دامانی کے دامن میں (4)


دیران کی دشواری ؛

رات کا ایک بجا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ میں سمجھا یہ ابھی رک جائے گی لیکن مسلسل بارش نے مجھے الرٹ کر دیا۔ سلمان اور وجیہہ شاید نیند کی وادیوں میں تھے لیکن میں جاگ رہا تھا۔ کچھ دیر میں میری بھی آنکھ لگ گئی۔

رات کے کسی پہر پاؤں میں گیلا پن محسوس ہوا تو اٹھ بیٹھا، کیا دیکھتا ہوں کہ تین گھنٹوں کی مسلسل بارش سے کچھ پانی اندر آ گیا ہے جس نے میرے سلیپنگ بیگ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ قریب رکھا ہوا سامان بھی بھیگنے لگا تو اسے دوسری طرف رکھ کہ آنکھیں بند کر لیں۔

بارش مجھے بہت پسند ہے، کسے پسند نہیں ہوتی؟ سوائے ان کے جن کے گھر کچے ہوتے ہیں یا پھر فصلوں پہ جس باپ کی بیٹی بیاہی جانی ہوتی ہے۔

آج کی بارش مجھے شاید اچھی نہیں لگ رہی تھی کہ اس کی وجہ سے ٹریک اور دشوار ہو جانا تھا۔ اتنے میں باہر کچھ آواز ہوئی، کبرو کو نعیم کیمپ کے اندرونی و بیرونی حصے کے بیچ لٹا کہ جا چکا تھا۔ کبرو بھی ادھر ادھر کروٹ لے رہا تھا۔ اتنے میں صبح کی سپیدی نمودار ہوئی اور میں نے موبائل پہ تلاوت کرنی شروع کر دی۔ اللہ سے دعا کی کہ اس بارش کو روک دے لیکن شاید اس میں کوئی مصلحت تھی۔

سلمان اٹھا تو اسے کہہ کہ میں نے کبرو کو اندر لٹا لیا۔ بیچارہ بھیگا ہوا کتا اندر آتے ہی سلیپنگ بیگ پہ سو گیا۔ ہم آج کی پلاننگ کرتے رہے کہ نعیم آ گیا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ اس وقت ناشتے میں جو بن سکتا ہے وہ کھا پی کہ فوراً نکلا جائے کیونکہ بارش کے رکنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔

کچھ دیر بعد ابلے انڈے، کل کے بچے چاول اور گرما گرم چائے خیمے میں بچھے دسترخوان پہ رکھ دی گئی۔ چائے کو دیکھ میری باچھیں کھل گئیں جس نے اس سردی میں بہت حد تک توانائی فراہم کر دی تھی۔

دیران اپنا حسن نیلام نہیں کرتی ؛

ناشتہ کر کہ ہم نے اپنا سامان پیک کیا، کپڑے بدلے اور خیمے سے باہر آ نکلے۔ دیران کی چوٹی بادلوں کے گھونگھٹ میں دلہن کی طرح چھپی بیٹھی تھی۔

جناب مستنصر حسین تارڑ دیران کے بارے لکھتے ہیں کہ ؛

”پہاڑوں کے شیدائیوں کا کہنا ہے کہ راکاپوشی کے حسن کے چرچے صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ شاہراہ قراقرم سے، نگر سے، ہنزہ سے۔ ہر وادی اور مقام سے نظر آتی ہے۔ عیاں ہوتی ہے، اپنا روپ برہنہ کرتی ہے جب کہ دیران پیک اس کی نسبت چٹانی بناوٹ، برفانی سجاوٹ اور جمال کے ساتھ جلال میں بھی اس سے کہیں برتر اور افضل ہے۔ صرف یہ کہ اس نے اپنے حسن کو ہر مقام اور وادی میں ظاہر کر کہ نیلام نہیں کیا۔ وہ پردہ پوش رہتی ہے، صرف اسے اپنا حسن دکھاتی ہے جو اس کی چاہت میں طویل مسافتیں طے کر کے، صعوبتیں سہ کر یہاں تک چلا آئے“ ۔

اور میں انہیں عاشقوں میں سے ایک تھا۔

یہ بات تو نعیم بھی کہہ چکا تھا کہ مناپن آنے والے پانچ سو لوگوں میں سے سو راکاپوشی تک آتے ہیں اور ان میں سے کوئی دو دیران پیک تک، اور آپ انہی دو خوش نصیبوں میں سے ہیں۔

