ٔافسانہ: بانو کاغذ اور قلم لاو
یہ ایک معمول کا دن تھا، دفتر سے واپسی پر اپنے کمرے میں پہنچا تو بھوک ستانے لگی۔ شام کے 6 بج رہے تھے، میرا کمرہ دبئی کی ایک بلند و بالا عمارت کے 35 ویں فلور پر واقع ہے کہ جہاں سے سورج غروب ہونے کا منظر پردیس میں بیٹھے دل کو کچوکے دیتا ہے۔ شام کا یہ منظر دیکھنے کے لئے میرے پاس میری تنہائی کے سوا، فیض احمد فیض صاحب کا نسخہ ہائے ء وفا، ایک عدد تیز پتی والی چائے کا کپ اور مدھم آواز میں نیرہ نور کی غزلیں ہوتی ہیں، یوں میں تقریباً روز ہی مسلسل 3 سال سے ایک مصنوعی شہر میں سورج غروب ہونے کا منظر کمرے کے جھروکوں سے دیکھتا اور من ہی من میں (مصنوعی طور پر) لطف اندوز ہوتا ہوں۔
گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک کا پریڈ کرتے ہوئے اب 7 کا ہندسہ عبور کرچکی تھیں، جیسے ہی سورج غروب ہوا مجھے یاد آیا کہ آج تو میرا روم میٹ علی بھی چھٹیاں گزار کر وطن سے واپس پردیس لوٹ رہا ہے۔ میں نے فوری چولہے پر کھانا چڑھا دیا، عبداللہ حسین کا ناول ”اداس نسلیں“ پڑھنے لگا اور علی کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ علی گزشتہ 2 سال سے میرا روم میٹ ہے اور طبیعتاً ایک انقلابی شخص ہے لیکن ستم ظریفی دیکھئے، حالات کی مجبوریوں نے اس سے اس کی کامریڈی چھین کر پیڑوں میں ملازمت کی بیڑیاں ڈال دیں اور کارپوریٹ سیکٹرز کا غلام بنا دیا، آج کل وہ دبئی میں قائم ایک انٹرنیشنل فرم میں بطور انجینئر اپنے فرائض سرانجام دے رہا اور ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہا ہے۔
اب تک تو اسے آجانا چاہیے تھا رات کے 11 بج رہے اور میں نے بھی کھانا نہیں کھایا ہوا کہ وہ آئے گا تو اکٹھے تناول فرمائیں گے۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی، یہ علی تھا، اداس و خاموش۔ جب میں نے اسے کھانے کی دعوت دی تو اس نے فی البدیہہ انکار کر دیا، مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ جب سے وہ آیا، مکمل خاموش تھا، جیسے کوئی سانحہ پیش آیا ہو۔ میرے کئی مرتبہ پوچھنے پر بھی اس نے دل کی بات نہیں بتائی، مجھے بھی لگا کہ شاید پردیس کے غم ہیں، کچھ دنوں بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گا (کہ پردیس آنے والوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے ) مگر اس بار تو عجیب ہوا۔
دن، ہفتے، مہینے گزرتے چلے گئے۔ اب اس بات کو 6 مہینے گزر چکے تھے لیکن علی کی اداسی کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، وہ ہمیشہ کسی گہری سوچ میں ہی مبتلا رہتا، نہ وہ ٹھیک سے کھاتا، نہ بات کرتا، بس کمرے کے ایک کونے میں خاموش بیٹھا ”دی کمیونسٹ مینی فیسٹو“ یا میکسم گورکی کا ناول ”ماں“ پڑھتا رہتا اور تو اور اب ہمارے چھوٹے سے کمرے کی دیواریں مارکس، اینگلز، لینن، بھگت سنگھ، چی گویرا اور کاسترو کی تصویروں سے بھر چکی تھیں جنہیں علی گھورتا رہتا، گویا وہ ان سے باتیں کرتے ہوئے سرمایہ داری نظام کی برائیاں کر رہا ہو۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے علی دوبارہ کامریڈ بن چکا ہے اور دوبارہ اس دور میں واپس چلا گیا ہے جب وہ لاہور میں کیمپس والے پل پر ”ایشیا سرخ ہو گا“ کے فلک شگاف نعرے لگایا کرتا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا علی کے ذہن میں ایک لاوا ابل رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ جائے گا، تنگ آ کر ایک دن میں علی کو اپنے ساتھ شام کے وقت گام فرسائی کے لئے لے گیا، چہل قدمی کے دوران علی کو میں نے جھنجھوڑا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے ذہن میں آخر چل کیا رہا ہے، جب سے پاکستان سے لوٹے ہو، مکمل خاموش ہو، چھٹیوں کے دوران وطن عزیز میں تمہارے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟
علی نے اداس چمکتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا جو شاید نم بھی تھیں۔ وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا، میں نے اس کو بازو سے پکڑ کر ایک مرتبہ پھر جھنجھوڑا اور دریافت کیا کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟
اب کی بار وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں قریب میں واقع ایک مصری ریسٹورنٹ میں علی کو اپنے ساتھ لے گیا جہاں مدھم آواز میں نصرت فتح علی خان کی قوالی ”اس دنیا کے غم، جانے کب ہوں گے کم“ لگی ہوئی تھی۔ علی بولا: کیا یہ غم ختم بھی ہوں گے؟ میں نے پھر دریافت کیا کہ کچھ بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے، تو اس مسئلے کا حل بھی نکال لیتے ہیں۔ علی مسکرایا: حل تو صرف انقلاب ہے۔
اس مرتبہ پاکستان چھٹیوں پر گیا تو وہاں ایک انہونی پیش آئی۔ ہمارے گھر کے ساتھ والے گھر میں ایک ماں جی اپنی بیٹی بانو کے ہمراہ گزشتہ 20 سال سے ایام زندگی بسر کر رہی ہیں۔ پتا چلا کہ بانو کسی کو پسند کرتی تھی، لڑکا بھی یہی دعویٰ کرتا کہ وہ بھی بانو کو بے حد پسند کرتا اور اس کے لئے جان تک دینے کو تیار تھا۔ اب شادی کرنے کی باری آئی تو دونوں کے گھر والوں نے بخوشی بات پکی کردی، منگنی بھی ہو گئی، شادی کے دن قریب آنے لگے کہ جون کی ایک شام فون کی گھنٹی بجی، بانو نے فون اٹھایا تو لائن کی دوسری جانب اس کا محبوب تھا، فوری بولا: بانو ایک کاغذ اور ایک قلم پکڑو۔
لیکن ہوا کیا ہے؟
پہلے کاغذ اور قلم لاؤ پھر بتاتا ہوں۔
5 منٹ کی کال کے بعد بانو اپنی ماں کے گلے لگ کر زار و قطار رونے لگی، ماں تم تو کہتی تھی کہ محبت جیسی قیمتی شے ہی اس دنیا میں کوئی نہیں، محبت کو کوئی نہیں خرید سکتا، اگر کسی کو محبت ہو جائے تو وہ دنیا کے حسین ترین لمحات جینے لگتا ہے، محبت سے بڑھ کر کوئی جذبہ نہیں۔
ہاں تو ٹھیک کہتی ہوں میں، مگر بیٹی تم رو کیوں رہی ہو؟
ماں، آج مجھے اس کا فون آیا تھا جس سے میں نے محبت کی، اور محبت بھی ایسی جیسی زلیخا نے یوسف سے کی، سسی نے پنوں سے کی، ہیر نے رانجھا سے کی، لیلیٰ نے مجنوں سے کی، سوہنی نے ماہیوال سے کی، رومیو نے جولیٹ سے کی۔ لیکن آج وہ مجھے فون کر کے کہتا ہے کہ قلم اور کاغذ لاؤ، میں سر خم تسلیم کرتے ہوئے فوری قلم اور کاغذ اپنے ہاتھ میں لیتی ہوں، وہ مجھ سے کہتا ہے کہ جہیز کی لسٹ تیار کرو، ماں آج اس نے ہماری محبت کی قیمت ایک لسٹ لگائی ہے، ایک لسٹ اور تم کہتی ہو کہ محبت کو کوئی خرید نہیں سکتا۔
بیٹی، بات صرف اتنی ہے کہ ہم مادی دنیا، پیسوں کی دوڑ میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ محبت جیسے عظیم ترین جذبے اور رشتے میں بھی زر کو لے آئے ہیں اور اسی کے غلام ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ محبت جیسا کوئی جذبہ نہیں ہے البتہ یہ ہم ہیں جو آستینوں پر بیٹھے ایک دوسرے کو دھوکے دینے میں مصروف ہیں۔ دل اس سے لگاؤ جو تمہارے دل کو سنبھالنا جانتا ہو، یہ محبت ہے ہی دل کا رشتہ اس میں اپنی عقل کو نہ لاؤ، دو محبت کرنے والے دل ہی اصل میں انسان کہلانے کے لائق ہیں، اس میں قصور محبت کا نہیں، ان لوگوں کا ہے جو محبت کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں اور اس میں بھی اپنے مفاد کو لے آتے ہیں، جب دل ہی یار کو دینا ہے تو پھر دلوں کو فیصلہ کرنے دو۔
علی مجھے یہ کہانی سناتے ہوئے 1 منٹ کے لئے خاموش ہو گیا تو پھر میں نے فوری پوچھا، آگے کیا ہوا؟ بانو کا کیا بنا؟
وہی جو ہمارے پدرسری، تنگ نظر، سرمایہ دار معاشرے میں ہر تیسری لڑکی کے ساتھ بنتا ہے، بانو سرکاری اسکول میں ٹیچر ہے۔ کہاں سے 50 چیزوں کی طویل فہرست کا جہیز اکٹھا کرتی، جہیز سے انکار کیا تو دوسری طرف کے فرعونوں نے رشتہ کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ اس مرتبہ بانو سے ملاقات ہوئی، کہتی تھی کہ چھوٹے، محبت ہوئی تو زر و لالچ درمیان میں آ گیا، پھر نہ محبت ہوئی، نہ شادی کرنے کا دل کیا کہ ہم لوگ شادی نہیں، سودا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو بیوقوف بنایا ہوا۔ بانو کی عمر 45 سال ہو گئی ہے اور وہ جہیز کے ڈر سے شادی نہیں کر پا رہی۔
یہ کہتے ہوئے علی آبدیدہ ہو گیا اور مجھے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہنے لگا کیا ہم بیٹیوں کو شادی کے نام پر بیچ رہے ہیں؟ کیا ہم محبت کے نام پر زندگیوں کے سودے کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے اس عظیم رشتے میں بھی خرید و فروخت کا بازار گرم کر دیا ہے؟ علی پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا، کیا تم اتنے بے حس ہو، تمہارے ضمیر نے کبھی ملامت نہیں کی؟ کیا ہم اتنے بے حس ہیں کہ آج سے قبل ہم نے جہیز نامی لعنت پر بات نہیں کی؟
یہ سن کر میں بھی حیرت کے سمندر میں ڈوب گیا، ہمارے درمیان ایک طویل خاموشی رہی، شاید میری طرح علی کے دماغ میں بھی ایک ہی بات تھی ”اس دنیا کے غم، جانے کب ہوں گے کم“


