الاسکا میں گزرے سات دن

ابھی حال ہی میں امریکی ریاست آلاسکا جانے کا پروگرام بنا۔ آلاسکا اپنے قدرتی مناظر، پہاڑ، سمند، جھیلوں، گلیشئر اور جنگلی جانوروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ میں جس امریکی شہر میں مقیم ہوں وہاں سے تقریباً پانچ گھنٹے کی سیدھی فلائٹ اینکراج جاتی ہے جو میری پہلی منزل تھی۔ ہم جب ائرپورٹ پر اترے تو رات کے گیارہ بج رہے تھے لیکن دن کا سماں تھا کیوں کہ سورج ابھی بھی موجود تھا۔ ائرپورٹ پر اترتے ہی ٹیکسی لی جس کو اتفاقیہ طور پر ایک پاکستانی بھائی چلا رہے تھے۔
میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہاں صرف دو سو پاکستانی رہتے ہیں جس میں سے 20 کے قریب ان ہی کے خاندان کے لوگ ہیں۔ کوئی پاکستانی ریسٹورنٹ نہیں ہے۔ صرف ایک مسجد اور ایک مصلی ہے۔ اینکراج کا موسم بہت سخت ہے اور شدید سردی پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اکتوبر کے آخر تک یہ تمام سڑکیں برف سے ڈھک جاتی ہیں اور آدھے سے زیادہ شہر خالی ہو جاتا ہے۔ ان ہی باتوں کے دوران ہمارا ہوٹل آ گیا جو ائرپورٹ سے صرف دس منٹ کی دوری پر تھا۔
ہوٹل کے کمرے میں آنے کے بعد ہم سو گئے کہ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ اگلے ہی دن ہماری ایک اور چھوٹی سے فلائٹ کنگ سلمن سٹی کی تھی جو صرف 45 منٹ کی تھی۔ کنگ سلمن سٹی جانے کا مقصد نیشنل جیوگرافک کی مشہور بروکس فال تھی جہاں ریچھ ہوتے ہیں۔ بروکس فال پر ہر سال جون سے لے کر اگست کے آخر تک سلمن مچھلیاں دریا عبور کرتی ہیں۔ یہاں پر موجود بھورے ریچھ سلمن مچھلیوں کو بروکس فال پر شکار کرتے ہیں۔ ایک دن میں یہ ریچھ تقریباً چالیس سے پچاس سلمن مچھلیوں کو کھاتے ہیں۔
ان ریچھوں کو ان ہی تین مہینوں میں اپنا وزن بڑھانا ہوتا ہے کیونکہ سردیاں شروع ہوتے ہی یہ ہائبرنیشن میں چلے جاتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہ منظر دیکھنے آتے ہیں۔ ہم جب کنگ سلمن سٹی کے دو کمرے کے ائرپورٹ پر اتر کر باہر اترے تو ہمارے ہوٹل کی گاڑی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ پانچ منٹ کے فاصلے پر ہمارا کیبن تھا۔ رات وہاں گزاری اور صبح 6 بجے واٹر ٹیکسی کی بس ہمیں لینے آ گئی۔ اس بس کا سفر آدھے گھنٹے کا تھا۔ بس سے اترنے کے بعد وہاں سمندر کنارے واٹر ٹیکسی کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ اس کشتی کا سفر ایک گھنٹے کا تھا۔
ایک ہی کمپنی ہے جو بس اور کشتی دونوں کا ٹکٹ اکٹھا دیتی ہے لیکن آپ کو مہینے پہلے سے بکنگ کرانی پڑتی ہے۔ جو بہت امیر لوگ ہیں ان کے لئے مختلف کمپنیوں کے چھوٹے جہاز بھی موجود ہیں جو کنگ سلمن سٹی سے آپ کو سیدھے بروکس فال لے جاتے ہیں جس کو کٹمائی نیشنل پارک بھی کہتے ہیں۔