تب تک بارش کچھ ہلکی ہو چکی تھی اور پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث پانی کسی جگہ جمع بھی نہ ہوا تھا۔ بارش کی وجہ سے کچیلی جھیل کو کینسل کرنا پڑا سو اب راکاپوشی بیس کیمپ سے ہو کہ ہپاکن جا کے رات بسر کرنی تھی۔ نعیم اور مہدی سامان باندھنے میں جت گئے اور ہم نے اپنا واپسی کا ٹریک شروع کیا لیکن اس بار دوسرے راستے سے جو نعیم کے مطابق آسان اور چھوٹا تھا۔

جب آپ کسی ایسے علاقے، جہاں نصیب والے ہی پہنچ سکتے ہیں، کو الوداع کہتے ہیں تو دل رنج و الم سے بھر جاتا ہے۔ میں نے بھی ایک آخری الوداعی نظر دیران پہ ڈالی، الوداع کہا اور اپنا رخ موڑ لیا۔

ایک اور طوفان کا سامنا تھا مجھ کو ؛
آسمان پہ چاروں طرف بادل تھے
زمین پہ چاروں طرف پہاڑ اور برف تھی
سرسبز پہاڑ کی پگڈنڈیوں پہ کچھ چیونٹے رینگ رہے تھے
جن کی منزل راکاپوشی کا دامن تھا
لیکن ایک وسیع برف زار ابھی ان کا منتظر تھا۔

چلتے چلتے دونوں پورٹرز ہم سے آ ملے۔ یہ ٹریک قدرے آسان تھا جو سرسبز پہاڑوں کے کنارے چھوٹی سی پگڈنڈی پر مشتمل تھا جس کے کنارے کھلے ہوئے رنگ برنگے پھول میری توجہ بار بار اپنی جانب کھینچ لیتے تھے۔

اس علاقے میں پھولوں کی جتنی ورائٹی تھی وہ میں نے پہلے کہیں نہیں دیکھی۔ قسم قسم اور رنگ ہا رنگ پھول جو بار بار میرا دل لبھاتے اور بیچ ٹریکنگ رک کہ عکاسی کرنے پہ مجبور کرتے۔

بارش تیز ہوتی جا رہی تھی ساتھ میری دعائیں بھی لیکن اس بار قسمت میں امتحان لکھا جا چکا۔ بھاری بھرکم ٹریکنگ شوز گیلے ہو کہ اور بھاری ہو گئے سو رفتار کچھ کم ہو گئی۔ اس ٹریک میں بھی کئی آبشاریں ملیں جنہیں چھلانگیں لگا کہ پار کیا۔ نعیم نے بتایا کہ اس پہاڑ کہ دوسری طرف دو گھنٹے کی مسافت پہ کچیلی جھیل ہے جہاں آج ہم نے جانا تھا۔

وہ برف زار جسے ہم آتے ہوئے پار کر کہ آئے تھے ہمارے کہیں نیچے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اور دیکھ کہ حیرت ہو رہی تھی کہ یار یہ ہم نے طے کیا ہے۔ ؟

شارٹ کٹ کی لالچ میں جو راستہ ہم نے چنا تھا وہ آگے جا کہ بارش کی وجہ سے کئی جگہوں پہ ختم ہو چکا تھا سو اب کبھی ہم اوپر تو کبھی نیچے ڈھلوانوں پہ اگی گھاس اور جھاڑیوں کا سہارا لے کہ چل رہے تھے۔ کرتے کرتے دو گھنٹے بیت گئے اور اب گلیشیئر کا ٹریک آنے والا تھا۔ لیکن وہاں تک پہنچیں کیسے۔ ؟

آگے پھر راستہ گم ہو چکا تھا۔
یہ میری اب تک کی کوہ نوردی کا اذیت ناک دن ثابت ہو رہا تھا۔
اس بارش میں واپسی کیسے ہو گی؟
ہم آگے پھنس گئے اور راستہ نہ ملا تو؟
یہ سوچ سوچ کہ میں مایوسی کی کھائی میں گرنے والا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب میرے ماں باپ کے چہرے میری نظروں کے سامنے گھومنے لگے اور ایک تیسرا چہرہ بھی تھا، میری ننھی بھتیجی کا، جیسے مجھے بار بار مسکراتی ہوئی کہہ رہی تھی ”چاچو آپ فکر نہ کریں“ ۔ یک دم مایوسی کے بادل چھٹ گئے اور دل سے آواز آئی کہ ؛

