امیدوں کا قتل


عمران خان صاحب اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے لاڈلے سیاست دان ہیں۔ یوسف رضا گیلانی صاحب کو پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹ بنک اور پارلیمان کی طاقت سے وزیراعظم بنوایا۔ میاں محمد نواز شریف صاحب کو کوچہ سیاست میں جنرل ضیاءالحق اور جنرل جیلانی صاحب لے کر آئے مگر بعد میں انہوں نے بھی عوام میں اپنی جڑوں کو مضبوط کر لیا اور جب وہ آخری بار وزیراعظم بنے تو ان کے پیچھے بھی نون لیگ کی عوامی طاقت کا ہاتھ تھا۔ ویسے تو ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو بھی جنرل ایوب خان صاحب سیاست میں لائے تھے۔

لیکن عدلیہ (اور اسٹیبلشمنٹ) نے سابق دونوں وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو برخاست کرتے وقت اپیل کا حق نہیں دیا تھا جس طرح آج عمران خان کو دیا گیا ہے۔ شاید فوج اور عدلیہ کو عمران خان صاحب کی عوامی مقبولیت اور شہرت کچھ زیادہ ہی بھا گئی ہے۔ عمران خان صاحب کو ایک سے بڑھ کر ایک سہولتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ جس توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو 3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور 5 سال کے لئے الیکشن کی پابندی لگائی گئی ہے، وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے۔

عمران خان کی اس سزا کو تجزیہ کاروں نے نواز شریف کو دی گئی سزا کے ہم پلہ قرار دیا ہے مگر درحقیقت یہ سزا محض ایک دکھاوا ہے۔ عمران خان صاحب کو اگر اقتدار سے نہ ہٹایا جاتا تو وہ خود اپنی سیاسی موت مرنے جا رہا تھے۔ ”ان کے انداز کرم پہ وہ آنا دل کا۔“ عمران خان کو کچھ قوتوں نے کرسی سے اتار کر ان پر احسان کیا تھا۔ ایک سال بعد 9 مئی کے واقعات رونما ہوئے تو اب انہی قوتوں نے عمران خان کو عارضی طور پر جیل بھیج کر ان کا سیاسی مستقبل بچایا ہے۔

شاید کوئی یہ سوچے کہ عمران خان صاحب کے خلاف 290 ملین ڈالر اور فنڈ ریزنگ (اور منی لانڈرنگ) وغیرہ کے دھماکہ خیز کیسز ابھی باقی ہیں، تو یہ بھی ایک حقیقت یہ کہ اصل مقتدرہ کا دل آیا ہو تو، ”بابا، یہ پاکستان ہے“ ، یہاں شہد کو شراب اور شراب کو شہد میں بدلنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، عمران خان تو پھر ”لاڈلا“ ہے۔

جہاں تک میں سمجھتا ہوں عمران خان اگر ان پس پردہ قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں تو پھر جتنا نقصان عمران خان نے پاکستان کے جمہوری مستقبل کو پہنچایا ہے اتنا کسی دوسرے سیاسی رہنما نے نہیں پہنچایا ہے! اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فوج عمران خان کو قابو کر کے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ اگر فوج عمران خان جیسے کڑک لیڈر جس نے 22 سال تک سیاسی جدوجہد کی اور پھر بھی وہ فوج کی گود میں بیٹھ کر اقتدار میں آئے تو لاٹ کے باقی سیاسی لیڈران بھلا کس کھیت کی مولی ہو سکتے ہیں؟

اس سچائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان واقعی پاکستان اور عالمی سطح کے ایک سیاسی رہنما ہیں کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور باقی 11 جماعتوں کی اتحادی حکومت بھی الیکشن کروانے سے خوف زدہ رہی ہیں کہ عمران خان کی سزا اور پابندی سے پہلے الیکشن وقت پر ہو جاتا تو وہ ساری جماعتیں مل کر بھی پی ٹی آئی اور عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں، مگر اسی عمران خان کی وجہ سے پاکستان کو کبھی 9 مئی کا کالا دن دیکھنا پڑا اب اسی عمران خان کو عدلیہ کے حکم پر زمان پارک سے بلا مزاحمت گرفتار کر لیا گیا!