کٹمائی نیشنل پارک پہنچنے پر پہلے سب سیاحوں کی دس منٹ کی ٹریننگ ہوئی جس میں پارک رینجر نے بتایا کہ کسی بھی قسم کا کھانا اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ریچھ کھانے کی خوشبو سونگھ کر آتے ہیں۔ ریچھوں کو بھگانے کا اسپرے بھی ممنوع تھا۔ رینجرز نے بتایا کہ ہم ان کے علاقے میں ہیں لہذا ہمیں ان کے قوانین پر چلنا ہو گا۔ اگر راستے میں کوئی ریچھ آ جائے تو کبھی بھی مت بھاگیں۔ کبھی ریچھ کی طرف پیٹھ نہ کریں اور اس کے راستے سے ہٹ جائیں۔
یہ ساری احتیاطی تدابیر سننے کے بعد ہم نے بروکس فال ہوٹل میں ناشتہ کیا جو کہ کچھ قدم کے فاصلے پر تھا۔ ناشتہ انتہائی مہنگا تھا۔ ناشتے کے بعد ہم نے بروکس فال کی طرف چلنا شروع کیا جو کہ ایک میل کی دوری پر تھی۔ ہم تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ دو ریچھ تیس چالیس فٹ کی دوری پر درختوں کے اندر جا رہے تھے۔ ہم رک گئے اور ان کے جانے کا انتظار کرنے لگے۔ ان کے گزرنے کے بعد جب ہم اور آگے چلے تو وہاں بروکس فال پر موجود رینجرز نے ہمارا نام لکھا اور بتایا کہ ابھی پلیٹ فارم پر اور لوگ موجود ہیں۔
آپ کا نمبر آدھے گھنٹے بعد آئے گا۔ بہت کم لوگوں کو رینجرز اندر پل پر بھیجتے ہیں جہاں پہنچ کر آپ ان ریچھوں کو مچھلیاں پکڑتا اور کھاتا دیکھ سکتے ہیں۔ آپ صرف بیس پچیس گز کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہمارا نام پکارا گیا اور ہمیں لکڑی کے پل پر چلنے کی اجازت مل گئی۔ رینجرز نے ہمارا اندر جانے کا وقت لکھا اور ہمیں ہدایت کی کہ آپ کے پاس آدھا گھنٹہ ہے۔ اس کے بعد آپ نے پلیٹ فارم چھوڑ دینا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی وقت ملے۔
ہم لکڑی کے پل پر چلنے لگے اور صرف ایک منٹ بعد جو منظر ہماری آنکھوں نے دیکھا وہ ناقابل بیان تھا۔ کچھ بیس کے قریب ریچھ پانی کی آبشار کے پاس کھڑے ہوئے تھے جس کو بروکس فال کہتے ہیں اور مچھلیاں اچھل کر دوسرے طرف جانا چاہ رہی ہوتی ہیں لیکن ریچھوں کے منہ میں گر رہی ہوتی ہیں۔ میں راستے میں سوچ رہا تھا کہ کیا اتنی محنت اور پیسے خرچ کرنے کے بعد بروکس فال آنا بھی چاہیے تھا کہ نہیں۔ لیکن جب میں نے بروکس فال پر یہ منظر دیکھا تو میری ساری تھکن دور ہو گئی۔ یہ لمحہ، یہ آدھا گھنٹہ ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہے گا۔ آدھا گھنٹہ کیسے گزرا ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ ہم اپنا وقت پورا ہونے پر واپس آ گئے اور دوسری دفعہ کے لئے نام لکھوا دیا۔ دوسری مرتبہ دیکھنے کے بعد شام کو واپس ہم اینکراج واپس آ گئے۔
