ناول انکشاف قسط 8


یہ گھرانا کچھ سال سرگودھا شہر میں ہی روزگار کی تلاش میں سرگرم عمل رہا، مگر انہیں یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ یہاں زمینداری کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ روزگار نہیں ہے۔ عبدالشکور ایک دن دوستوں کے ساتھ کھیل کود کر جب واپس شام گھر آیا، تو اسے معلوم ہوا کہ بڑے چچا عبدالحمید نے یہاں سے فیصل آباد جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور پھر ایک دو دن بعد یہ سارا گھرانا فیصل آباد منتقل ہو گیا اور جاتے ہی روزگار میں جت گیا۔

عبدالشکور کا گھر ہجرت کے بعد نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا، جس میں آسودگی کا تصور محض خواب و خیال ہی میں ممکن تھا۔ گھر میں دیگر مسائل کے علاوہ معاشی مسائل بھی تھے، لیکن دونوں بھائی کمال ہمت اور جوانمردی سے حالات کا مقابلہ کیے جا رہے تھے۔ ان کی مسلسل محنت، لگن اور کفایت شعاری سے گھر کے حالات بدلنا تو شروع ہو گئے، مگر اس معاشی آسودگی سے ایک منفی عنصر نے بھی جنم لے لیا اور دونوں کی بیویاں ایک دوسرے سے شاکی ہو کر، لڑائی جھگڑے کرنا شروع ہو گئیں۔ یہ لڑائی جھگڑے ابتداء میں معمولی نوعیت کے تھے، تاہم رفتہ رفتہ اس میں شدت آتی گئی اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ دونوں بھائی علیحدہ ہو گئے۔ عبدالشکور جو یتیم بچہ تھا، وہ چھوٹے چچا کے حصے میں آیا اور یوں وہ اپنے چچا کے ساتھ ایک مضافاتی علاقہ سلطان پور میں منتقل ہو گیا۔

سلطان پور میں منتقل ہونے کے بعد زندگی نے اب نئے انداز میں بیل کی کونپلوں کی طرح پھوٹ رہی تھی، جس میں پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی اب اگ آئے تھے۔ اگر عبدالشکور کی زندگی میں اسے ایک نئی صبح کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ بڑے چچا کے اثر سے نکلنے کے بعد عبدالشکور نے سلطان پور میں چھوٹے چچا کے ساتھ مزدوری کرنا شروع کردی تاکہ وہ چچا کے اوپر اب مزید بوجھ نہ بنے۔ اس کے چچا زاد بہن بھائی بھی اسی کے ہم عمر تھے، مگر ان کی ماں انہیں گھر پر ہی رکھتی تھی، جبکہ عبدالشکور اوائل عمری ہی میں مزدوری پہ لگ کر زندگی کے تلخ تجربات سے آشنا ہونا شروع ہو گیا۔ اور یوں وقت کا پہیہ آگے کی طرف گردش کرتا رہا۔

عبدالشکور کو چھوٹے چچا کے ساتھ رہتے دو سال ہوچکے تھے، اور وہ اسی طرح محنت مزدوری کر کے گھر کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ عبدالشکور شاید مزید اسی حالت میں ہی رہتا، کہ ایک دن اس کی اپنی چچی کے ساتھ کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی اور وہ چچا کو مطلع کیے بغیر گھر چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہ پلٹا۔

اپنے چچا سے علیحدگی کے بعد ، وہ ایک دوسرے شہر میں چلا گیا اور پھر وہاں ایک ٹھیکیدار کے ہاں ملازمت کر کے پیٹ پالنے لگا۔ کیونکہ ہنوز وہ مجرد ہی تھا اور اوپر سے غربت کی چکی میں پسا ہوا، لہذا وہ پیسے کو نہایت کفایت شعاری سے استعمال کرتا تھا۔ اپنی اسی کفایت شعاری اور سلیقہ مندی کی بدولت، اس نے شہر کے ایک محلے کوچہ رحیم جان میں ایک پرانا اور خستہ مکان خرید لیا اور یہیں اپنی بیوی آنسہ کو بیاہ کر لایا۔

آنسہ کے ہاں اوپر تلے دو بچے آمنہ اور شہاب پیدا ہوئے، جس کے بعد اس کی صحت گرنا شروع ہو گئی۔ وہ شادی کے وقت ایک صحت مند خاتون تھی اور اپنے اوپر بھی تھوڑی سی توجہ دیتی تھی۔ لیکن بچوں کی پیدائش اور پھر ان کی دیکھ بھال نے اسے اپنے آپ سے اس قدر غافل کر دیا، کہ اسے بننے سنورنے کا ہوش تک نہ رہا۔ الغرض اس کی زندگی اب کولہو کے بیل کی مانند ہو چکی تھی، جو صبح سے شام تک کنویں کے اردگرد چکر لگاتا رہتا ہے اور رات پڑنے پر سو جاتا ہے۔

