نمک کی جیون نگری


”کسی شہر کا کلام جاگ اٹھے تو لوگ پہلے سے بڑھ کر حسین ہو جاتے ہیں۔“

ایسی انوکھی بات کرنے والا کوئی جادوئی حقیقت نگار ہی ہو سکتا ہے جو اپنے قاری کو اس دھرتی کے ایسے شہر طلسمات میں داخل کر دے، جہاں نہ خدا ہو، نہ جنگ اور نہ ہی موت!

ملتان کی زرخیز فکری دانش سے تعلق رکھنے والے اور مقامی آدمی کے موقف بڑے سلیقے سے پیش کرنے والے ہمارے منفرد تخلیق کار اور جادوئی حقیقت نگار رفعت عباس صاحب نے اپنے حالیہ حیرت انگیز ناول ’نمک کا جیون گھر‘ میں ایک ایسے ہی اساطیری شہر ’لونڑی‘ اور اس کے مہر آمیز باسیوں کی مختصر داستانوی تاریخ رقم کی ہے۔

لونڑی شہر ایک ایسا جہان حیرت ہے، جہاں کے لافانی لوگ بادلوں کو اپنی بیل گاڑیوں پر لاد کر لاتے ہیں، جہاں آئینہ سازی کی صنعت پنپتی ہے اور قلمی شیشے ڈھالے جاتے ہیں۔ ایک نمک کا شہر، جہاں رات بھر نمک کے چراغ جلتے ہیں۔ یہاں کے لوگ دھوپ کی گھڑی سے وقت کا حساب رکھتے ہیں اور سب مل کر ناول کے مرکزی اساطیری کردار ’لونڑکا‘ جو گمشدہ ہے، اس کے بنائے لفظ، کاغذ اور ناٹک گھر کو مزید ترقی دیتے ہوئے، اسے اپنے خوابوں، قصہ کہانیوں، داستانوں اور مختلف زمانوں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ان کرداروں کی فکری دانش اس ناول کی ہر سطر سے چھلکتی جاتی ہے۔ ذرا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

”بات سنتے ہوئے آنکھوں کی چمک وہ احترام ہے جو سننے والا، بولنے والے کو دیتا ہے۔ بولتے ہوئے چہرے کی ملائمت وہ رشتہ ہے جو بولنے والا، سننے والے سے استوار کرتا ہے۔ ماتھے کی گھڑی بتاتی ہے کہ بولنے والا کتنی دیر بول سکتا ہے۔ آنکھوں کی گھڑی بتاتی ہے کہ سننے والا کتنی دیر سن سکتا ہے۔ بولنے والے کے ہاتھوں کی جنبش وہ پرندہ ہے جو سننے والے کے کاندھے پر بیٹھتا ہے اور پھر آواز بن کر کان میں اترتا ہے۔“

اس خطے کی قدیم داستانوں اور ان میں آباد اساطیری شہروں کا ذکر یہاں رفعت عباس صاحب کے تحیر آمیز قلم کی ذرا سی جنبش سے پھر زندہ و جاوداں ہو جاتا ہے۔ وہ ان قصوں کے علامتی شہروں کے آئینوں میں اپنی روح کا عکس دیکھتے ہیں۔ ذرا اک شہر عجب کا قصہ دیکھیے :

”آگے ایک شہر آیا جہاں لوگ آئینوں میں آباد تھے، ان کے گھر، گلیاں، بازار، سیڑھیاں، چھتیں، پرندے، چوپائے، پھول، پھل اور پانی سب آئینوں میں تھے۔ وہ آئینوں میں ہی سوتے، جاگتے اور اپنے دریچوں کے پردے بدلتے، دسترخوان بچھاتے، محبتیں کرتے اور گھر بساتے۔ وہ آئینوں میں ہی پھول اگاتے اور راتوں کو چراغ جلاتے، جن سے ان کی عمارتیں جھلملاتی ہوئی قائم ہو جاتیں۔ انہی آئینوں کی ترتیب و ساخت میں ان کی داستان کے چھپے ہوئے معنی چمک اٹھتے۔ ان آئینہ گھروں میں اپنے نقوش کے ساتھ ساتھ انھیں اپنے عکوس کی بھی ذمہ داری قبول کرنی پڑتی، کہ جب وہ محبت کرتے تو ان کے لاکھوں کروڑوں عکس بھی محبت کرتے۔“

ایک قدیم روح کی مانند رفعت عباس صاحب اس شہر طلسم کے ہر قصے، ہر ناٹک اور ہر شبد کو یوں زندہ و موجود دکھاتے ہیں، جیسے ان کے زرخیز تخیل نے ہر چیز کو اپنے مکمل وجود کی بقاء کے ساتھ مجسم تصور کیا ہو۔

