جرمنی میں اسلاموفوبیا پر حکومتی رپورٹ

ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ جرمن حکومت اسلاموفوبیا پر بھی رپورٹ شائع کرے جیسا کہ بعض دیگر معاملات پر رپورٹس شائع ہوتی ہیں۔ گزشتہ حکومت نے اپنی روایتی پالیسیوں کے باعث ایسا نہیں کیا۔ تاہم موجودہ حکومت نے 29۔ جون کو 400 صفحات پر مشتمل پہلی رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ”مسلمانوں“ کی مخالفت رکھا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ اسلام کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی مخالفت ہے۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ اکثر لوگوں کی مخالفت ثقافت، رنگ، نسل، زبان یا دیگر بنیادوں پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اسلام کی بطور مذہب بھی مخالفت پائی جاتی ہے۔ بہرحال مختلف ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نے سیاست، تعلیم، ثقافت، عدلیہ، میڈیا، انتظامیہ اور روزمرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے سلوک کا تجزیہ کیا ہے اور تجاویز دی ہیں۔
اسلاموفوبیا کی وسعت
جرمنی کی قریباً نصف آبادی میں مسلمانوں کے متعلق تحفظات پائے جاتے ہیں! 45 فیصد جرمن کسی مسلمان کو اپنے شہر کا مئیر نہیں دیکھنا چاہتے۔ 38 فیصد جرمنوں کا خیال ہے کہ انہیں اپنا آبائی وطن اب غیر سا لگنے لگا ہے! 2021 ء تک کے جائزوں کے مطابق قریباً 52 فیصد جرمن اسلام کو بطور مذہب بھی ایک خطرہ سمجھتے ہیں اور 55 فیصد کے خیال میں اسلام جرمن معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قریباً ایک تہائی آبادی کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کی مکمل آزادی نہیں ہونی چاہیے اور 42 فیصد نظر آنے والی مساجد کی تعمیر کے خلاف ہیں۔
اسلام/مسلمانوں میں کیا خرابی ہے؟
اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے خیال میں مسلمانوں یا اسلام میں کیا خرابی ہے؟ اس ضمن میں :
· پہلے نمبر پر خواتین کے ساتھ سلوک بیان کیا جاتا ہے۔ 82 فیصد جرمنوں کا کہنا ہے کہ اسلام کا ایک نمایاں وصف عورتوں سے امتیازی سلوک ہے۔ 56 فیصد کا خیال ہے کہ اسلام اس ضمن میں موجودہ زمانہ سے مطابقت پیدا کرنے کے قابل نہیں! تین چوتھائی کا خیال ہے کہ اسلامی تعلیم جرمن معاشرہ کے خلاف ہے۔
· دوسرے نمبر پر تشدد اور دہشت گردی ہے۔ 47 فیصد کا خیال ہے کہ اس کی بنیاد خود مذہب اسلام میں موجود ہے۔
· تیسرے نمبر پر انٹیگریشن کی کمی وجہ بتائی گئی ہے۔ 40 فیصد جرمنوں کا خیال ہے کہ مسلمان معاشرہ میں انٹیگریٹ نہیں ہوتے۔ دیگر ممالک سے آ کر جرمنی میں آباد ہونے والوں میں سے بھی 40 فیصد سے زائد کا یہی کہنا ہے!
اسلاموفوبیا کا نتیجہ
جب عوام کا اتنا بڑا حصہ ایسے خیالات رکھتا ہو تو اس کا نتیجہ لازمی طور پر روزمرہ کی زندگی میں بھی نکل کر رہتا ہے اور ریاستی سطح پر بھی۔ عوامی سطح پر تو نوکری اور مکان کی تلاش میں، سرکاری دفاتر میں، مسلمانوں یا غیر ملکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک مختلف جائزوں میں ثابت ہو چکا ہے۔ عوام میں مساجد کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہے کہ 5 ء 5 ملین مسلمانوں کے لئے باقاعدہ مینار و گنبد والی صرف 350 مساجد ہیں۔
حکومتی سطح پر مخالفت کی مثال 2003 ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ استانیوں کو سکارف لینے سے قانون واضح طور پر منع نہیں کرتا۔ جواب میں CDU کے قریباً تمام صوبوں نے سکولوں میں سکارف پر پابندی لگا دی! صوبہ بائرن میں سرکاری دفاتر میں سکارف پر پابندی جبکہ صلیب آویزاں کرنے کی اجازت دی گئی۔
اسلاموفوبیا کا مستقبل
پریشان کن امر یہ ہے کہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا ابھی مزید بڑھے گا۔ کیونکہ:
· مغربی دنیا کی معاشی مشکلات اور مائگریشن کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے پاپولسٹ پارٹیاں لوگوں کو کامیابی کے ساتھ اسلام، مائیگریشن، اسائلم وغیرہ پر انگیخت کر رہی ہیں۔ جرمنی میں AfD، جس کا منشور ہی اسلام مخالفت ہے، اب مقبولیت میں دوسرے نمبر پر آ چکی ہے۔ اس عوامی دباؤ کے پیش نظر تمام پارٹیاں دائیں جانب جھک رہی ہیں۔ گرین اور سوشل ڈیموکریٹس بلکہ لیفٹ پارٹی تک کے بعض لوگوں کی طرف سے بھی ایسے بیانات آ رہے ہیں جن کی توقع کسی وقت CDUسے بھی نہیں تھی۔ اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ کس حد تک AfD کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے!
