کیا ہم آدمی ہیں؟



کیا آپ سب بھی میری طرح دن کے کسی لمحے میں، رات کے کسی پہر کروٹیں، بدلتے ہوئے، ہفتے کے کسی دن میں اٹھتے بیٹھتے ہوئے، مہینہ کی کسی صبح شام کو، سال کے کسی موسم میں یہ سوچتے ہیں کہ ہم کس ملک میں رہتے ہیں؟ دنیا کے معاشرتی نظاموں میں ہمارا نظام معاشرت کیا ہے؟ کیا ہم آدمی ہیں یا آدمیت کے قریب کی کوئی چیز؟

آخر ہم ہیں کون؟

سوچتے، سوچتے مجھے اطراف کے سارے افراد کبھی بھیڑیے لگنے لگتے ہیں، کبھی لومڑ، کبھی لگڑ بھگے، کبھی سانپ، کبھی سنپولیے، کبھی چیلیں، کبھی گیدڑ، کبھی گدھ، عجب بات ہے کہ مجھے کوئی شیر، چیتا نظر نہیں آتا۔ شاید اس لئے کہ وہ بہادر ہوتے ہیں۔ جو درندے تصورات کی راہداریوں میں نظر آتے ہیں وہ سب وہ ہیں جو بلا تخصیص عمر، جنس، ذات پات مکروہ حرکات کرتے ہیں، مکروہ شکل کے مالک ہوتے ہیں، بزدلی ان کا شیوہ ہوتا ہے، چھپ کے وار کرتے ہیں،

معذرت کے ساتھ آج ہمارے چاروں طرف گدھ، گیدڑ، سانپ سنپولیے، لومڑ اور لگڑ بھگے ہی ہیں۔ میری سوچوں میں یہ سارے خونخوار کل شام سے دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کے دندنانے کی وجہ ”ڈیرہ غازی خان کی غازی یونیورسٹی کی وہ طالبہ ہے جو اپنا آدھے سے زیادہ چہرہ نقاب میں چھپائے، خوف سے بھری آنکھوں کے ساتھ کپکپاتی آواز میں بتا رہی ہے کہ کس طرح پروفیسر نے اسے کام کے بہانے بلا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی اور اب ویڈیو بنا کے اسے اور اس کی بہن کو بلیک میل کرہاً ہے۔ “ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بچی کی جانب سے وائس چانسلر کو شکایتی درخواست دینے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی ہے۔ ویڈیو میسج کے آخر میں بچی کہہ رہی ہے کہ وہ وی سی دفتر کے باہر خود کو آگ لگا لے گی۔

ابھی تو بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا کہ ایک اور اونٹ نے گردن اٹھالی ہے۔ اور کس قدر بے حیائی اور بے شرمی کی بات ہے کہ ساری کی ساری حکومتیں افیون کا گھوٹا لگائے بیٹھی ہیں۔ مرکز سے صوبے تک کسی حکومتی فرد کی آواز نہیں نکلی کیوں کہ بڑا ملزم سیاسی جماعت کے کارندے اور علاقے کے اثر و رسوخ والے ممبر اسمبلی کا فرزند ارجمند ہے۔ چینل کا کمپیئر اپنی جنگ خود لڑ رہا ہے باوجود اس کے اس کیس میں ایک دو نہیں درجنوں بچیاں، بچے، اساتذہ، حفاظت کے نام پر مامور اخلاق باختہ افراد کے علاوہ بھی بڑے نام ہیں۔

اس شہر میں بسے والدین اپنی بچی کچھی عزت کو دابے منہ میں گھونگیاں ڈالے الگ خاموش بیٹھے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سارا شہر سڑکوں پر نکلتا اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی آواز اٹھاتا لیکن ایسا نہیں ہوا نہ ہی ہو سکتا ہے کہ ہماری فرسودہ معاشرتی روایات کے مطابق عزت نامی چڑیا کو گھر کے پچھواڑے میں دفنا تو سکتے ہیں لیکن سڑک پر آ کے اس کی بحالی اور زندگی کے لئے آواز نہیں نکال سکتے۔