”پوتھیوں میں ایک ہی وقت میں ہزاروں ناٹک چلتے اور کروڑوں سوانگ دکھائی دیتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لفظ اشیاء بن جاتے، جیسے لفظ دریا کی جگہ دریا بہتا اور جنگل کی جگہ جنگل سانس لیتا۔ ان پوتھیوں میں اترنے والوں کو کئی دریا اور جنگل عبور کرنے پڑتے۔ وہاں خاموشی کی شدید گونج تھی اور دیکھے، ان دیکھے چہرے ابھرتے تھے۔“

ناول کے کئی حصے جہاں جادوئی حقیقت نگاری کا شاہکار ہیں وہیں کئی دریچے اس خطے کی تلخ تاریخ کے جبر کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ جب باہر سے آنے والی حملہ آور فاتح اقوام نے اس دھرتی کو مذہب، تہذیب اور اقتدار کے نام پر جنگ کا مرکز بنایا اور خون کا بازار گرم کیا۔ ایک مختصر سے ناول میں ایسی طویل، دردناک اور جبر سے بھرپور تاریخ کا جامع تخلیقی اندراج بلاشبہ حیرت ناک ہے۔

”لونڑی سے باہر دیوتا اور بھگوان بنانے کے کارخانے چل رہے تھے۔ برہمن یہ کارخانے چلاتا، نمائش گھر سجاتا، دیوی دیوتاؤں کو بیاہتا اور قبیلوں کو گانٹھتا تھا۔ اس کے پاس رنگ، نشان، چہرے، آنکھیں، ہاتھ اور پاؤں تھے۔ ہر دیوتا کے لیے سواریاں تھیں۔ وہ عام لوگوں کے ناٹک، سنگیت اور شاعری سے بھگوان کے نقش ابھارتا، دور افتادہ بستیوں سے ماؤں کی لوریاں نانی کے قصے بٹورتا اور آسمانی کہانیاں بن لیتا۔ وہ سورماؤں اور دیوتاؤں کی کھیپ چڑھاتا اور بھگوان کی پوری کتھا بیچتا۔ اس کی سچائی قائم رکھنے کے لیے راجا کے اہلکار اس کے معاون ٹھہرتے۔“

رفعت عباس صاحب کا تخلیقی وجد ہمیں اس خطے کی تاریخ کے درد دکھانے کے لیے مختلف زمانوں کا سفر طے کراتا ہے اور صرف ہند اساطیری قصوں پر ہی قناعت نہیں کرتا بلکہ بعد کے زمانوں اور فاتحین کا بھی بے باک ذکر کرتا ہے، پھر چاہے وہ مقدونیہ کا فاتح سکندر ہو یا عرب کا اموی سپہ سالار محمد بن قاسم۔ ہر وہ فاتح جو اس شہر کا سکون مذہب یا اقتدار کے نام پر تہ و بالا کرنا چاہتا ہے، اس کے سامنے اس شہر کے باسیوں کی ایک ہی التجا رہی کہ ”اس شہر میں حاکم ہے، سپاہ ہے نہ مذہب۔ ہماری طرف سے تمہارے دھرم کے لیے نیک خواہشات اور احترام۔“

مقامی لوگوں نے فاتح کے اٹل ارادوں کے آگے سر جھکانے کی بجائے اپنے شہر امن کو فاتح کی نظروں سے اوجھل کرنے کی سعی بھی کی مگر نجانے اس نمکین شہر کے خمیر میں ایسا کیا اسرار تھا کہ یکے بعد دیگرے ہوس و لالچ کی اسیر اقوام عالم نے ہمیشہ اپنے جبری اقتدار کے لیے اسی خطے کا انتخاب کیا۔ وہ ہر حملہ آور کے جبری قبضے، جبری اقتدار، جبری استبداد اور جبری مذہبی احکامات پر کڑھ کر فقط یہی سوچتے :

”کیا پرتگالیوں کا خدا سوداگروں کی معیت میں خوش تھا؟ کیا پرتگالیوں کا خدا ان پہلے چار جہازوں کے ساتھ چلتے ہوئے بھی راضی تھا، جن میں دے گی لوہے اور پیتل کی توپیں تھیں۔ کیا ان کا خدا واسکوڈے گاما کے مزاج سے متفق تھا، جو کبھی کسی کو دوسرا موقع نہ دیتا اور جو ملاحوں کے ساتھ کرائے کے فوجی بھرتی کرتا اور شہروں کو آگ لگا دیتا؟“

رفعت عباس صاحب نے اس ناول میں اس درماندہ خطے کی تاریخ کا کرب اس سلیقے سے بن دیا ہے کہ قاری اس کا درد اپنے دل پر محسوس کرتا ہے۔ وہ شہر جو امن، محبت اور سلامتی کا پیامبر ہوتے ہوئے بھی ظالم کے شر سے محفوظ نہیں، وہ شہر جس کے باسی اپنے امن کی ڈھال اپنی خودداری کو اپنے جانتے ہیں مگر اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ:

”کوئی حملہ آور ہو یا حاکم، کوئی دھرم ہو یا عقیدہ، سب سے پہلا نشانہ عام لوگوں کی ’میں‘ ہوتی ہے۔ ’میں‘ عام شخص ہے۔ یہی ’میں‘ لوگوں کی آنکھ، منہ، ہاتھ، پاؤں، زبان اور شعور ہے۔ یہی ’میں‘ گزرا ہوا اور آنے والا زمانہ ہے۔

’میں‘ ہی انسان کا حسن اور اس کی حکمت ہے۔ ہر حملہ آور جانتا ہے کہ ’میں‘ کا محاصرہ کرنا پڑتا ہے۔ اس ’میں‘ کے لیے بندی خانہ ہے، قتل گاہ ہے، جلا وطنی ہے، کسی بڑے جبر میں اس ’میں‘ کو گھوڑے اور ہاتھی کی مانند سدھایا جاتا ہے۔ کہ یہ لگام اور آنکس کو سہ سکے اور با اختیار کو اپنی پیٹھ پر بیٹھنے دے سکے۔

ہر ریاست اور اس کے کارندے ’میں‘ کو مارنے کے لیے چبوترے بناتے اور لاٹیں نصب کرتے ہیں۔ یہی ان کی فتح کا نشان ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ’میں‘ ایک جثہ ہے، جسے بھوک اور پیاس لگتی ہے، جسے درد محسوس ہوتا ہے، جس کا لہو بہتا ہے اور جس کی گردن ماری جا سکتی ہے۔ جثے کی یہی مجبوری حملہ آور کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ”

برطانوی استبداد کی صورت جب تاریخ ایک بار پھر اپنے جبر کو دہراتی ہے تب رفعت عباس صاحب کا قلم کمال کا طنز تخلیق کرتا ہے۔ وہ ظالم کے سیاسی و مذہبی جبر کی اپنے فکری شعور سے گرہ کشائی کرتے ہیں اور اس دردناک منظر کو کچھ یوں رقم کرتے ہیں کہ:

”انگریز کی گولہ باری سے شہر کے روغن گودام میں آگ لگ گئی تھی۔ گلیوں میں لوگوں کی اوندھی سیدھی لاشیں تھیں اور ہوا اپنے پاؤں پہ کپاس باندھے چل رہی تھی۔ چھتوں سے آگ لپکتی اور پھر ان کے گرنے کا شور اٹھتا۔ انگریز فوجی شہر سے گزرتے ہوئے ان لاشوں کی وجہ سے دشواری محسوس کر رہے تھے۔ انگریز کا خدا انگلستان سے ہزاروں میل دور ملتان پہنچا، وہ جنگ جیت چکا تھا۔ اس خدا کے سپاہیوں کے پاس برمنگھم کی بندوقیں اور مانچسٹر کی توپیں تھیں۔“

ناول کا مکمل متن جہاں اس خطے کی مکمل تاریخ کے جبری و استعماری بیانیے کو ایک خاص اساطیری شکل میں پیش کرتا ہے وہیں یہاں کی مقامیت کے قدیم، پر سکون امن بھرے شہر کا نقشہ بھی ترتیب دیتا ہے۔ وہ لوگ جو جنگ اور ہتھیاروں کی دنیا سے بہت دور ہیں، جو ہمیشہ سوچتے ہیں کہ:

”جنگ صرف ناٹک میں لڑی جا سکتی ہے۔ جنگ میں مرنے والا ہمیشہ کے لیے مر جاتا ہے۔ لیکن ناٹک میں مرنے والا دوبارہ جی اٹھتا ہے۔ وہ اپنے گھر لوٹ سکتا ہے، محبوبہ سے بارِ دگر مل سکتا ہے، کبوتروں کو دانہ ڈال سکتا ہے اور کشتی کو روغن بھی کر سکتا ہے۔“

شہر امن کے یہ باسی مذہب، جنگ، زندگی اور موت کے بارے میں اپنے دو ٹوک فکری نظریات رکھتے ہیں، جو مصنف کی پختہ فکری بصیرت کے غماز ہیں۔ ذرا دیکھیے :

”کرائے کا سپاہی کسی قوم کا حقیقی چہرہ نہیں ہوتا۔ فوج کی وردی یا اسلحے کی فراوانی سے کسی قوم کا وقار نہیں بڑھتا۔ کسی حملہ آور کا گھوڑا یا بحری جہاز اس کی قومی پہچان نہیں بنتا۔ بالکل اسی طرح سوداگر ہمیشہ مذہب، جنگ اور موت کی آڑ میں اپنی قوم کی زندہ جمالیات کو بگاڑ دیتا ہے۔“

