جناح اور کپلنگ۔ ایک مکالمہ


عالم بالا میں ایک روز مسٹر محمد علی جناح اور مسٹر رڈیارڈ کپلنگ کا آمنا سامنا ہو گیا۔ جناح تو طرح دے کر کپلنگ کے پاس سے گزرنے لگے مگر کپلنگ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا ’مسٹر جناح کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں‘ ۔ جناح نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ’مسٹر کپلنگ، آپ ایک نسل پرست شخص ہیں اور میں آپ کو آپ کی نسل پرستی کی وجہ سے پسند نہیں کرتا‘ ۔ کپلنگ نے بات کو سمجھتے ہوئے کہا کہ اس کی نظم ’وائٹ مینز برڈن‘ تو امریکہ اور فلپائن کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔ جناح نے نہایت غصے سے کہا ’مسٹر کپلنگ آپ نے یہ نظم پہلی دفعہ 1897 میں ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کے 60 سال مکمل ہونے پر لکھی تھی۔ امریکہ اور فلپائن کا معاملہ اس کے بعد پیدا ہوا اور آپ نے 1899 میں یہ نظم ترامیم کے ساتھ دوبارہ لکھی‘ ۔

’لیکن مسٹر جناح آپ کو اس نظم میں کیا غلط لگا؟ کپلنگ نے پوچھا۔ جناح نے پیر پٹختے ہوئے کہا‘ آپ کی یہ جرات کہ آپ غیر سفید فارم اقوام کو جاہل اور غیر تہذیبی یافتہ کہیں، خود کو ان کی خوراک اور علاج کا ذمہ دار قرار دیں لیں، ان کے غیر عیسائی ہونے کا حقارت سے ذکر کریں

اور پھر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس میں کیا غلط ہے؟ تم سفید فارم لوگ اگر اتنے ہی تہذیب یافتہ تھے تو تم نے ایک دوسرے کے کروڑوں لوگوں کو دو عظیم جنگوں میں کیوں ہلاک کر دیا؟ تم لوگ بنیادی طور پر امپیریلسٹ تھے۔ دوسروں کے ملکوں اور ان کے ذرائع پیداوار پر قبضہ کرنا اور ان کو اپنے تصرف میں لانا تمہارا مقصد تھا لیکن تم نے اپنے ان مظلوم افعال کو ایک اعلی اخلاقی برتری کے طور پر اپنی نظم میں پیش کیا ’۔ جذبات کی رو میں بہہ کر جناح آپ سے تم پر آ گئے تھے۔

’ مسٹر جناح آپ خود بتائیے کہ اگر انگریز ہندوستان میں نہ اتا تو کیا یہاں ریلوے، سڑکیں، یونیورسٹیاں، ہسپتال اور دیگر ادارے ہوتے؟‘ کپلنگ نے پوچھا۔ جناح نے فوراً کہا ’آپ بتائیں کہ اگر آپ ہندوستان نہ آتے تو کیا یہاں بنگال میں قحط پڑتا؟ ہم لوگ ایسے بھی ان پڑھ نہیں تھے جیسا کہ آپ بتاتے ہیں۔ ہمیں اپنی علاقائی زبانوں میں لکھنا اور پڑھنا اتا تھا۔ آپ نے ہندوستان میں انگریزی رائج کر کے ہمیں راتوں رات ان پڑھ بنا دیا۔ رہی آپ کی ریلوے وغیرہ تو یہ آپ نے ہمیں مفت نہیں دی۔ آپ نے ان تمام چیزوں کی من مانی قیمت ہم سے وصول کی‘ ۔

’ مسٹر جناح اگر آپ لوگ اتنے ہی قابل تھے تو ہمارے ہندوستان سے جانے کے بعد آپ کیوں ترقی نہیں کر سکے؟ کپلنگ نے پوچھا۔ جناح نے گرج کر کہا کون کہتا ہے ہم ترقی نہیں کر سکے؟ بھارت اور بنگلہ دیش کو دیکھو کیسے ترقی کر رہے ہیں پاکستان بھی آج 1947 کی نسبت بہتر حالات میں ہے۔ جس طرح کسی زمانے میں انگلستان کی بنائی ہوئی مصنوعات تمام دنیا میں بکتی تھیں اسی طرح آج بر صغیر کی بنائی ہوئی چیزیں دنیا بھر کی ہر منڈی میں ملتی ہیں۔ جس طرح کل یورپ ٹیکنالوجی میں آگے تھا آج ہندوستان ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہا ہے‘ ۔