· میڈیا اسلام مخالفت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ چنانچہ ایک جائزہ کے مطابق جرمنی کے مؤقر جرائد اور اخبارات میں اسلام کے متعلق 57 فیصد سے زائد خبروں کا تعلق دہشت گردی، جنگ، سکیورٹی، جرائم، اسائلم، انٹیگریشن وغیرہ سے ہوتا ہے۔ ٹی وی، جس کا عوام پر اثر اخبارات اور جرائد کی نسبت زیادہ ہے، پر یہ تناسب 86 فیصد ہے! جرمن زبان میں بنی فلموں میں قریباً 90 فیصد میں اسلام یا مسلمانوں کا تعلق کسی منفی بات سے جوڑا گیا ہے۔
· مسلمان اپنی غلط حرکتوں سے ان خیالات کو مزید تقویت دے رہے ہیں مثلاً غیرت کے نام پر قتل، زبردستی کی شادی، دہشت گردی وغیرہ کے واقعات ہوتے ہیں تو ان باتوں کا تعلق مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے۔ نوٹ: یہ کہنا کہ جرمن معاشرہ میں بھی ایسا ہوتا ہے جہالت ہے۔ سوال باہر سے آ کر آباد ہونے والوں کے متعلق ہوتا ہے۔ وہ مقامی آبادی کی خرابیوں میں اضافہ کا باعث کیوں بنیں؟ ویسے بھی تناسب کا فرق ہے۔
· بعض عدالتی یا حکومتی فیصلے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ فرینکفرٹ کی عدالت نے فیصلہ کیا کہ مجرم مخصوص پس منظر رکھتا ہے جس میں اس جرم کے متعلق شعور کی کمی ہے، اس لئے اس کی سزا میں نرمی کی جاتی ہے۔ اس پر شدید احتجاج ہوا۔ اسی طرح 500 کی آبادی والے ایک گاؤں میں 450 اسائلم سیکرز کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ شدید احتجاج ہوا کہ 150 تک تو ٹھیک تھا مگر 500 کی آبادی پر 450 غیر زبان، ثقافت، مذہب کے لوگوں کو رکھنا درست نہیں۔
· اسلامو فوبیا کے ردعمل میں بعض مسلمانوں میں ضد پیدا ہو رہی ہے۔ اس کا نتیجہ پھر مزید اسلامو فوبیا ہے۔
· اکثر مسلمان تنظیمیں لسانی خطوط پر استوار ہیں۔ مذہبی خطوط پر نہیں۔ مثلاً عرب، مراکشی، ترک، بوسنین۔ یوں وہ خود ہی اپنا تعلق اپنے سابقہ ملک سے جوڑتی ہیں اور جرمنوں سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہیں۔
حل کے متعلق ایک غلط فہمی
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اس پر اکثر سیاستدان، دانشور اور خود مسلمان تنظیمیں بھی دو طرح کے حل بتاتے ہیں، اور ایسی ہی بیس تجاویز اس رپورٹ میں بھی تفصیل کے ساتھ پیش کی گئی ہیں :
· مناسب قانون سازی۔ مسلمانوں کی اداروں اور فیصلوں میں شمولیت۔ مسلمان تنظیموں کی مدد۔
· انتظامیہ، میڈیا اور عوام کے ساتھ بہتر روابط۔ نصاب میں تبدیلی۔ اسلام کے متعلق بہتر تعلیم، عوام کو معلومات کی فراہمی۔
مگر یہ سب کام تو 70 کی دہائی سے ہو رہے ہیں اور گزشتہ 10 / 15 سالوں میں ان میں بہت تیزی اور وسعت بھی آئی ہے، لیکن اسلاموفوبیا ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ صرف جرمنی میں ہی نہیں بلکہ ہالینڈ، ڈنمارک، فرانس، سویڈن، ناروے، آسٹریا، برطانیہ، امریکہ سب جگہ کم و بیش ایسا ہی ہے۔ یعنی یہ جرمنی کا مخصوص مسئلہ نہیں۔ پس یہ غلط فہمی ہے کہ اس طریق پر اسلامو فوبیا کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ سب امور بھی ضروری ہیں لیکن یہ کافی نہیں۔ اس لئے اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنا چاہیے اور جلد۔ ورنہ جس تیزی سے مغرب دائیں جانب جھک رہا ہے، یہ مغرب میں آباد مسلمانوں کی اگلی نسل کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں۔