جیسے ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی کی بچی خود کو آگ لگانے کے لئے تیار ہے لیکن کوئی بڑا یا بہادری کا قدم نہیں اٹھا سکتی۔

شاید اس لئے کہ ہمارا معاشرہ، سماج، خاندان، روایات اس نوعیت کی مذموم حرکات پر مٹی ڈالنے، بھول جانے، آواز نہ اٹھانے کو تو ترجیح دیتے ہیں لیکن حقیقت کا سامنا نہیں کرتے۔

اس حقیقت کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنا نہ کرنے کی بڑی وجہ تعلیم اور شعور کی کمی ہے۔ معاشرہ کا بہت بڑا طبقہ تعلیم سے قطعی بے بہرہ ہے اور جو اس راہ پر گامزن ہونے کی کوشش کرتے ہیں انھیں یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ آج

معاشرہ شدید قسم کے عدم برداشت سے گزر رہا ہے۔ کل ہی اخبار میں واہ کینٹ کے حوالے سے خبر لگی تھی کہ حافظ قرآن باپ نے اپنی بچی کا گلہ محض اس بات پر کاٹ دیا کہ وہ کئی دن سے کالج کی فیس کا مطالبہ کر رہی تھی۔ اس بات کا تذکرہ تو خیر میں نے عدم برداشت کے ضمن میں کیا ہے۔

بہت زیادہ سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کا شعبہ کیا کر رہا ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں مشروم کی طرح اگی یہ یونیورسٹیاں دراصل اس شعبے ہی کا کارنامہ ہے۔ ملک بھر میں رنگ برنگی یونیورسٹیز کا چارٹر ان ہی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ چارٹر دیتے وقت طلبہ کی عزت ناموس اور اخلاقیات کی شقیں بھی اس میں شامل کریں۔ بصورت دیگر ان کے چارٹر معطل کریں یا کسی بھی نوعیت کی تادیبی کارروائی کریں۔

پنجاب کے جنوبی علاقے میں واقع ان دو یونیورسٹیز میں اخلاقیات کا جس انداز سے جنازہ نکلا ہے۔ اس پے ہمارے پارلیمانی اداروں کی بے حسی، بے غیرتی اور خاموشی بھی جرم ہی کے زمرے میں آتی ہے۔ خاص طور پر ان ایوانوں میں خواتین کے کوٹے میں منتخب ہونے والی مستورات، جن کو ایک لمحے کے لئے بھی کچھ کہنے سننے کا خیال نہیں آیا۔

خواتین کی اپنی ہی ہم جنسوں کے مسائل پر منافقانہ، خود غرضانہ خاموشی اور بے حسی ہی یہ دن بھی دکھاتی ہے کہ ”گزشتہ تین دن سے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، واٹس اپ اور سوشل میڈیا کے ایسے بہت سے میڈیم کے توسط سے دن بھر میں آٹھ دس مرتبہ اس عیاش، بدمعاش، بدکردار، ملعون جج کی ویڈیوز موصول ہوتی ہیں۔ جن میں وہ مصیبت کی ماری ایک لڑکی کو بلیک میل کرتے ہوں اپنی عیاشیوں کی ویڈیو بنا رہا ہے“ ۔

معاشرے کے جس جس فرد کو اس سے مستفید ہونے کا موقع مل رہا ہے وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے لیکن بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ تادم تحریر کسی پارلیمانی رکن یا عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں نے احتجاج کیا ہے نہ ہی آواز نکالنے کی جسارت کی ہے۔

پتہ نہیں بنانے والے نے ہمیں کس مٹی سے بنایا ہے اور کس بھٹی میں جلا یا ہے۔

Facebook Comments HS