قاتل کون
عربی کی معروف کہاوت ہے : ”کسی کو غلط امید دلانا قتل جتنا بڑا جرم ہے۔“ اور جس معاشرے کے ہم مکین ہیں اس معاشرے کے ہم خالق بھی ہیں اور قاتل بھی کیونکہ امیدوں کا گلہ جس طرح ہمارے معاشرے میں گھونٹ دیا جاتا ہے وہ پھر مذکورہ بالا کہاوت کے مصداق ہے۔ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے والے حکمرانوں سے لے کر معصوم اولاد کو کھلونے دلوانے کی امید تک تمام کے تمام افراد قاتل ہوئے؟ اگر عربی کی مذکورہ کہاوت سے اتفاق کر لیا جائے تو بجا ہے۔
اگر منکر ہونا ہے تو رد و قدح کی ضرورت ہے۔ کسی کو جھوٹی اور غلط امید دلوا کر کبھی اس کے وقت سے تو کبھی جذبات سے کھلواڑ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ غلط امیدوں کے منشور پیش کر کے پارلیمنٹ تک پہنچنے والے قاتل۔ نوکری کی امید پیدا کر کے بے روزگاری کی لعنت سے نوازنے والے قاتل۔ قرض لے کر مقرر مدت تک نا لوٹانے والے قاتل۔ شادی کا جھانسہ دے کر سیر و تفریح اور لذت بھرے چند لمحات سے لطف اندوز ہو کر ندارد ہونے والے قاتل۔
تعلیم کے نام پر روشن مستقبل کے راگ الاپ کر تاریک مستقبل کی اسناد بانٹنے والے قاتل۔ زندگی بخشنے والی ادویات کے لیبل لگا کر موت کی تجارت کرنے والے قاتل۔ جوس دودھ مشروبات کے ذائقے اور رنگوں کی تشہیر سے مضر صحت اور غیر متوازن غذائیں کھلانے والے قاتل۔ چالیس نشستوں والی بس پر سو مسافر سوار کر کے منزل مقصود (قبر) تک پہنچانے والے قاتل۔ ناکام شخصیت کے حامل افراد کامیابی کی امامت فرمانے والے قاتل۔ گنجے معالج بال اگانے کے نسخے تجویز کر کے دینے اور پھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ پیٹ کم کرنے کا منجن بیچنے والے قاتل۔
فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کروڑ پتی بنانے والے قاتل۔ چوبیس گھنٹوں میں محبوب کو قدموں میں ڈالنے کی بجائے ساری زندگی گلے ڈالنے والے قاتل۔ آٹھ گھنٹے کی اجرت دے کر بارہ گھنٹے کام کروا کے ترقی کی راہیں دکھانے والے قاتل۔ وفا کے علم بردار بن کے شریک حیات بن کر رہنے والے حیات میں چھوڑ جانے والے قاتل۔ رنگ گورے کرنے کی بجائے چہرے پر چھائیاں اور داغ دے جانے والے قاتل۔ مزید اس کا فیصلہ قارئین کی عدالت میں پیش ہے کہ آپ کی نظر میں کہاں کہاں ایسا جرم ہو رہا ہے اور کون قاتل ہے۔
راقم الحروف کی نظر میں تو عزرائیل رحم دل ہے کیونکہ وہ انسان کو مارتا ہے انسانیت کو نہیں۔ پھر یہ نہ کہنا کہ ایک انسان کا قتل ہی تو پوری انسانیت کا قتل ہے۔ دلیل بنتی تو ہے پر سیاق میں راہ فرار ہے۔ معاشرے میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے اور نہ جانے اس کی روک تھام اور سدباب کے لیے کب اقدام اٹھائے جائیں گے۔
جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں سگے بھائی نے تین کمسن بہنوں کو سفاکیت، بے دردی اور جبر کے ساتھ گلے پر چھری پھیر دی۔ باپ نے زمانہ جاہلیت کی روایت کو زندہ کرتے ہوئے بیٹی کا گلا دبا کر نہر میں پھینک دیا۔ کسی نے خودکشی کر لی تو کوئی خود سوزی کیے جا رہا ہے۔ کوئی پچیس سال کی عمر میں مر کے پینسٹھ کی عمر میں دفن ہو رہا ہے تو کوئی مرنا ہی نہیں چاہتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے مان لینا ہی عقلمندی ہے کہ خود کشی کرنے والے کا بھی کوئی نا کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے! پھر مصطفی زیدی نے شاید اس لیے کہا کہ
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
چہرے بے نقاب کرنے کی ضرورت تو اسرار الحق مجاز نے یہ کہہ کر ختم ہی کر دی ہے کہ
مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود
ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی
اب ڈر کے مارے تو تقاضا بھی کوئی نہیں کرتا بس ایک ظلم ہے آزاد ریاست میں۔ چلی ہے رسم کہ کوئی نا سر اٹھائے کے چلے۔ قاتل اور ظالم معتبر ہیں۔ افلاس، غربت، بے بسی، قنوطیت، بے روزگاری، بیماری، وسائل و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، اقربا پروری، بندر بانٹ، حقوق کا استیصال، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، رشوت، خورد برد، گڑبڑ گھوٹالے، سفارش، اور ان گنت گناہ اور افعالِ بد ہیں جو معیشت کی پسماندگی کے ساتھ رویوں میں پسماندگی کا موجب ہیں اور کہیں نا کہیں یہ آلہ قتل وجہ قتل اور اقدام قتل کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔


