دہشت گردی میں اضافہ: نہ جانے آج یہاں کون مارا جائے گا


حال ہی میں باجوڑ کے صدر مقام خار میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں دہشت گردی کا المناک واقعہ پیش آیا۔ جس میں دو مقامی رہنماؤں سمیت 55 افراد شہید جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں مسلسل دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 145 پولیس اہلکار دہشت گردی کا شکار جبکہ 227 زخمی ہوئے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آس سال کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال دہشت گردی کے 151 واقعات میں 293 اور آس سال کے پہلے چھ ماہ میں 271 واقعات میں 390 افراد جاں بحق ہوئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق جون 2022 ء سے اس سال جون کے مہینے تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 660 واقعات ہوئے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی آج کل کی بات نہیں بلکہ یہ تین دہائیوں سے ہے۔ نائن الیون کے بعد 90 ہزار افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ اس دوران دینی و سیاسی اجتماعات، نماز جمعہ اور عام نمازیوں، پولیس لائنز مسلح افواج کے بھرتی وٹرینگ سنٹرز کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

دہشت گردی کے کئی رنگ و روپ ہیں۔ ان کی درست تشخیص اور پھر ایک جامع، ہمہ جہت اور دیرپا پالیسی کی ضرورت ہے جس سے اس عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

1۔ یہ دہشت گردی وہ ہے جس کا تذکرہ ہمہ گیر ہے۔ اسے انتہاپسندانہ مذہبی نقطہ نظر سے منسلک کیا جاتا ہے مثلاً طاقت کے زور پر اپنے نظریات دوسروں پر ٹھونسنا۔ اس دہشت گردی سے منسلک ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، جنداللہ، لشکر جھنگوی ہیں۔ مگر دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ صیہونیت، نیوکان یا عیسائی اور بھارت کی آر ایس ایس کی مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مغرب میں ذکر تک نہیں کیا جاتا۔

2۔ سیکولر اور آزاد خیال انتہاپسندی، جس میں آزادی اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب کی جلیل القدر ہستیوں کی شان میں گستاخی کر کے انتشار پھیلایا جاتا ہے ’اس کا شمار بھی سیکولر دہشت گردی میں ہوتا ہے۔

3۔ بین الاقوامی دہشت گردی چند بڑی طاقتیں دوسرے ملکوں کو غیر مستحکم کرنے، وسائل پر قبضے اور مرضی و منشاء کی حکومتیں ترتیب دینے کے لئے کر رہی ہیں، یہ طاقتیں اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور انہیں مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔ دہشت گردی کی یہ صورت شام، پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور فاٹا میں ہونے والی بیرونی مداخلت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

4۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی ہے، مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کی باہمی چپقلش کے اثرات بھی پاکستان کے اندرونی حالات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

5۔ سیاسی دہشت گردی ہے کئی سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگز بھی ملک میں عدم استحکام کی ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں جرائم پیشہ منظم گروہ برسر پیکار ہیں۔ بینکوں میں ڈاکے، اغواء برائے تاوان اور دوسرے جرائم کی وارداتوں سے بھی عوام میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔ پاکستان کے عوام کو بیک وقت دہشت گردی کی ان تمام اقسام کا سامنا ہے۔ کہیں فرقے اور کہیں روپے پیسے کے لیے ان کا خون بہایا جاتا ہے۔ کہیں بڑی طاقتوں کے مفادات، تو کہیں سیاسی مفادات ان کی جان کے دشمن ہیں۔ امن دشمنوں کو جب بیرونی پشت پناہی بھی ملے اور ملکی قوانین کی موجودگی کے باوجود وہ دندناتے پھریں تو پھر یہ عالم کیوں نہ ہو:
بہ نام امن و اماں کون مارا جائے گا
نہ جانے آج یہاں کون مارا جائے گا

پاکستان اور اس کے عوام کو جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے ’اس کی وجہ ہمارے نظام حکومت کی کمزوری ہے۔ ہماری انتظامیہ و پولیس کا نظام بھی اتنا بودا ہے کہ جرائم روکنا، ان کا پتہ لگانا تو درکنار بعض اوقات جرائم کی پشت پناہی اور سرپرستی میں بھی یہ خود ملوث ہوتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بہت کم ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کو بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹا کر صرف اہم شخصیات کے ذاتی تحفظ اور پروٹوکول پر مامور کر کے عوام کو دہشت گردوں کے لئے نرم شکار کے طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر انتظامی اداروں اور پولیس کی بھرتیاں قیام امن میں رکاوٹ ہیں۔ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے ایک پیشہ ورانہ تنظیم میں ڈھالنا ضروری ہے۔

