سرکاری جامعات کامستقبل


کسی بھی ریاست کے باشندوں کے بنیادی حقوق میں یہ شامل ہے کہ ان کے بچوں کو مفت تعلیم میسر ہو۔ صحت کی سہولیات حاصل ہوں اور انصاف کی اسے فکر نہ ہو۔ جب کسی ریاست میں تمام شہریوں کو یہ سہولیات یکساں میسر ہوتی ہیں تو وہ بخوشی اپنا فرض اولیں سمجھ کر ٹیکس ادا کرتے ہیں تاکہ سہولیات کا یہ تسلسل برقرار رہے۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ریاست ہماری ماں ہے اور ماں کبھی مشکل میں اپنی اولاد کو تنہا نہیں چھوڑتی۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔

یہاں اب یہی بنیادی سہولیات کمائی کا ایک اہم اور منافع بخش ذریعہ بن چکی ہیں۔ ہمارے یہاں قومی ادارے زوال پذیر ہیں اور نجی ادارے منافع بخش کاروبار کی صورت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ اسٹیل مل تباہ ہو گئی مگر لوہے کے کئی نجی کارخانے منافع بخش کاروبار کی صورت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کھوکھلی ہو چکی لیکن نجی ائر لائنز منافع بخش ہیں۔ پولٹری کے کاروبار کو منافع بخش بنانے کے لیے، سات آٹھ گدھے ذبح کر کے خوب میڈیا پر اچھا لا گیا تاکہ لوگ بیف سے متنفر ہو کر چکن کی طرف مائل ہو سکیں کبھی خود ساختہ برڈ فلو کا شوشہ چھوڑ کر پولٹری مصنوعات کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ نجی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے ریلوے کا بھٹہ بٹھا دیا گیا۔ پی ٹی سی ایل عنقا ہو گیا اور جاز مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے، پاکستان ڈاک کے لیٹر بکسوں میں آوارہ بلیوں نے مستقل گھر بنا لیے اور ٹی سی ایس کا ہر طرف طوطی بول رہا ہے۔

ہم میں شاید قومی اداروں کے تحفظ کا کبھی احساس ہی پیدا نہیں ہو سکا۔ اسی طرح اب سرکاری جامعات کی باری ہے جن کو مختلف ہتھکنڈوں سے بدنام کر کے پرائیویٹ سیکٹر کو مستحکم کرنے کی بڑی تیزی سے کوشش کی ہو رہی ہے۔ جس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ میں پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیوں کا ایک بل بغیر کسی بحث کے آنکھیں بند کر کے منظور کر لیا گیا۔ جس کے مطابق بہت سے ممبر آف پارلیمنٹ نے اپنے ناموں پر متعدد یونیورسٹیاں منظور کروائی ہیں۔

ان چند ناموں میں سے ذوالفقار علی بھٹی ممبر آف پارلیمنٹ نے سب سے زیادہ یونیورسٹیاں منظور کروائی ہیں اور پارلیمنٹ کے فلور پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”دنیا کے جتنے بھی ایڈوانس شہر ہیں یہاں تک کہ ٹوکیو میں ایک ہزار پرائیویٹ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ جن ممبران نے یونیورسٹیوں کی منظوری لی ہے ان میں ذوالفقار علی بھٹی نے چھ یونیورسٹیاں، محترمہ طاہرہ اورنگزیب صاحبہ نے چھ ( 6 ) یونیورسٹیوں۔ ملک نواب مبشر بصیر نے تین یونیورسٹیوں کی منظوری لی۔

ڈاکٹر رامیش کمار نے تین یونیورسٹیاں منظور کرائیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے دو یونیورسٹیاں اور عالیہ کامران نے 2 یونیورسٹیاں منظور کرائیں۔ اس کے علاوہ ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ اس تعداد میں یونیورسٹیوں کی منظوری کی وجہ یہ نہیں کہ ملک میں تعلیم کو فروغ دیا جائے گا بلکہ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے جو ان کی کئی نسلوں کو کام آتا رہے گا۔

وفاق سے منظوری لینے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی کہیں بھی بنائی جا سکتی ہے اور اگر کوئی نہ بھی بنائے تو اس کا ایک منظور شدہ چارٹر کم از کم 25 کروڑ میں فروخت ہوتا ہے اور کوئی دوسرا سرمایہ کار اس کو خرید کر کہیں بھی یونیورسٹی کھڑی کر سکتا ہے۔

حالانکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یونیورسٹیوں کا قیام صرف صوبائی سطح پر ہو سکتا ہے۔ وفاق صرف ایسی یونیورسٹی کی منظور دے سکتا ہے جو مخصوص نوعیت کے سینٹرل آف ایکسیلینس ادارے ہوتے ہیں جیسے ”اٹامک ریسرچ یونیورسٹی“ یا میڈیکل ریسرچ یونیورسٹی وغیرہ مگر یہ ان سے ہٹ کر جو یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ منظور ہو رہی ہیں کہ اگر یہ وفاق کی بجائے صوبائی سطح پر منظور ہوتیں تو آئینی لحاظ سے یہ صوبائی سطح پر ہی قائم ہو سکتی ہیں۔ اس منافع بخش کاروبار کو تقویت دینے کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں کو بدنام کر کے ناکام بنایا جائے۔ حالیہ دنوں بہاولپور یونیورسٹی کا ایک معاملہ میڈیا نے خوب اچھالا

اس کی اہم وجہ میڈیا چینلز مالکان کی اپنی کئی پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ سرکاری یونیورسٹیاں توانا ہوں تاکہ مقابلے کی فضا نہ ہو۔