اس شہر کے سب باسی اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مذہب کو جنگی حکمت عملیوں میں محض ایک آلے کے طور پر برتا جاتا ہے :

”وہ جانتے تھے کہ اپنے اجداد کو خدا ماننا آسان، لیکن دوسروں سے منوانا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے تلوار ڈھالنی اور چمکانی پڑتی ہے۔ انھیں علم تھا کہ دھرم ہمیشہ دوسروں کی زمین پر پھلتا پھولتا ہے، اس کے لیے گھوڑے سدھانے اور بھگانے پڑتے تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ دیوتا سازی کا تسلسل دھرم ہے اور دھرم میں موت ہے۔“

وہاں کے لوگوں کی رواداری، انسانیت پسندی اور مذہبی شدت پسندی سے آزادی اس شہر کو مثالیت پسندی کا ایک نمونیہ بنا دیتی ہے اور تبھی قاری خود کسی ایسے شہر کا باسی ہونے کی دعا کرتا ہے۔

”سہاگا لونڑی کے چوکوں اور بازاروں میں پکارتا: میں لونڑکا ہوں۔“

لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے اور اسے احترام دیتے۔ وہ پورے شہر میں ’میں لونڑکا ہوں‘ کہتا گزرتا۔ لیکن کسی نے اسے پتھر مارا نہ منصور حلاج کی مانند سولی پر چڑھایا۔

لونڑی میں حاکم کی عدالت تھی نہ دھرم کے ہرکارے تھے۔ وہاں کے لوگ کسی کو پتھر مارنے کے روادار نہ پہلے ہوئے نہ بعد میں۔ یہ بس ناٹک کے کھیل میں ایک نئی دید کا زمانہ تھا۔ ”

نمک اس ناول کا مرکزی استعارہ ہے، جسے روش عام سے ہٹ کر مٹی کے عوض استعمال کرنا ایک انوکھا اور منفرد علامتی اظہاریہ ہے۔ رفعت عباس صاحب اس حوالے سے ناول میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

”اس نے سوچا انسان بھی نمک میں جیون کی بستی ہے۔ انسان کے ایک ایک مسام میں نمک کا کارخانہ چلتا ہے۔ انسان میں نمک کی بھٹیاں اور باہر چمنیاں ہیں۔ وہ انسان ہو، زمین یا سمندر، سب نمک کا جیون گھر ہیں۔ انسان کی زبان ہو، شاعری یا تاریخ، سب نمک کا چراغ ہیں۔“

ناول کے کچھ حصے محبت، رواداری اور انسانیت پسندی کے حسن سے منور ہیں۔ خاص کہ اس موقع پر جب اس خطے کا ایک نمائندہ کرادر اپنی مٹی میں دفن استعماری قوتوں کے نمائندہ افسران کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔

”کیا ملتان میں انگریزوں کی قبریں موجود ہیں؟
ہاں بہت سی!
وہ تمہیں کیسی لگتی ہیں؟

قابلِ احترام ہیں، میرے پاس انگریز بندوقچیوں، توپچیوں اور ان کے منہ زور افسروں کی قبروں کے لیے پھول ہیں۔ اس لیے کہ وہ میرے شہر میں خوابیدہ ہیں۔ ”

باہمی خلوص، رواداری اور امن کے متوالے اس شہر کے باسیوں نے حملہ آوروں کے ہر حملے اور جبر و استبداد کے مقتدر گروہوں کی ہر لشکر کشی سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا کہ:

” 1۔ یہ قبضہ گیروں کا وتیرہ ہے کہ جس کی دھرتی چھینو، اسے گالی دو۔
2۔ ہر دیوتا کے پیچھے ایک بڑی دنیا اچھوت اور ملیچھ بن جاتی ہے۔
3۔ دنیا کی ساری کلا جیون ہے، اگر اسے دیوتا سازی، دھرم اور جنگ سے علیحدہ کر دیا جائے۔ ”

محترم رفعت عباس صاحب کے سرائیکی زبان میں لکھے جانے والے جادوئی حقیقت نگاری کے عکاس اس انوکھے اور غیر معمولی ناول کو ادارہ عکس پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ اس کا سرائیکی سے اردو رواں اور سہل ترجمہ منور آکاش صاحب نے کیا ہے۔ موجودہ گمبھیر سیاسی و سماجی صورتحال کے تناظر میں، اپنی دھرتی سے محبت، خلوص، رواداری اور مقامیت کی خوشبو سے لبریز ایسے عمدہ فکر افروز ناول کی اشاعت پر محترم رفعت عباس صاحب اور دیگر اصحاب علم کو دلی مبارکباد۔

Facebook Comments HS