میری رائے میں ان ”سکرپٹ شدہ“ واقعات کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی قوت دو دہائیوں تک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی ہے کہ اب 20 سال میں شاید ہی کوئی ایسا دلیر اور محب وطن پولیٹیکل لیڈر آئے جو ”سول سپریمیسی“ کا زور دار نعرہ لگا سکے۔ میں خود عمران خان کا بہت بڑا فین تھا۔ قومیں نظریات اور لانگ ٹرم پالیسیوں کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں۔ عمران خان کے پاس نظریات اور پالیسیاں نہیں تھیں تو انہیں اقتدار ہی نہیں سنبھالنا چاہیے تھا کیونکہ وہ اپوزیشن لیڈر کا بہترین کردار ادا کر رہے تھے۔ لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے امیدوں پر پورا نہ اتر کر نوجوان، تعلیم یافتہ اور اہل الرائے طبقہ میں مایوسی پھیلائی، اور دوطرفہ المیہ یہ ہے کہ عمران خان کے ڈلیور نہ کر سکنے کی وجہ سے جہاں کرپشن بڑھی وہاں اداروں میں ”سٹیٹس کو“ بنیاد پرستی کی حد تک مضبوط ہو گیا۔

جو وفادار اور محب وطن پاکستانی عوام 75 سالوں سے کسی بڑے سیاسی لیڈر کے انتظار میں تھی اور جسے عمران خان کی صورت میں ایک قدآور لیڈر مل بھی گیا تھا، لیکن وہ بھی اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ریت کا ایک ڈھیر ثابت ہوا۔ عمران خان کو روایتی سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ برطانیہ کے پڑھے لکھے تھے، یورپی جمہوریت و سیاست پر ان کی گہری نظر تھی، انہیں چاہیے تھا کہ وہ پاکستان میں سادگی کو متعارف کرواتے، لمبی قومی پالیسیاں ترتیب دیتے اور حکومت و بیوروکریسی کی شاہ خرچیوں پر قاری ضرب لگاتے۔

لیکن انہوں نے بھی وہی کیا جو پہلے ”کٹھ پتلی“ سیاست دان قیام پاکستان سے لے کر اب تک کرتے چلے آ رہے تھے۔ عمران خان کی سیاست میں کامیابی اور پھر ناکامی نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں جلد کچھ بدلنے والا نہیں ہے اور قدم بقدم اور لمحہ بہ لمحہ آگے بھی وہی کچھ ہوتا رہے گا جس کا مسودہ پہلے سے تیار کیا گیا ہے۔ ”آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟“ عمران خان کے گرد حالات کا جو تانا بانا بن دیا گیا ہے وہ ہر لحظہ وقت کی نزاکت کے مطابق کھلے گا۔ اللہ تعالی نے عمران خان کو ہیرو کی حیثیت سے جس عظیم عزت سے نوازا تھا، عمران خان نے اس کو اپنی انا اور خود سری کی بھینٹ چڑھا دیا۔

جسٹس ثاقب نثار کی نظر میں عمران خان صادق اور امین تھے مگر خود ثاقب نثار کے بیٹے پر الزام آیا کہ وہ پی ٹی آئی کی ٹکٹیں فروخت کیا کرتا تھا۔ خود عمران خان کتنا صادق اور امین ہے، ان کے جیل جانے سے عوام کو اس کا اندازہ ہو ہی گیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ عمران خان پرویز الہی کو ”پنجاب کا ڈاکو“ کہتا تھا اور شیخ رشید کے بارے ان کا دعوی تھا کہ وہ ان کو اپنا ”چپڑاسی“ بھی نہیں رکھے گا۔ آپ کو یاد ہے بعد میں عمران خان نے ایک کو وزیر اعلی پنجاب اور دوسرے کو وفاقی وزیر داخلہ رکھ لیا!

مایوسی اور نا امیدی کا یہ کھیل تب تک چلتا رہے گا جب تک نظام کو بدلنے کے لئے کوئی رہنما عوام کے لئے، عوام میں سے اور عوام کے لئے نہیں اٹھتا ہے۔

Facebook Comments HS