بیروزگاری کے باعث تعلیم یافتہ افراد بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے منسلک ہوتے ہیں۔ تعلیم اور صحت عامہ کے نظام کو جب تک موثر بنانے کے لئے منصوبہ بندی نہ ہوگی دہشت گردوں کو افرادی کمک میسر آتی رہے گی ترجیحی بنیادوں پر ہر علاقے میں تعلیمی ادارے، ہسپتال، ڈسپنسریاں قائم کرنا ہوں گی۔ مستقبل میں امن و امان کے قیام کے لیے اقتصادی ترقی کی جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

فوج اور اس کے ذیلی ادارے جیسے ایف سی، رینجرز، لیویز سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ، ریاست کے خلاف سرکشی اور بغاوت کرنے والے عناصر کی سرکوبی کر سکتے ہیں، مگر سیاسی، فرقہ وارانہ منظم اور غیر منظم جرائم پیشہ افراد کا محاسبہ انتظامیہ اور پولیس کو ہی کرنا پڑے گا اس کے علاوہ خفیہ پولیس اور سراغ رسانی کے نظام کو فعال اور ہمہ گیر بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح نادرا کی مدد سے موبائل سمز کی تصدیق کا عمل ہے، اسی طرز پر انتظامی اداروں کو تصدیقی ڈیوائس فراہم کر کے افراد کی نقل و حرکت کو باآسانی مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔

مختلف شہروں میں داخلے کے وقت مسافروں کی شناختی آلات کی مدد سے کمپیوٹرائزڈ تصدیق سے انتظامی اداروں اور پولیس کو فوراً یہ خبر ہو سکتی ہے کہ کس کیٹگری سے منسلک کون سا شخص اس وقت شہری حدود میں داخل ہوا ہے اور اس کو کیسے مانیٹر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہمارے ہی نظام میں موجود جو کالی بھیڑیں دہشت گردوں کی سہولت کار اور مجرمانہ کارروائیوں میں شریک ہیں انہیں بھی منظرعام پر لاکر نشان عبرت بنانا چاہیے۔ عدلیہ کے نظام کو بھی وقت کی ضرورت سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا۔ مجرموں کے مقدمات کی پیروی میں تاخیر نظام کو غیر موثر بنا رہی ہے۔ دہشت گردی فوری حل ہونے والا مسئلہ نہیں اس کے لیے فوری، قلیل مدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ قلیل مدتی منصوبہ بندی میں انتظامیہ، پولیس، انٹیلی جنس اور عدالتی نظام کو اصلاحات کے ذریعے جدید اور موثر بنانا ہو گا۔

بدقسمتی سے ہمارا نظام حکومت اتنا غیر موثر ہو چکا ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی تو درکنار ان کی بنیادی ضروریات کو سمجھنے کی بھی تکلیف گوارا نہیں کی جاتی جو عوام میں مایوسی ’نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو جنم دینے کا باعث ہے۔ حالانکہ ہمارا بہت بڑا اثاثہ جوان افرادی قوت ہے۔ 65 فیصد آبادی کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ یہ افرادی قوت تعمیری بھی ہو سکتی ہے اور تخریبی بھی، جس کے متعلق طویل المدتی پلان اور آس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام اکثریت کی خواہشات کا آئینہ دار نہیں۔ سات ملین بچے پرائمری سکول کے بجائے گلیوں اور سڑکوں پر اور تین کروڑ سے زائد سکول و کالجز نہ ہونے سے جہالت کے اندھیروں میں گم، دہشت گردوں کے لئے خام مال ہیں۔ جو خوش نصیب یونیورسٹی ڈگری لینے میں کامیاب ہو جائیں، ان کی اکثریت روزگار کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔ بعض خوش نصیب دیار غیر جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کئی نوکریاں، روزگار دستیاب نہ ہونے کے باعث نشہ کی لعنت اپنا لیتے ہیں۔

بے روزگار، مجرمانہ سرگرمیوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کا حصہ بن رہے ہیں۔ روزگار کی فراہمی کے لیے صنعتی میدان میں آگے بڑھنا ہو گا۔ ہم بجلی، گیس بحران کا شکار ہیں مگر دعوے سرمایہ کاروں کے لئے خوشگوار ماحول کے کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سرمایہ دار اپنی صنعتیں دوسرے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔ ہماری 60 فیصد آبادی زراعت سے جڑی ہے، مگر آنے والے وقت میں زراعت کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہو گا۔ ملک میں آبی ذخائر محفوظ کرنے کے لئے ہم نے ڈیم نہیں بنائے۔

بھارت نے ہمارے دریاؤں پر ڈیم بنا لئے ہیں۔ پاکستان پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کا کردار بہت اہم ہے مگر فوج اکیلے یہ کام نہیں کر سکتی، تمام ذمہ داریوں کا بوجھ اس پر ڈالنے سے فوج کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ مسئلہ کے حل میں اگر 20 فیصد کردار فوج کا ہے تو 80 فیصد ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ملک میں موثر نظام حکومت نہیں ہو گا، جس میں ہر شعبہ اپنا فعال کردار ادا کرے اس وقت تک دہشت گردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

Facebook Comments HS