اور اسی دورانیہ میں یہ یونیورسٹیاں بھی منظور ہوئیں۔ یہ اسکینڈل یہ تھا کہ کہا گیا کہ وہاں کا چیف سکیورٹی افسر اعجاز شاہ منشیات کے دھندے میں ملوث ہے۔ جب کارروائی کی گئی تو اس سے محض دس گرام آئس برآمد ہوئی جب کہ اس کی برآمدگی کے شواہد ابھی پبلک نہیں ہو سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ”ننگی نہائے گی کیا، نچوڑے گی کیا“ ۔ اب وہ بیچے گا کیا اور پئے کا گیا۔ پھر اس کیس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس میں 5500 ویڈیوز بھی ضمنی طور پر شامل کر دی گئیں جو کہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس کے پاس نہیں ہیں یا کچھ تعداد میں اس کے اپنے فون تک محدود ہیں جن کا یونیورسٹی طالبات سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی اس وسیب کی کسی خاتون کی ہیں اور نہ کسی طالبہ نے کسی فورم پر ان کے متعلق کسی قسم کی کوئی شکایت درج کرائی۔

معاملہ یہ ہوا کہ پچھلے چار سال میں اس یونیورسٹی نے پورے پاکستان میں فقید المثال ترقی کی اور پورے ملک کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے ملکی مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق کئی نئے شعبہ جات قائم کیے جن کی وجہ سے یہاں کے طلبہ جو لاہور کراچی اسلام آباد جاتے تھے ان کو اپنے ہی علاقے میں معیاری تعلیم میسر آنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ کی تعداد تیرہ ہزار سے بڑھ کر پینسٹھ ہزار تک جا پہنچی۔

یاد رہے کہ اس ضمن میں میرٹ کو کسی صورت کم نہیں کیا گیا بلکہ نئے شعبہ جات کے قیام کی وجہ سے اس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ محض طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ ریگولر فیکلٹی ممبران کی تعداد 400 سے بڑھ کر 1400 ہوئی اور متعلقہ شعبہ جات کے لیے ملک بھر سے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور پوسٹ پی ایچ ڈی لوگوں کو اس کارواں میں شامل کیا گیا۔ اس سے باقی پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں کے ریونیو میں یقیناً کافی کمی آئی۔ ان حالات میں یونیورسٹی نے، اسلامک، سائنس، ادب، فنون، زراعت، منیجمنٹ اور دیگر کئی شعبہ جات میں ترقی کی۔

اسی دوران وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کا ٹینیور اختتام پذیر ہونے کے قریب پہنچا اور ان کی مزید مدتِ ملازمت کی توسیع کی امید تھی۔ ایسے میں اس معاملے کو اچھال کر ان کو مزید مدت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کی جگہ پر وائس چانسلر ڈاکٹر نوید اختر کو ذمہ داری سونپ دی گئی۔

لیکن بدقسمتی سے چند کم معیار کے یوٹیوبرز نے اپنی کمائی اور ویوز بڑھانے کے لیے معاملے کو سنسنی خیز بنا کر اتنا اچھالا کہ ایک من گھڑت چیز کو لوگ حقیقت سمجھ بیٹھے بدقسمتی سے ہم صارفیت کلچر کا حصہ ہیں اس لیے یو ٹیوبرز نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا جہان کا گند یونیورسٹی سے جوڑ کر دکھا کر خوب کمایا۔ یاد رہے کہ بہاولپور وہ علاقہ ہے جہاں لوگ نہایت روایت پسند ہیں اور اپنی اعلیٰ روایتی اقدار کی بڑی سختی سے پاسداری کرتے ہیں۔ مجھے کم و بیش ستائیس سال ہو گے ہیں میں نے اس عرصے میں لڑائی اور بے حیائی نہیں دیکھی اس علاقے میں قرآن پاک کے حافظ بہت زیاد ہیں اسی لیے یہاں تعلیم یافتہ طلبہ کی اکثریت حافظ قرآن ہے اور ان میں بچیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

اس معاملے کو اچھالنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بدنام کر کے لوگوں کو پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیوں کے شکنجے میں جکڑ کر ان سے عرق نکالا جائے اور خاص کر بچیوں کو ان سے متنفر کیا جائے چونکہ والدین بچیوں کے معاملے میں حساس ہوتے ہیں۔ اس ایشو سے بدقسمتی سے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کو حوصلہ شکنی ہوگی۔ مردوں کی بالادستی والے معاشرے کے اندر مرد کو عورت کو مزید کمزور کرنے کے لیے بہانہ چاہیے کہ خواتین کو تعلیم کے ذریعے با اختیار نہ کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی کی بچیوں کے ساتھ اسی طرح اظہار یکجہتی کی ضرورت بنتی ہے جس طرح کور کمانڈر ہاؤس لاہور سے پوری قوم نے اظہار یکجہتی کیا تھا۔

تمام سرکاری یونیورسٹیوں اور دیگر مقامی و غیر مقامی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ لازماً ہاتھوں میں شمعیں اٹھا کر ہاتھ میں ہاتھ ملا کر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی بچیوں، بچوں، والدین اور سٹاف سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچیں اور سازشی عناصر کو پیغام دیں کہ پاکستان کی بچیاں باشعور بھی ہیں اور باکردار بھی ہیں۔ ان کے خلاف یہ پروپیگنڈا بند کیا جائے ورنہ ہماری بیٹیاں اسی کش مکش میں دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گی۔ آئیے مل کر ہاتھ سے ہاتھ ملائیں اور علم دشمن عناصر کو منہ توڑ جواب دیں ورنہ آج اسلامیہ یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا ہے کل کسی اور یونیورسٹی کو بد نام کر کے سرمایہ دارانہ قوتیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

Facebook Comments HS