پنجر از امرتا پریتم
یہ وہ امرتا نہیں تھی جسے میں نے امرتا کے افسانوں میں دیکھا تھا، خوبصورتی، محبت اور نسوانیت سے لبریز، یہ تو بہت ہی بے باک، نڈر اور دو ٹوک امرتا تھی جو ہاتھ میں آئینہ لئے اس میں اتنا ہی بدصورت چہرہ انسان اور انسانیت کا دکھا رہی تھی جتنا بذات خود انسان اور انسانیت کا تھا اور ہے!
پنجر میں امرتا کی لفاظی اور اس کے جملوں اور تحریر کی خوبصورتی شاید اس لئے بھی غیر حاضر ہے کہ یہ تحریر پنجابی میں لکھی گئی اور میں نے اس کا اردو ترجمہ پڑھا۔ پنجابی کی تحریر میں شاید وہی امرتا دیکھنی ہو تو اس کی پہلے صفحات پر لکھی نظم آج آکھاں وارث ثابت کا مطالعہ کر لیں وہاں آپ کو وہی سریلی امرتا نوحہ پڑھتی دکھائی دے گی
جتھے وجدی سی پھوک پیار دی اوہ ونجلی گئی گواچ
رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اس دی جاچ
تو یہ پنجر محبت کی داستان نہیں یہ تو اس خون ریزی کی داستان ہے جو انصاف اور آزادی کے نام پر کی گئی۔ ہوس نے کس طرح آزادی، مذہب اور انصاف کے نام پر ننگا رقص کیا کہ دنیا کے تمام مذاہب ہکا بکا رہ گئے۔ پنجر اپنے نام کے ساتھ پورا انصاف کرتی اس انسانیت کی داستان ہے جس کا وجود خود اس انسان کے ہاتھوں محض پنجر کا ہی ہو کر رہ گیا تھا۔
پنجر وہ آزادی کی روح بھی بن چکی ہے جس کے نام پر خون، اور عزتیں اتنی ارزاں ہو گئیں کہ گلی گلی کچلی گئیں۔
پنجر وہ قومیتیں بھی ہو چکی ہیں جو اپنی وجود کی خاطر انسان اور انسانیت نام کے دنیا کے سب سے بڑا مذہب کا خون کر رہی ہیں
پنجر آج کی نہیں کم سے کم چھہتر سال پہلے کی داستان ہے مگر جو صورت اس میں ہمارے خطے کے انسان اور انسانیت کی دکھاتی ہے وہ آج بھی اکثر سرحد کے دونوں طرف ناچتی دکھائی دیتی ہے کریہہ شکل بھی اور کہیں کہیں کوئی اچھی شکل بھی۔
پارو جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے رام چند کے سپنے دیکھتی انتقام کا شکار ہو کر رشید کے قبضے میں چلے جاتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے بھول جائیں کہ کس کردار کا کون سا مذہب ہے اور آپ کا کون سا، تب آپ کو اندازہ ہوتا ہے انسانیت کی شکل کس قدر بدصورت ہو گی جب انسان اور معاشرے، اس طرح کے پیدا ہونے لگیں۔ پھر اگر سمجھ سکیں تو مذہب کو بھی گنتی میں شامل کریں اور اندازہ لگائیں کہ ان صدیوں کے مذاہب انسانیت کی تذلیل میں انسانوں کے ہاتھوں کس طرح استعمال ہو رہے ہیں۔
طاقت اس ناول کا ایک اہم جزو ہے، جس کے پاس طاقت ہے وہ ہر سیاہ و سفید کا مالک ہے چاہے وہ پارو کا دادا ہو کہ رشید کا خاندان! مسلمانوں کی اکثریت والا حصہ ہو کہ ہندووں کا، کہانی سب کی ایک ہے، محض نام مختلف ہیں۔
بے بسی کی انتہا پر سمجھوتہ اتر آتا ہے جو پارو نے کر لیا مگر اس کے پنجر نے جو آگ سہی تھی اس سے وہ جل کر راکھ نہ ہوئی بلکہ اس کو اس نے روشنی میں ڈھال دیا۔ جو ظلم پارو کو خود پر منظور نہ تھا وہ اس کے خلاف کھڑی ہوئی اور جس قدر خستہ حال انسانیت کے پنجر میں جان ڈال سکتی تھی ڈالتی رہی۔
آخری ایک پل میں اگر جو پارو اپنے بھائی کی بات سن لیتی اور اپنے خوبصورت گمشدہ ماضی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتی تو شاید یہ پارو کے کردار کے ساتھ انصاف نہ ہوتا۔ پارو جس نے سب کچھ لٹا کر ظلم کی حدیں سہ کر اپنا حال قبول کیا تھا وہ پھر سے اس ظلم کو زندہ نہ کر سکی جس میں انسانیت دفن ہو جاتی ہے اور اس طرح ناول ایک بھرپور انجام پر ختم ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ ظلم کے پہلوان کے سامنے انسانیت کا پنجر ہمیشہ بازی لے جاتا ہے۔


