وینس کی جانب


چارلس ڈیگال ائرپورٹ سے وینس (Venice) کی فلائیٹ پکڑنی تھی۔ لابی میں فیس بک پر اچانک ہمارے دوست اور گوجری کے شاعر جاوید سحر ؔ کی ویڈیو چل گئی تو دل رک سا گیا۔ بابائے گوجری، رانا فضل حسین کی شاعری ایسے خوب صورت ترنم سے پڑھ رہے تھے کہ یوں لگا کہ کوئی لوک گیت چل رہا ہے ؂ ”سوہنڑا دیس ہے کشمیر میرو۔ جس گی ڈوگیاں میں زعفران پھلے“ ۔

گوجری سے ہمارا تعارف اپنے آبائی گاؤں (گر مائی سٹیشن جو پونچھ شہر میں پچھلی نسل نے اپنی زمینوں پر جانے کے لئے منتخب کیا تھا اور جس کا نام حاجی بل ہے، سے ہے۔ کبوٹہ فاروڈ سے دس پندرہ میل دور۔ تو حاجی بل کے ذریعے گوجری ہم نے سنی ہوئی تھی۔ پھر جب ہم لوگ چکار میں آباد ہوئے تو آس پاس بہت سے لوگ گوجر برادری کے تھے اور ہمارے ابا کے میڈیکل سٹور کے شاید سب سے بڑے گاہک بھی۔ سکول میں گوجر کلاس فیلوز۔ اس زبان کی میٹھی سے ہوک ہمیشہ سے دل کھینچتی ہے۔

پھر مخلص وجدانی کہ ہماری جوانی کے بزرگ دوست ہیں، بھی گوجری سے محبت کی ایک اور وجہ ہیں۔ ان کے شعری مجموعے کا نام ’ریرہ‘ ہے جس سے مراد ننھے بچے کا وہ ضد بھرا احتجاج ہے جو وہ زمین پر اپنی ٹانگیں لمبی کر کے آگے پیچھے کھینچتے ہوئے روتے ہوئے کرتا ہے۔ ہمارے دوست اعجاز نعمانی اور احمد حسین مجاہد بھی گوجری کا علم آگے بڑھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے گوجری کو برصغیر کی قدیم ترین زبانوں میں شامل کیا ہے اور اس کے دوسری زبانوں پر اثرات کا ذکر کیا ہے۔

ہمارے لئے تو گزرے ہوئے برسوں کے ہمارے کاشتکار سواریہ بھیا اور کمی سے جڑی یادیں ہی بہت ہیں۔ کمی ہماری اماں کی کلاس فیلو تھی۔ پچاس ساٹھ کی دہائی میں ان دور دراز علاقوں میں تعلیم کے جو بھی رسمی غیر رسمی طریقے رائج تھے۔ ہماری اماں اور ان کی عمر کی خاندان کی دوسری خواتین کی پہلی زبان تو کشمیری تھی، مگر یہ لوگ گوجری سے بھی خوب واقف تھے اور گوجری اکھانڑیں (Adages) سناتے تھے۔ ہمارے خاندان کی کشمیری پونچھی لہجے کی ہے (اب تو گن کر سات آٹھ لوگ باقی رہ گئے ہیں جو کشمیری روانی سے بولتے ہیں ) ۔

گویا وادی کے خالص اور لہکتے ہوئے لہجے سے الگ جس میں پھ کو ف اور غ کو گ بولتے ہیں۔ ہماری کشمیری میں بھی پہاڑی کی خوشبو اور حلاوت ہے۔ اپنے بچپن کی یادوں میں کانگڑیاں، سماوار کا قہوہ، راج ماہ (موٹھی) دال، چاولوں کی قسموں اور کوالٹی پر ماما اور تاتا جی کی گفتگو، دیسی کوفتے جنھیں ہم ”منجیاں“ کہتے اور ماما ساگ ڈال کر پکاتیں، صبح سویرے مانے کے تندور سے لائے ہوئے نان (جنھیں ہم نجانے کیوں ”لواس“ کہتے ) چائے کے ساتھ ملتے۔

ماما نے ہم سے کبھی کشمیری کے علاوہ بات نہیں کی، اور ہم بہن بھائی پہاڑی میں جواب دیتے۔ گھر کے کچھ ملازم کشمیری بولتے اور کچھ پہاڑی۔ بعد میں گوجری بولنے والے کم عمر لڑکے بھی آنے لگے۔ جنھیں ماما کام پر بھی لگاتیں اور پیار بھی کرتیں۔ تاتا جی جذباتی لہجے میں کہتے، ”اس بہانے روز کھانا تو کھا لے گا، گھر میں تو فاقوں سے ہی مر جائے گا۔“

