ہماری توجہ مسائل اور ان کے حل پر ہونی چاہئیے


آجکل ہر دوسرا بندہ پریشان حال اور مسائل کا شکار ہے ـ جس کی بظاہر وجہ ملک کے حالات، مہنگائی، بے روزگاری، بھوک، افلاس، بیماری، بڑھتے ہوئے اخراجات اور ایسے دیگر کئی مسائل ہیں جن کا روزانہ کی بنیاد پر ایک عام آدمی کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مسائل نے ہر ایک کو پریشان اور بے حال کیا ہوا ہےـ تقریباً ہر انسان دوسرے سے تنگ آیا ہوا ہے اور چھوٹی سی بات پر لڑائی، مارپیٹ کے لیے تیار رہتا ہے ـ جس کی مثال آئے دن ہمیں سڑکوں پر نظر آتی ہے لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے ـ یہاں معمولی سی بات ہوئی اور لڑائی، ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے ـ اس سب کی بنیادی وجہ ذہنی دباؤ اور تناؤ ہےـ
ہمیں صبروتحمل سے کام لینا چاہئیے ـ جلد بازی کے فیصلے بھی بعض دفعہ نقصان یا خسارے کا باعث بنتے ہیںـ اپنی مثبت سوچ کے ذریعے ہم پریشانی کو ٹال سکتے ہیں ـ چھوٹی موٹی زیادتیوں کو نظرانداز کر کے ہم بہتر انداز میں زندگی گزار سکتے ہیں ـ انا اور انتقام کی آگ ہمیں تباہی کی طرف دھکیل دے دیتی ہے لہذا اس سے بچنا چاہئیے اور خود کو اتنا مضبوط بنائیں کہ آپ کو معمولی چوٹیں یا غلطیاں تکلیف نہ پہنچا سکیں ـ
ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئیے کہ مسائل کس قدر سنگین نوعیت کے ہیں یا یہ پریشانی کس کی دی ہوئی ہے یا اس کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما ہیں بلکہ اِن کے حل کی طرف دیکھنا چاہئیے ـ ٹھیک ہے کہ اب ایک مشکل آ گئی ہے تو اُس پر بوکھلانے کی بجائے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ موجودہ صورتحال اور اپنے وسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے سوچیں کہ کیسے اِس مشکل سے نکلا جاسکتا ہے ـ
کیا ان مسائل کا حل ہمارے ہاتھ میں ہے ؟ نہیں۔۔۔۔۔ تو ہم کیوں خود کو اذیت میں ڈالتے ہیں ـ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک جاننے والا واصف علی واصف کے پاس آیا وہ انتہائی پریشان لگ رہا تھا ـ واصف علی واصف نے انتہائی پرتپاک استقبال کیا اور ان صاحب کے لیے چائے بھی منگوائی ـ اس کے بعد آپ نے مہمان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے خیریت ہے ؟ مہمان نے جواب دیا ” واصف صاحب آج کل مُلک کے حالات بہت خراب ہیں ” تو واصف صاحب نے پوچھا کہ کیا مُلک کے حالات آپ کی و وجہ سے خراب ہیں ؟ مہمان نے جواب دیا کہ نہیں ـ پھر آپ نے دوسرا سوال کیا کہ کیا آپ اِن خراب حالات کو ٹھیک کر سکتے ہیں تو مہمان کا جواب نفی میں تھا تو اِس پر واصف علی واصف نے بڑے اطمینان اور پیار سے کہا کہ ” تے فیر چا پی ” یعنی آپ چائے نوش کریں ـ
کچھ مسائل خود ساختہ بھی ہوتے ہیں اور ہم اپنی سوچ کی بدولت ان کو رائی کا پہاڑ بھی بنا لیتے ہیں اور جو ہمارے خیال میں بہت بڑے سائز کے یا عظیم ہوتے ہیں جن سے ہمارا باہر آنا ناممکن ہوتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ـ کیونکہ یہ ہماری سوچ اور اُن کو دیکھنے کا زاویہ ہے جو ان کو بڑا بنا کر دکھا رہا ہے ـ
پھر کچھ مسائل واقعی اپنی نوعیت میں انوکھے یا پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن اب کیا کر سکتے ہیں سوائے اس کے کہ ان کو بہترین انداز میں حل کرنے کی صورت نکالی جائے ـ جب اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ہے تو کود پڑیں میدان میں اور ان مسائل کو اپنے لیے چیلنج سمجھیں اور خود کو سرخرو ہونے کا مموقع فراہم کریں ـ
