جس کی لاٹھی اس کا پاکستان

پاکستان میں اداروں کا تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ یہ تصادم کبھی اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کے لیے، کبھی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر، تو کبھی ذاتی مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے وقوع پذیر ہوتے ر ہے ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبہ پنجاب کے ضلع بہاول نگر میں بھی کچھ ایسے ہی عوامل پنجاب پولیس اور پاک فوج کے درمیان ایک ناخوش

Read more

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

عقل و نطق دو ایسی قوتیں ہیں جو انسان کو حیوان سے ممتاز اور معتبر بناتی ہیں اور اس کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کر دیتی ہیں۔ عقل اور شعور کی بدولت انسان اچھائی اور برائی، صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتا ہے۔ قوت نطق کے ذریعے انسان اپنی بات دوسروں انسانوں کو سمجھا سکتا ہے اور دوسروں کی بات سمجھ سکتا ہے۔ اگر طاقت، دہشت اور وحشت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حیوانات انسانوں سے

Read more

توہین مذہب کا الزام اور خاتون کی ہراسگی

اگر پاکستان میں ماضی قریب میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لوگ اپنے ناجائز عزائم حاصل کرنے کے لیے واقعات اور حقائق کی چھان بین کیے بغیر کسی پر بھی توہین مذہب کا الزام عائد کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ گزشتہ دنوں لاہور کے اچھرہ بازار میں بھی اسی طرح کا ایک نا خوش گوار واقعہ رونما ہوا۔ ایک خاتون جس نے عربی خطاطی والی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اپنے شوہر کے ساتھ شاپنگ کی غرض سے بازار

Read more

زیادہ آبادی: زحمت یا رحمت؟

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی ملک کی ترقی میں کثرت آبادی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ اگر اس مفروضے کا بغور جائزہ لیا جائے تو حقیقت کچھ اور ہی منظر پیش کرتی ہے۔ کسی معاشرے یا ریاست کی ترقی میں افرادی قوت کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ اب یہ وہاں کی ارباب اختیار اور صاحب اقتدار قوتوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ آبادی کو اس ملک کے لیے رحمت بناتے ہیں یا زحمت۔

Read more

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

وطن عزیز میں ان دنوں اقتدار کی رسہ کشی اپنے عروج پر ہے اور اس وقت تمام سیاسی اور غیر سیاسی قوتیں اپنی جھوٹی انا کو قائم رکھنے کے لیے برسر پیکار ہیں۔ اقتدار کی ہوس اور طاقت کے حصول نے ان کو اندھا اور بہرہ کر دیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کو عوام کی حالت زار اور آہ و فغاں دکھائی اور سنائی نہیں دیتی۔ اس وقت ملک کا ہر ادارہ زوال پذیر ہے اور

Read more

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس خطے میں زراعت کی بنیاد انسان کی آباد کاری کے ساتھ ہی پڑ گئی تھی۔ جس کی بدولت یہاں پر بسنے والے افراد کی زندگیوں میں خوشحالی آنا شروع ہو گئی اور بعد ازاں برصغیر کو سونے کی چڑیا بھی کہا جانے لگا۔

اس خطے کی خوشحالی کو دیکھ کر بیرونی حملہ آوروں نے بھی یہاں کا رخ کیا اور یہاں پر بسنے والے کسانوں اور ہنرمندوں کو لوٹا اور ان کے آقا بن بیٹھے۔

Read more

شہریوں کے حقوق اور تخفظ کی ذمہ داری

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق موٹروے پر حالیہ جنسی زیادتی کے وحشت ناک واقعہ کے بعد پاکستان میں خواتین میں اپنے تحفظ کے لیے اسلحہ اور دیگر حفاظتی ہتھیار خریدنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ اسی ضمن میں جب پولیس کی ایس پی عائشہ بٹ سے پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین اور بچوں کو مارشل آرٹ اور کراٹے سکھانے چاہیے تا کہ وہ اپنی حفاظت خود کر سکیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو صحت مند رہنے کے لیے جسمانی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس کے لئے وہ مختلف قسم کی کھیلوں میں بھی حصہ لے سکتا ہے اور کراٹے بھی سیکھ سکتا ہے۔ مگر اس بات میں کس قدر صداقت ہے کہ مارشل آرٹس سیکھنے کے بعد وہ خود اپنی حفاظت کر پائے گا اور کوئی اس کو نقصان نہیں پہنچا پائے گا، یہ معلوم نہیں۔

Read more

"سب اچھا ہے” کا راگ اور حقائق

جب آنکھوں والے بھی حقیقت سے چشم پوشی کریں اور سب اچھا ہے کی رٹ لگانا شروع کر دیں تو پھر حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال موٹروے پرحالیہ اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعہ کے بعد دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے کچھ مہم جوایک کینیڈین خاتون روزی گیبرئیل جو کہ بلاگر ہیں اور پاکستان میں موٹرسائیکل پر ٹریول کرتی رہی ہیں کی تصاویراس تحریر کے ساتھ شیئر کر رہے

Read more

احساس ذمہ داری اور خاتون کے ساتھ ریپ

من حیث القوم ہمارا یہ رویہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری اور فرائض کو کماحقہ پورا نہیں کرتے اور غفلت و لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ پھر اس کا ذمہ دار دوسرے افراد کو ، حالات کو یا پھر قسمت کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی رویہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا موٹروے پر گجر پورہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

موصوف کہتے ہیں ”کہانی یہ ہے کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں۔ پہلے تو میں حیران ہوں کے تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے۔ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو، آپ سیدھا جی ٹی روڈ لو، جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر اس طرف سے (موٹروے ) سے نکلی ہوتو اپنا پیٹرول چیک کر لو، بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا “ ۔

Read more