ایک Virtual Reality شو ہے جو پچھلے پچاس برس پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے کردار Avatars کی طرح موجود بھی ہیں اور غائب بھی۔ اک شہر تمنا ہے جسے ہمارا ناسٹلجیا روز بناتا اور بکھیر دیتا ہے۔ جو باقی ہیں وہ ان پھولوں کی خوشبو اور اس سبزے کے رنگ ہیں جو ماما اور تاتا جی کی قبروں پر موجود ہیں۔

اک یاد ہے کہ دامن دل چھوڑتی نہیں
وینس کے لئے جہاز میں بیٹھے تو یادوں کی کھڑکی بند ہوئی۔

مارکو سے سنتامارکو تک

وینس ائرپورٹ پر کاشف عیسیٰ مارکو کے ساتھ موجود تھا۔ کاشف نے محض تین برس میں اطالوی سیکھ لی تھی اور فر فر بولتا تھا۔ گاڑی مارکو چلا رہا تھا جو وینس کے اس حصے کا میئر ہے اور سائیکل پر دفتر آتا جاتا ہے۔ بانکا اور بیچ (Beach) پر جانے کا شوقین۔ وینس کی بہت تصویریں دیکھ رکھی تھیں اور کئی ہالی ووڈ فلموں کی شوٹنگ بھی یہاں ہوئی ہے لیکن Adriatic Sea کی چھوٹی بڑی شاخوں پر آباد یہ شہر، ایک اپنے ہی رنگ اور سلیقے کا شہر ہے۔

سیاح جیسے ساری دنیا سے ٹوٹے پڑے ہیں اور شہر کے سیاحتی علاقے میں سیاحوں کے ہجوم میں چلنا مشکل ہو رہا ہے۔ پانی پر آباد یہ شہر جس کے گھروں کا دروازہ نہر پر کھلتا ہے جیسے پرانی فرانسیسی لوگ گھر سے نکل کر سیدھا گھوڑے پر بیٹھتے تھے وینس کے لوگ گھر سے نکلتے ہی سیدھا کشتی میں پاؤں رکھتے ہیں۔ گنڈولا قدیمی کشتیوں کی ماڈرن شکل ہے جسے صرف ایک چپو سے چلاتے ہیں اور ہر کشتی پر وینس کے جغرافیے کا خوب صورت نشان۔ یونانی دور کی فلموں کی یاد آ گئی جس میں بحری قوت یہی کشتیاں ہی تو تھیں۔ اپنی بطخ جیسی شکل کے ساتھ۔

پانچ چھ سو برس کے فنون لطیفہ شہر میں بکھرے پڑے ہیں۔ قدم قدم پر میوزیم، آرٹ گیلریاں، نمائشیں، موسیقی کے ہال، لائبریریاں، گلیوں میں ہر دوسرے تیسرے نکڑ پر کوئی نہ کوئی موسیقی بجا رہا ہے۔ ایک اکارڈین بجاتا ہوا بابا ایک عورت شیشے کے گلاسوں پر پیانو بجاتی ہوئی جسے محض ایک فولادی میز پر رکھا ہے۔ خوب چھان پھٹک کی مگر گلاسوں کے علاوہ آواز کہیں اور سے نہیں آ رہی تھی اور ترنم ایسا کہ بس سنتے رہیں۔

سولہویں صدی کی پینٹنگز ایک گیلری میں دیکھیں۔ مذہبی رنگ غالب ہے مگر باریکی اور نفاست ایسی کہ دیکھتے رہ جائیں۔ ’مریم کا کمرہ‘ جس میں فرشتہ حضرت مریم کے پاس آیا ہوا ہے۔ تقدس، لطافت اور حسن کا مجموعہ۔ ننھے عیسے ٰ کو گود میں لیے حضرت مریم کی درجنوں تصاویر۔ ڈاؤنچی وینس کے ہر کوچے میں نظر آیا۔ کہیں کتابوں پر، کسی Bill Board پر اور پینٹنگز اور Souvenirs پر تو جابجا۔

اس شہر کو اپنی سولہ سو برس کی تاریخ پر ناز ہے او راپنی یکتائی پر پھولے نہیں سماتا۔ کاشف نے شام کو وینس کے آرکیٹکس، ماہرین تعمیر اور دوستوں کی محفل سجائی ہوئی تھی جو انگریزی بول سکتے تھے، خوب بولے۔ باقی اپنی مسکراہٹوں سے شام کو روشن بناتے رہے۔ شام ڈھلے سورج، ریالٹو برج پر غروب ہو رہا تھا۔ بازار اور ریستورانوں کی رونق بڑھ رہی تھی۔ موسیقی کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔

شیشوں کا شہر اور سینٹ مارکو کا محل

مرانو کے جزیرے پر جا کر احساس ہوا کہ تصویریں کتنی غلط فہمی پیدا کر سکتی ہیں۔ مچھیروں کی اس بستی میں ہر گھر کا بیرونی رخ (Facade) رنگ برنگے پینٹ سے رنگا ہوا ہے۔ اس کی تصویریں دیکھ رکھی تھیں اور بعض دوستوں کا اصرار تھا کہ ضرور دیکھو، ذرا مزہ نہیں آیا۔ ایک تو نفاست کی کمی، پھر رنگ کر کے مکین شاید بھول ہی گئے ان در و دیوار کو۔ ہاں ایک گھنٹے کا کشتی کا سفر خوب رہا۔

برانو پہنچے جو شیشے کی صنعت کا کئی صدیوں سے مرکز ہے۔ پچھلے سات سو برس کی شیشے کی مصنوعات کا میوزیم خاصے کی چیز ہے۔ شیشے کی بنی ہوئی چیزوں نے وقت کے ساتھ کیسے اپنا رنگ، ہیuت اور روپ بدلا دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر شیشے سے بنے مجسمے اور موسیقی کے ساز۔ کارلوسنوریتو سے ملاقات، ان کی فیکٹری کا دورہ، ہمیشہ یاد رہیں گے۔ موصوف پچھلی کئی دہائیوں سے شیشے سے معجزے تخلیق کر رہے ہیں۔ آسکر ایوارڈ بناتے رہے ہیں اور مائیکل جیکسن کا مجسمہ بھی بنایا ہے جو کیلیفورنیا کی کسی آرٹ گیلری نے خریدا ہے۔ ایک مکمل تخلیق کار۔ ان کی اسسٹنٹ نے ہمارے دیکھتے دیکھتے شیشے کے ایک ٹکڑے سے گلاس بنایا اور پھر اسے پگھلا کر کے ایک گھوڑا بنا دیا۔ نفاست ایسی کہ ہم سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وجاہت اور زینا نے جو میرے ہم سفر تھے، دانتوں میں انگلی داب لی۔

Peggy Gugenheim کی گیلری وینس کی یادوں میں ایک چمکتی ہوئی یاد بن کر باقی رہے گی۔ موصوفہ نے ایسے ایسے شاہکار اکٹھے کیے ہیں کہ دل رک جائیں۔ پکاسو (Picasso) کی پینٹنگز، Dali کا کام اور موصوفہ کی اپنی پینٹنگز۔ Peggy کی خود نوشت سوانح بھی خریدی۔ واپسی کے سفر میں کام آئے گی جو کتابیں لاہور سے لے کر چلے تھے انھیں کھولا تک نہیں۔

اب نصف شب کا عمل ہے اور وینس کی آخری رات۔ شام کیفسکاری یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن پیلو سے گفتگو کرتے گزری۔ برصغیر کے ہندو فارسی شعرا پر پی ایچ۔ ڈی کر رکھی ہے اور فارسی زبان کے ماہر ہیں۔ حافظ کا اطالوی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ کہنے لگے اگر حافظ کی شاعری ایک پینٹنگ ہے تو بیدل کی شاعری ایک مجسمے کی مانند ہے۔ غنی کاشمیری کے دلدادہ نکلے۔ بتایا کہ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ہندوستان میں فارسی کے عالموں کی تعداد ایران سے دس گنا زیادہ تھی اور مغلیہ عہد میں فارسی زبان کی ترویج اور ترقی بے مثال تھی۔ مسجد وزیر خان پر کی گئی فارسی نقاشی اور خطاطی پر ایک مشترکہ پراجیکٹ بنانے کی بات ہوئی۔ اپنی انگریزی کتابیں لاہور سے چھپوانا چاہتے ہیں۔ ہم نے مدد کی پیش کش کی۔

کل روانگی ہے۔ پھر وہی شہر لاہور اور اس کے راستے، شجر اور برسات ہماری منتظر ہوں گی۔ پھر وہی نہر جس کی بربادی میں ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ وہی ہجوم بے دل، وہی بے یقینی اور سیاسی رسہ کشی۔ ہم تو جا رہے ہیں دل یہیں کہیں رہ جائے گا۔

یہ ندیاں جو رواں ہیں اگر ٹھہر جائیں
سمندروں کی بھری چھاتیاں اتر جائیں
(محبوب خزاں )

Facebook Comments HS