وہ زندگی ہی کیا جس میں ہل چل نہ ہو ـ یہی چھوٹے بڑے مسائل ہی ہیں جو زندگی کی رونق بنتے ہیں اگر یہ نہ ہوں تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہم اندر سے کتنے مضبوط ہیں یا پھر کتنے طاقت ور اعصاب کے مالک ہیں ـ ان مسائل کا سامنا کریں گے تبھی معلوم ہو گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں ـ اگر ان مسائل سے لڑیں گے نہیں تو ہمیں اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا کیسے پتہ چلے گا اور ان پر مان کرنے کا موقع کیسے حاصل ہو گا ـ
ایک دفعہ اپنے سوچنے کا انداز بدل کر دیکھ لیں ـ ان مسائل کو ایسے آنکھیں دکھائیں اور ان کے سامنے ایسے سینہ تان کر کھڑے ہو جائیں کہ مسائل بھی آپ کے سامنے آنے سے پہلے دس دفعہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں ـ
جیسے ہم تمام انسان شکل و صورت اور صلاحیتوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اسی طرح ہمارے سوچنے کا انداز بھی مختلف ہوتا ہے ـ کچھ لوگ اپنی سوچ کی وجہ سے مسائل کو خود پر حاوی کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسائل تو وہیں کے وہیں رہتے ہیں لیکن وہ شخص ڈپریشن کا شکار ہو کر خود کو کئی بیماریاں لگا لیتا ہے اور ہسپتال تک پہنچ جاتا ہے اس طرح اپنے مسائل میں صرف اپنی سوچ کی بدولت مزید اضافہ کر لیتا ہے ـ
جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہو تو سب سے پہلے خود کو پُرسکون رکھیں ـ سوچیں کہ ان حالات میں آپ کیا کر سکتے ہیں ـ مناسب فیصلہ کرنے کے لیے معلومات، علم اور پرسکون دماغ کا ہونا ضروری ہے ـ چھوٹی سی بات پر آگ بگولہ ہونے سے ان کا حل نہیں نکلتا نہ ہی غصہ کسی بھی مسئلے کا حل ہوتا ہے پھر چیزوں کو ہم باہمی مشورے اور بات چیت سے بھی حل کر سکتے ہیں ـ اختلافِ رائے بھی ہو سکتا ہے لیکن احترام ملحوظِ خاطر رکھ کر ایک دوسرے کی بات کو تحمل سے سنا جا سکتا ہے ـ کہتے ہیں نہ کہ سنیں سب کی پھر کریں اپنے دل کی ـ
انا کو ایک طرف رکھ کر بھی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے ـ بعض دفعہ ہمیں ہماری انا مار جاتی ہے اور ہمارے رشتے، تعلقات بھی اسی بنیاد پر ٹوٹتے ہیں اور اکثر ہم بھاری نقصان بھی اسی انا کی وجہ سے اٹھاتے ہیں ـ
اگر فیصلہ غلط بھی ہو گیا تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے اور ہم اپنے تجربات سے ہی سیکھتے ہیں ـ پھر جب تک تجربہ کریں گے نہیں تو سیکھیں گے کیسے ؟
اپنے مالک سے دعا کریں کہ وہ آپ کے لیے آسانیاں پیدا کریں کیونکہ وہی ذات خالق و مالک ہے ـ ہماری دعا ہونی چاہیے کہ ویسا ہو جیسا اس کی نظر میں ہمارے لیے بہتر ہے جس سے وہ راضی ہے ـ ہمیں اُس راہ کا مسافر بنا دے جو اس نے ہمارے لیے منتخب کی ہوئی ہے اور آنے والی ہر مشکل کو ہمارے لیے آسان کر دے ـ ہمیں اتنی قوت، ہمت اور حوصلہ عطا فرما دے کہ ہم ہر آزمائش میں پورے اتر سکیں ـ بعض دفعہ قدرت ہمیں مشکل وقت سے گزارتی ہے صرف اس لیے کہ ہم کندن بن سکیں ـ
ہمیں اپنی سوچ پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جیسا گمان ہم رکھتے ہیں ویسا ہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے لہذا مثبت سوچ رکھیں، امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اپنے اعصاب کو مضبوط کریں ـ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کریں کہ مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں، ان کا مناسب حل نکال سکیں اور ان مسائل کو اپنے لیے وسائل میں تبدیل کر سکیں ـ
بقول اشفاق احمد صاحب: ” اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائیں اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے” ـ
آسانیاں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی پیدا کر نا ہی اصل زندگی ہے ـ جیتے تو سب ہیں لیکن دوسروں کے لیے جینا کمال ہےـ مسائل کا سامنا تو سب کو ہوتا ہے لیکن ان سے باہر نکلنا اور دوسروں کی بھی مدد کرنا اہمیت کا حامل ہے ـ بس اپنی سوچ کا زاویہ بدل کر دیکھیں زندگی خوبصورت ہو جائے گی ـ

Facebook Comments HS