اس کی زندگی میں غربت ہی کیا کم تھی کہ اس پہ مزید دو بچوں کے بوجھ نے اسے یوں جھکا دیا جیسے ایک درخت کا تنا ایک جانب جھک جاتا ہے۔ وہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اپنی صحت پہ توجہ نہیں دے پا رہی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے دائمی کھانسی کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ گھر میں غربت اور دو شیر خوار بچوں کا بوجھ کا ایک طرف، اور آنسہ کی بیماری دوسری طرف، ان حالات نے عبدالشکور اور آنسہ کی زندگی کو جہنم بنا دیا، جس میں دو زندہ انسان مرنے سے پہلے ہی جل رہے تھے۔ گویا آنسہ ایک ایسا پھول تھا، جو بن کھلے ہی مرجھا گیا۔

آنسہ نے ابتداء میں اس کھانسی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتی رہی اور گھر میں ہی اجوائن اور دیگر دیسی ادویات سے سہارا لیکر، اس بیماری سے نجات کی ترکیب ڈھونڈتی رہی، مگر وہ بے سود ہی رہا۔ رفتہ رفتہ جب کھانسی نے مستقل ڈیرے آنسہ کے اندر جما لیے، تو اس نے محلے کے ایک عطائی کے پاس جاکر اپنا علاج شروع کر دیا، جس سے وقتی افاقہ تو ہوجاتا تھا مگر بیماری اپنی جگہ پر موجود تھی۔ گویا آنسہ نے کبوتر کی مانند اپنے تئیں آنکھیں بند کر کے یہ گمان کر لیا تھا، کہ اس عطائی ڈاکٹر کی دوا سے وہ ٹھیک ہو جائے گی، مگر یہ واہمہ عارضی ثابت ہوا۔

” شہاب کے ابا، مجھے نہیں لگتا کہ میں اب زیادہ دن جی سکوں گی“ ۔ وہ کھانسی کے بلغم کو غور سے دیکھ کر بول رہی تھی، جو ابھی ابھی اس نے تھوکا تھا اور جس میں سرخ رنگ کی ایک پتلی سی لکیر تھی، جو بل کھاتی ہوئی بلغم کے پانی کے ساتھ حرکت پذیر تھی۔ ”ایسا نہ کہو خدا کی بندی۔ کچھ نہیں ہو گا۔ بس معمولی سی کھانسی ہے۔ جلد ٹھیک ہو جائے گی“ ۔ عبدالشکور اندرونی پریشانی اور تشویش کو دبا کر، آنسہ کو حوصلہ دے رہا تھا، جو مستقل کھانسی کرنے کے بعد اب ہلکان ہو کر لیٹ ہو چکی تھی اور تیزی سے سانس لے رہی تھی۔ اس کی سانسوں کی آواز سے یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے کوئی کبوتر اپنے گھونسلے میں بیٹھا غٹر غوں، غٹرغوں کر رہا ہو۔

عبدالشکور اگلی صبح بنا ناشتہ کیے کام پر چلا گیا، کیونکہ آنسہ ابھی تک سو رہی تھی۔ اس کی آنکھ اس وقت کھلی جب اس کے بیٹے شہاب نے بھوک سے بلبلانا شروع کر دیا۔ وہ رات بھر کی بیمار کراہتے ہوئے اٹھی اور دونوں بچوں کو روکھی سوکھی روٹی بنا کر دی، تاکہ وہ شکم سیر ہو سکیں۔

”تمہارے ابا کہاں ہیں؟“ آنسہ نے ایک لقمہ ہاتھ میں لیتے ہوئے بیٹی سے پوچھا۔ ”ابا تو کام پر چلے گئے ہیں“ ۔ آمنہ نے پانی پیتے ہوئے جواب دیا۔ ”تو ناشتہ؟“ ۔ اس نے پھر پوچھا۔ ”ابا نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔ کہہ رہے تھے فیکٹری جاکر کرلوں گا“ ۔ آنسہ نے جب بیٹی کے یہ الفاظ سنے، تو ہاتھ میں پکڑا لقمہ وہیں واپس ٹوکری میں رکھ دیا اور اپنے آنسو وہیں ضبط کر کے دری سے اٹھ کھڑی ہوئی کہ مبادا بچے بھی رو پڑیں۔

Facebook Comments HS