہی ہے۔ پیدل چلیے یا سائیکل کا استعمال کیجیے۔ کوئی عذر ہے تو بے شک گاڑی یا بائیک پر بھی جایا کا سکتا ہے لیکن بہ امر مجبوری۔ پیٹرول کے ضمن میں دوسری بچت پبلک ٹرانسپورٹ کو رواج دینا ہے۔ آفس تک جاتے ہوئے جب آپ اپنی گاڑی نکالتے ہیں اور باقی ساری سیٹیں خالی ہوتی ہیں سوائے ڈرائیور سیٹ کے، تو کتنا عجیب لگتا ہے!
یوں ہر بندہ یہ کام کرے تو گاڑیوں کا اتنا رش بن جاتا ہے کہ آپ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور اگلوں کے لیے بھی باعث تکلیف بنتے ہیں۔ پیٹرول کا خرچ بھی بڑھتا ہے اور کئی لیٹر منٹوں میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے گاڑیوں کا رش بھی کم ہو گا۔ یوں آپ کی مالی بچت بھی ہوگی اور آپ اپنے آفس وغیرہ میں وقت سے پہنچ بھی جائیں گے۔ جب پبلک ٹرانسپورٹ کو رواج دیا جائے گا تو ٹرانسپورٹ والے آپ کو مناسب قیمت پر بہتر سے بہتر سہولیات بھی دیں گے اور یہ انڈسٹری ملکی معیشت میں بھی اچھا کردار ادا کرے گی۔
تیسری بات، کہ یہ جو سودا سلف لینے کے لیے دن میں کئی کئی بار چکر لگائے جا رہے ہیں انہیں کم از کم ہفتے میں ایک دن تک محدود رکھیں۔ ہفتے میں ایک ہی بار جا کر ہفتہ بھر کا راشن لے آئیں اور بقدر ضرورت استعمال کریں۔ راشن تک ہی موقوف نہیں روزمرہ استعمال کی ہر شے کو بقدر ضرورت ہی استعمال کیا جائے۔ مثلاً بجلی مہنگی ہو گئی ہے تو آپ پنکھا یا بلب کیوں لگا چھوڑ دیتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی بس دو منٹ کے لیے ہی باہر جانا اس لیے بند نہیں کیا اور اکثر یہ دو منٹ دو گھنٹے تک چلے جاتے ہیں۔
کیونکہ باہر نہ تو پھر آپ کو وقت کا پتا چلتا ہے، اور آپ دوسرے تیسرے کاموں میں انجانے سے ایسے مصروف ہو جاتے ہیں کہ کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔ چوتھی بات اپنے اللے تللے کم کیجیے۔ آج غوث پاک کا ختم۔ آج دادی کی برسی۔ آج فلاں کا ولیمہ۔ آج فلاں کا جمنا۔ آج فلاں بچے کی برتھ ڈے، آج شادی کی اینیورسری، عموماً امیر لوگوں کے تین چار سے زیادہ بچے نہیں ہوتے۔ لیکن غریب کا ہر سال ایک بچہ آتا ہے۔ غربت میں زیادہ بچے مسائل کا گرداب ہے۔
عموماً ایسے کیسز میں میاں بیوی کے پاس خود کو ہی سنبھالنے کے پیسے نہیں ہوتے۔ لیکن وہ بچے برابر پیدا کیے جا رہے ہوتے ہیں اور پھر گلے شکوے حکومت سے کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم وطن ساتھیو! سمجھیے اس بات کو کہ بچے پہ بچہ پیدا کر کے آپ خالق کائنات کے ہاں بھی کتنے مجرم ٹھر رہے ہوتے ہیں! وہ ایسے کہ جب آپ بچوں کی لائن لگا دیتے ہیں اور آپ کے پاس ان کے لیے نہ مناسب رہائش ہے، نہ مناسب کپڑے، نہ مناسب کھانا، نہ تعلیم دلوانے کے پیسے اور نہ پرورش کے لیے وقت تو ظاہر ہے ایسی صورتحال میں ان بچوں کا مجرم بننا ناگزیر ہے، وہ تربیت نہ ہونے کے سبب چوری چکاری، ڈاکا، اغوا کاری اور ریپسٹ بھی بن سکتے ہیں۔
ان کے جرائم اور گناہوں کا سہرا یقیناً آپ کے سر ہی جائے گا۔ کیونکہ آپ محض انہیں پیدا کر کے اپنی ذمہ داری سے غافل ہو گئے اور انہیں جیسے تیسے گلیوں پر چھوڑ دیا۔ آپ سے ضرور پوچھ ہوگی اس غفلت کی۔ اس ساری مغز ماری کا لب لباب یہی ہے کہ چادر دیکھ کے پاؤں پھیلائیے۔ کھیتی دیکھ کے دانہ ڈالیے۔ دن بدن بڑھتی مہنگائی میں تو یہ میانہ روی اشد ضروری ہے!