اگلی صبح ہم نے رینٹ اے کار لی جس کا ایک ہفتے کا کرایہ اتنا زیادہ تھا کہ ایک پرانی گاڑی خریدی جا سکتی تھی۔ اس رہنٹ اے کار کا مالک ترکی سے تھا۔ اس نے بٹایا کہ اگر یہ گاڑی آپ ستمبر سے مئی کے دوران بک کراتے تو ایک مہینے کے لئے ملتی۔ ہمیں کاروبار کرنے کے صرف یہی چار پانچ مہینے ملتے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ خود اکتوبر میں یہ ساری گاڑیاں بیچ کر ہوسٹن چلا جاتا ہے۔ گاڑی ملنے کے بعد ہماری پہلی منزل والڈیز تھی جو چھ گھنٹے کی دوری پر تھا۔
راستے میں تھامپسن پاس سے گزرے جہاں سب سے زیادہ برف پڑتی ہے۔ تھامپسن پاس اور والڈیز نے ہمیں ناروے کے شہر فلیم اور سوئٹزرلینڈ کے شہر انٹر لاکن کی یاد دلا دی۔ ایک رات گزارنے کے بعد ہماری اگلی منزل ڈینالی نیشنل پارک تھا جو کافی خوبصورت ہے لیکن سڑک بند ہونے کی وجہ سے ہم اس کو آدھا دیکھ سکے۔ لینڈ سلآئڈنگ کی وجہ سے پارک کے اندر کی سڑک بند ہے جس پر کام ہو رہا ہے اور جو متوقع طور پر 2026 میں بنے گی۔ میں نے سنا ہے کہ جس جگہ سے سڑک بند ہے، اس کے آگے کا حصہ انتہائی خوبصورت ہے۔ ایورسٹ اور کے ٹو کے بعد ڈینالی تیسرے نمبر پر ہے۔ ڈینالی فیربنکس سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے اور اینکراج سے تین۔ فیربنکس میں کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ہے لیکن یہاں سے دو گھنٹے کی دوری پر آرکٹک اوشین کی طرف جانے کا راستہ آتا ہے جہاں سیاح ناردرن لائٹ دیکھنے جاتے ہیں۔
ڈینالی سے اب ہمارا آخری مقام سیورڑ تھا جہاں ہم نے چھ گھنٹے کا کروز بک کروایا ہوا تھا۔ ڈینالی سے سیورڑ کا سفر تقریباً پانچ گھنٹے کا ہے۔ یہ سفر الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر اینکراج سے سیورڑ کی جو ڈھائی گھنٹے کی ڈرائیو ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ سیورڑ پہنچ کر ہم نے رات کا کھانا کھایا۔ آلاسکا کی سلمن مچھلی بہت مشہور ہے۔ فش چآوڑر سوپ انتہائی مزے کا تھا۔ صبح اٹھنے کے بعد کروز والوں نے ہمیں پک کیا اور ساحل تک لے گئے جہاں ان کا بڑا جہاز روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ یہ کروز آپ کو کینائی نیشنل پارک کے اندر لے جاتا ہے جہاں چھوٹے چھوٹے پہاڑ ہیں۔ ہم نے اپنے ساتھ چلتی ہوئی وھیل مچھلیاں، سمندری شیر اور اوٹرز دیکھے۔ کافی دنیا گھومنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ آلاسکا میں کتنے ملکوں کی خوبصورتی یکجا ہے۔
میں آلاسکا میں اتنے دور دراز علاقوں، پہاڑوں، پارکس اور جنگلوں میں گیا لیکن ہر طرف ترتیب، نظم و ضبط اور سیاحوں کے لئے اتنی سہولیات کہ میں بتا نہیں سکتا۔ اگر آپ کینیڈا اور امریکہ میں رہتے ہیں تو میں آپ کو ضرور مشورہ دوں گا کہ آپ آلاسکا کا پروگرام بنائیں۔
دوسری طرف ہمارے سب حکمراں، وزیر، مشیر دبئی تک تو جاتے ہی ہیں۔ اگر وہ پاکستان کو دبئی جیسا بھی نہیں کر سکے تو میں انہیں امریکہ اور یورپ کی سیاحت اور اس سے حاصل شدہ ڈالرز کے بارے میں کیا بتاؤں!