اے ناشکرے انسان
تیرے رب ذوالجلال نے تجھے اکیلا چھوڑا ہے کیا؟
جو تجھے یہاں تک لایا ہے وہ آگے بھی لے جائے گا۔ بس امید کا دامن تھامے رکھنا۔

نعیم اور مہدی آگے جا کہ کہیں سے راستہ کھوج آئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اس پہاڑ کی بہت ڈھلوان ہے اتر جاؤ گے۔ ؟

اور میں نے یقین سے کہا بالکل۔
اس بھربھری مٹی کے پہاڑ کی عمودی ڈھلوان اترنے اور کچھ آگے جانے کے بعد راستہ پھر غائب۔ اب؟

اتنے میں مہدی راستہ ڈھونڈتے دور جا چکا تھا، جسے ہاتھ کہ اشارے سے واپس آنے کا کہا اور ہم دھیرے دھیرے آگے بڑھتے اپنا راستہ بناتے گئے یہاں تک کہ ہم گلیشیئر پہ پہنچ گئے، وہی جہاں سے دیران پہنچے تھے۔ بارش کی وجہ سے برف پہ کافی پھسلن تھی سو آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے کریوز پار کرتے رہے۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ بڑی کریوز کی وجہ سے ہمیں کافی پیچھے آنا پڑتا اور اسے تنگ جگہ سے پار کر کہ واپس آگے جانا ہوتا جس کی وجہ سے وقت اور انرجی دونوں ضائع ہو رہے تھے۔

میں اپنے ہی خیالوں میں تھا کہ ایک جگہ پھسلا اور اپنا گھٹنہ مروڑ بیٹھا۔

اللہ اکبر، یہ تو وہی گھٹنہ تھا جو ایک رات پہلے درد کر رہا تھا۔ اللہ نے اگر امتحان میں ڈالا تو ساتھ ہمت بھی دی۔ میں نے درد کو محسوس نہ کرتے ہوئے ٹریکنگ جاری رکھی کچھ دیر بعد درد کا احساس ختم ہو گیا۔ میرے بعد وجیہہ بھی گرا اور اس طرح قدم قدم چلتے ہم نے اس برف زار کو پار کر لیا۔

آگے پتھروں کا صحرا تھا، بارش ختم ہو چکی تھی سو ہمت بڑھ گئی اور وہ بھی پار کر لیا۔

اب ایک آخری چڑھائی جس کے بعد تغافری ہمارا منتظر تھا۔ نعیم تب تک کسی ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا دوسری طرف اتر چکا تھا۔ وجیہ کے ساتھ سلمان اور میرے ساتھ مہدی، ہاتھ پکڑ کہ آہستہ آہستہ اوپر چڑھتے گئے اور پھر اس پہاڑی کے اوپر پہنچ کہ ایک آخری بار قراقرم کے اس برف زار کو دیکھا جس نے دمانی کے دیدار کی اچھی خاصی قیمت وصولی تھی مجھ سے۔

یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ چونکہ دیران کا پلان آخری لمحے بنا تھا اور مجھے اس کے ٹریک کا اندازہ نہیں تھا سو میں نے آنے سے پہلے کوئی ورزش یا پرہیز وغیرہ کر کہ خود کو تیار نہیں کیا نیز میرے پاس ایک جیکٹ تھی جو اب بھیگ چکی تھی۔ واحد عقل مندی جو میں نے کی تھی وہ یہ کہ ایک عدد اضافی جوگرز کا جوڑا ساتھ رکھ لیا تھا جس نے بہت مدد کی۔

دوسری جانب اتر کہ جب میں نے تغافری کی ہری بھری گھاس اور خیموں کو دیکھا تو سب سے پہلے ایک سجدہ شکر ادا کیا۔ تین گھنٹے کا ٹریک ہم نے بارش کے باعث ساڑھے چار گھنٹوں میں مکمل کیا تھا۔ ہم کچیلی کے کنارے کھلے پھول نہ دیکھ سکے لیکن کوئی بات نہیں، ہر خواب بھی پورا نہیں ہوتا۔ اگر ہو جائے تو زندگی میں ایک عجیب سا خالی پن در آتا ہے۔ کچھ چیزوں کو ادھورا بھی رہنا چاہیے۔ اور میں کچیلی ادھوری چھوڑ آیا تھا دوبارہ جانے کے لیے۔

میں نے اور وجیہہ نے اپنے دونوں پورٹرز کو انعام دیا جو ان کی بہادری کے آگے کچھ بھی نہ تھا۔ (جاری ہے )

ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری
Latest posts by ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments