گلوبل وارمنگ اور پاکستان
گلوبل وارمنگ کا مسئلہ آہستہ آہستہ گلوبل بوائلنگ بنتا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کو 200 ملین امریکی ڈالرز کی ضرورت ہے۔
امریکی مشن ان پاکستان اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ یعنی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے اسلام آباد میں ہونے والے دو روزہ کانفرنس میں ماہرین نے اس خطرناک صورتحال سے آگاہی دی جس میں میڈیا سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سمیت سفارتخانہ کے دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔
موسمیاتی تبدیلی ایمرجنسی اور دبئی میں ہونے والے کوپ 28 یعنی کانفرنس آف پارٹیز کے لئے پاکستان کا روڈ میپ بنانے کے نام سے اس قومی کانفرنس میں مختلف ماہرین نے ملک میں موسمیاتی تبدیلی اور اس سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا،
ماہرین کے مطابق ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سمیت شدید گرمی موسمیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ تباہی بڑھتی جائے گی۔
موسمیاتی تبدیلی سے گلوبل وارمنگ گلوبل بوائلنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور پوری دنیا میں رواں سال کی جولائی میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی۔
جنگلات کی کٹائی، شجرکاری کی کمی، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، دریا اور سیلابی راستوں کے قریب غیر قانونی آباد کاری، قدرتی وسائل سے دوری اور روایتی کارخانے اور مشینی آلات و گندگی اس کے بنیادی وجوہات ہیں۔
کانفرنس میں کوپ 28 کے لئے تجاویز لی گئی۔ ماہرین نے خطرات اور بچاؤ پر روشنی ڈالی، مختلف ماحول دوست پراجیکٹ اور نظریات پیش کیے اور حکومت سے اس پر عمل در آمد کرانے کی سفارش کی گئی تاکہ پاکستان کو مستقبل کے خطرات سے محفوظ کیا جا سکے۔