کپلنگ نے طنزیہ انداز میں کہا ’لیکن مسٹر جناح آپ نے تو پاکستان بنایا تھا ان سب چیزوں میں وہ کہاں کھڑا ہے؟ ‘ جناح نے قدرے توقف سے جواب دیا ’مسٹر کیپلنگ میں نے صرف موجودہ پاکستان نہیں بلکہ موجودہ بنگلہ دیش بھی بنایا تھا اسے اس وقت مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا۔ اگر میں اسے 1947 میں ہندوستان سے الگ نہ کرواتا تو آج یہ بھی بھارت کا حصہ ہوتا۔ مسٹر کپلنگ تم لوگ کبھی غلام نہیں بنے، تم نے کبھی غلامی میں زندگی نہیں گزاری تمہارے ملک میں نو آبادیاتی نظام کے پیدا کردہ ادارے نہیں ہیں، اس لیے تم شاید میری بات نہ سمجھ سکو۔‘

’ آپ کہیے مسٹر جناح میں بھی ایک نوبل انعام یافتہ شخص ہوں، کچھ سمجھ میں بھی رکھتا ہوں‘ کپلنگ نے کہا۔

مسٹر جناح نے خلاؤں میں گھورتے ہوئے کہا ’ریڈ کلف، مہاجر، کشمیر، جاگیردار، بیوروکریسی اور۔‘ رڈیارڈ فوراً بولا ’تو ہندوستان کیسے ترقی کر رہا ہے؟ یہ مسائل تو اس کے ہاں بھی تھے۔ مسٹر جناح نے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے جواب دیا‘ رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک، آزادی سے پہلے بھی ایک کاروباری اور صنعتی علاقہ، زرعی اصلاحات اور سیاسی استحکام ’۔ لیکن کپلنگ کہاں ہار ماننے والا تھا۔ فوراً بولا مسٹر جناح اگر آپ لوگ اتنے ہی سمجھدار تھے تو آپ نے اپنے مسائل حل کیوں نہ کر لیے۔ ہمیں ہی دیکھیے ہم نے دو جنگوں کی حماقت کے بعد اپنے ہاں ایک پائیدار امن کے لیے کتنے موثر اقدامات کر لیے اور آج ہمارا یورپ 78 سال سے جنگ سے آزاد خطہ ہے‘ ۔ جناح نے فوراً جواب دیا ’ہاں اس کے بعد آپ اپنے ہتھیار لے کر ایشیا میں اگئے‘ ۔

کپلنگ بولا مسٹر جناح آپ ایک بہت قابل وکیل ہیں۔ آپ کو قائل کرنا اسان نہیں۔ لیکن آپ بتائیے اخر آپ لوگ مذہب سے لے کر سیاست تک ہر معاملے میں صرف جذبات سے کیوں کام لیتے ہیں؟ آپ کو غور و فکر کرنے سے کس نے روکا ہے؟ ہم وائٹ مین تب بھی ان صلاحیتوں سے مالا مال تھے اور اب بھی ہیں۔ اور کیا مسٹر جناح یہ تمام غیر ترقی یافتہ ممالک اسی وجہ سے غیر ترقی یافتہ نہیں ہیں کہ یہ نعرے لگاتے ہیں اور نعروں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ کبھی معاملے کی گہرائی میں نہیں جاتے۔ اس وقت آپ کا پاکستان معاشی طور پر قلاش ہے اور اپ کی قوم مکمل طور پر تقسیم شدہ لیکن 14 اگست کو آپ لوگ پھر کہیں گے ’ہم زندہ قوم ہیں، ہم پائندہ قوم ہیں‘ ۔ جناح نے گلا صاف کیا لیکن کپلنگ کو کوئی جواب نہ دیا۔

کیپلنگ نے غور سے جناح کو دیکھا اور کہا ’مسٹر جناح میں نے ہندوستان اور بنگلہ دیش بھی دیکھے ہیں۔ تمام تر ترقی کے باوجود غربت ان دونوں ملکوں میں بھی اج بھی بہت ہے۔ کروڑوں لوگ ایک پست سطح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مسٹر جناح آپ بتائیے آج ان تینوں ملکوں کے لوگ کدھر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں؟ اسی وائٹ مین کے ملک میں نہیں جس کے ذکر پر آپ مجھے نسل پرست کہہ رہے تھے؟ آج وائٹ مین بھی میری نظم کو نسل پرستانہ سمجھتا ہے لیکن کیا ان کے ممالک ہی دنیا کے وہ خطے نہیں ہیں جو دنیا کے تمام لوگوں کے لئے کسی نہ کسی طور پر کھلے ہیں؟‘ ایک لمحے کو مسٹر جناح کے چہرے پر تاسف اور مایوسی کا ملا جلا تاثر پیدا ہوا لیکن فوراً ہی وہ سنبھلے، اپنی کمر کو سیدھا کیا اور پورے قد سے کھڑے ہو کر اعتماد سے بولے ’مسٹر کپلنگ، ایک دن ہم غلامی کے تمام نشانوں سے جان چھڑا کر یقیناً اقوام عالم کی اگلی صف میں کھڑے ہوں گے‘ ۔ کپلنگ بولا ’کیسے مسٹر جناح‘ ۔ ’معلوم نہیں کیسے‘ ۔ جناح بولے اور فاطمہ جناح کا ہاتھ تھامے وہاں سے آگے چل دیے۔

Facebook Comments HS