سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا ہے


گزشتہ روز بازار سے گزر رہا تھا تو بیچ چوراہے ایک شخص پاکستانیوں کے لیے حب الوطنی اور پاکستانیت کا سامان بیچ رہا تھا، اور ساتھ ہی ساتھ اسپیکر پہ گونجتے نغمے اس جذبہِ حب الوطنی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے تھے۔ میں بھی جب اس اسٹال کے قریب سے گزرا تو میرے جذبہِ حب الوطنی نے گوارا نہیں کیا کہ پاکستانیت کا لبادہ اوڑھے بغیر اسی طرح گزر جاؤں اسی لیے اس اسٹال والے سے اس پرچم کی قیمت پوچھی اور اس کی بتائی ہوئی قیمت سنی تو سوچا کچھ بھاؤ تاؤ کر لوں، لیکن فوراً دل میں خیال آیا کہ کہیں یوں بارگیننگ کرنا میرے جذبہِ حب الوطنی پہ شک کا باعث نہ بن جائے، اس لیے اس کی طلب کی گئی رقم اسے تھما دی اور موٹر سائیکل کی کِک مار کے نکلنے ہی لگا تھا کہ وہ پھر مخاطب ہوا کہ : بھائی موٹر سائیکل پہ لَگانے  کے  لیے  جھنڈا لے لیں

اب پھر یہاں اسی خدشے نے جنم لیا اور میں نے موٹر سائیکل کو بھی پاکستانی بنا دیا۔ وہ جھنڈا تھماتے ہی اس نے میری طرف دیکھا ہی تھا کہ میں سمجھ گیا کہ اب یہ میرے جذبہِ حب الوطنی سے فائدہ اٹھا کے مجھے ایک عدد بیج بھی فروخت کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اس کے بولنے سے پہلے ہی بیج بھی طلب کر لیا اور نکل کھڑا ہوا۔

اب میرے پاس اپنے آپ کو محب وطن پاکستانی ثابت کرنے کے سارے لوازمات موجود تھے۔ اب میں مکمل حب الوطنی سے لبریز ہو چکا تھا۔ اب میں بے شک اشارے پہ پہنچتے ہی بند اشارہ توڑ کے گزر جاؤں کسی کو میری حب الوطنی پہ شک نہیں ہونا چاہیے۔ اب اگر میں اپنی گاڑی کو پاکستانی پرچموں سے رنگ کے راہ چلتی اپنی ہی قوم کی بیٹیوں کو ہوس بھری نظروں سے گھوروں اور میرے شَر سے میرے ہم وطن غیر محفوظ ہوں پھر بھی میری پاکستانیت پہ کوئی فرق نہیں آنا۔

میرے پیارو! اب اگر میں دو قومی نظریے اور پاکستان کی بنیاد کو ہی جھٹلا دوں تب بھی کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ میری حب الوطنی پہ سوال اٹھائے۔ اب اگر میں پاکستان میں قومیت کی بنیاد پہ فساد برپا کروں تب بھی میں محب وطن ہی رہوں گا۔ اب بے شک میں قانون توڑوں، رشوت خوری کروں لیکن سینے پہ بیج سجا لینے کی وجہ سے میری پاکستانیت پہ کوئی فرق نہیں آنے والا۔ آزادی کے دنوں میں بے شک میں بینڈ باجوں، بے ہنگم ٹریفک اور مختلف دوسرے طریقوں سے میں اپنے ہم وطنوں کے لیے اذیت کا باعث بنوں لیکن گاڑی پہ لگایا گیا جھنڈا میری پاکستان سے محبت کے لیے کافی ہے۔ میں سیاسی وابستگی کی وجہ سے مخالفین کے اچھے کاموں میں بھی کیڑے نکالوں اور میرے دیس کو جس یکجہتی کی ضرورت ہو اسے پارا پارا کر دوں پھر بھی میں پکا سچا پاکستانی ہوں۔ میں اپنے گھر کو تو صاف کروں لیکن کچرا کوڑا کرکٹ باہر گلی محلے میں سڑکوں نالوں میں پھینکتا پھروں لیکن پاکستان سے محبت ثابت کرنے کے لیے چھت پہ لہراتا پرچم کافی ہے۔ آزادی کے دنوں میں مختلف سیاحتی مقامات کو گندگی کا ڈھیر بنا کے اپنے پہلو میں پڑے جھنڈے کو اٹھا کے ہوا میں لہرا دینا اور ساتھ یہ گنگنا کے :

” #سسسسب۔ سے۔ اُونچا۔ یہ۔ جھنڈا۔ ہمارا۔ ہے“

ہی اس پرچم کو اقوام عالم میں بلند مقام دلانے کے لیے کافی ہے۔ کُنڈے کی بجلی سے 14 اگست کی رات اپنے گھر پہ چراغاں کرنا بھی میری وطن سے محبت کا اظہار ہے۔ یعنی اپنے اندر جملہ برائیوں کو لیے قدم قدم پہ ملکی قوانین کو توڑنے اور اپنی ذات کی حد تک مختلف ملکی مفادات کے برخلاف اقدامات کرنے کے باوجود بھی میں ایک عدد جھنڈا لہرا دینے سے پکا سچا پاکستانی بن جاتا ہوں۔

اور ہاں دوستو!

اس اگست میں پاکستان سے محبت کو حقیقی محبت میں بدلنے کے لیے ہم میں سے ہر ایک یہ تہیہ تو کر لے کہ میں کوئی ایسا عمل اختیار نہیں کروں گا جو میرے دیس کے لیے کسی بھی درجے میں نقصان یا شرمندگی کا باعث بنے۔ پھر ہم حقیقی معنوں میں یہ کہہ سکیں گے کہ :

” #سب۔ سے۔ اونچا۔ یہ۔ جھنڈا۔ ہمارا۔ ہے“

Facebook Comments HS