دو قومی نظریہ اور تشکیل پاکستان


پاکستان کو اب اپنے مفہوم و معانی، مدعا اور کردار کے حوالے سے ایک نظریہ کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ اس پیش پا افتادہ بات کو ایک طویل عرصے سے اکتا دینے کی حد تک دہرایا جا چکا ہے۔ اور اب اس کو ایک بدیہی صداقت سمجھا جانے لگا ہے۔ اس تصور کی متواتر جارحانہ وکالت نے ان تمام مساعی کو پس پشت ڈال دیا ہے جو خاص طور پر پاکستان کے علمی اداروں میں معروضی تجزیوں کے لئے کی گئیں۔ اس سے بعض مخصوص گروہوں کے علاوہ پاکستان کی ہیئت حاکمہ کے سیاسی مقاصد کو بھی تقویت ملتی رہی ہے۔ سنجیدہ دانش ورانہ کوششوں کی غیر موجودگی میں پاکستان کا تصور ایک اشکال ہی رہتا ہے۔ مندرجہ ذیل تحریر میں اس تصور میں موجود الجھنوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان کی تخلیق، جیسا کہ کہا جاتا ہے، دو قومی نظریے پر منحصر ہے، یعنی ہندو اور مسلمان جو ہندوستان میں نمایاں حد تک الگ اور مختلف قوموں کی حیثیت میں اور بعض ادوار میں باہم متصادم ثقافتی گروہوں کے طور پر بودوباش رکھتے تھے۔ اگرچہ یہ نزاعی یا بحث طلب مسئلہ ہے کہ ہندوستان میں دو ہی قومیں بستی تھیں، قطع نظر اس بات کے کہ لفظ ”قوم“ کی تشریح کس طرح کی جاتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دو سب سے بڑے گروہ ہندوؤں اور مسلمانوں ہی کے تھے۔ ان دونوں ثقافتوں گروہوں کی ہندوستان میں اپنی ایک تاریخ اور اپنا تہذیبی پس منظر ہے اور دونوں خود کو ایک منفرد تشخص کا حامل اور اپنے طور پر برتر سمجھتے ہیں جن کی اپنی مختلف خصوصیات ہیں۔ تاہم ہندوستان کی سیاسیات کے تناظر میں ہر گروہ کا تشخص اور اتحاد ایک دوسرے گروہ کی موجودگی سے تقویت پاتا تھا اگر خالی ہندوؤں اور مسلمانوں ہی کو لیں تو ان میں مزید قومیتوں، فرقوں، نسلی اور لسانیاتی گروہوں میں ذیلی تقسیم تھی۔

ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست کی تخلیق کا تصور تشکیل پانے میں خاصا وقت لگا جیسا کہ ہندوستان میں تحریک آزادی کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے۔ مسلم لیگ جو تخلیق پاکستان کے ذمہ دار جماعت تھی، 1906 ء میں اپنی تشکیل کے وقت ہی ایک ایسی جماعت کے طور پر تشکیل دی گئی تھی، جو برطانوی سامراج کے لئے وفاداری کے جذبوں کو ابھارے گی اور ہندوستانی مسلمانوں کے مفادات اور سیاسی حقوق کا تحفظ کرے گی۔

مسلم لیگ کو علاحدہ ریاست یا ریاستوں کے تصور کو متشکل کرنے میں 34 سال کا عرصہ لگا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ تجربے نے ان کو سکھایا تھا کہ وہ اپنی ثقافت کے تحفظ کے لئے غیر منقسم ہندوستان میں ہندو قیادت پر بھروسا نہیں کر سکتے، چاہے انڈین نیشنل کانگرس اور گاندھی اپنے سیکولر اور انسان دوست ہونے کا کتنا ہی پرچار کریں۔

یہ مارچ 1940 کی بات ہے جب قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔ جن علاقوں میں مسلمان اقلیت تھے وہاں مسلمانوں میں عدم تحفظ کا شدید احساس موجود تھا سوائے مسلم بنگال کے جہاں 1905 ء میں لارڈ کرزن کے عہد میں ان کا الگ صوبہ بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل وہاں بھی عدم تحفظ کا ویسا ہی احساس پایا جاتا تھا، اور پھر اس وقت جن بنگال کے دونوں حصوں کو پھر سے ملا دیا گیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے جاگیر دار اور قبائلی لیڈروں کے زیر اثر تھے۔ اگرچہ اقلیتی صوبوں کے مسلمان اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکتے تھے کہ علیحدہ ریاست یا ریاستوں کے قیام سے مسلمانوں کا کس طرح تحفظ ہو سکے گا یا وہ کیوں کر اس قابل ہوں گے کہ ان کی ثقافت اور مذہبی تشخص کو قائم رکھ سکیں۔

وہ لوگ جو تحریک پاکستان کی تاریخ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلی بار آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1930 ء میں اقبالؔ نے اپنے صدارتی خطبہ میں مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے مثبت نظریاتی عنصر کا اظہار کیا تھا۔ ان کی تجویز تھی کہ ہندوستانی برصغیر میں ایک سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس سے باہر تخلیق کی جائے۔ اس تجویز کا ٹھوس نتیجہ تقریباً وہی ہے جو اب پاکستان کے نام سے موسوم ہے۔ لیکن اقبال اور دوسرے مسلم دانشور تسلی بخش طور پر اس کشاکش کو ختم نہ کرسکے جو اسلامی نقطہ نظر کی ہمہ گیری اور اس کو ایک واحد ثقافتی اکائی میں محدود کرنے کے درمیان موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنے لئے قوم کی کوئی واضح اور معین تعریف نہ مل پائی۔ ویسے تعجب کی بات ہے کہ یہ مملکت جس کو اپنی تخلیق کے بعد ابتدائی چند سال کے عرصے میں گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیسے قائم و دائم رہی! اس کا سہرا عوام کے سر ہے جنھوں نے اپنی قوت ارادی سے پاکستان کی بقاء کے لئے تگ و دو کی۔ عوام کی ابتدائی نیک ارادی قوت کے باوصف تصوراتی خلجان اور قوم میں ایک مضبوط دانشمندانہ ثقافت کے فقدان نے قومی طور پر متحرک ایثار پیشہ اور لوگوں کو قابل عمل آئینی ڈھانچے اور اچھی حکومت سے محروم کر دیا۔

اس فکری پراگندگی کے نتیجے میں بحث چھڑ گئی کہ کس طرح کی ریاست ہو گی؟ آیا اسلامی ریاست جیسا کہ قدامت پسندوں کا خیال ہے اور جن کی پشت پر غیر تعلیم یافتہ اور آسانی سے جوش میں آ جانے والے عوام ہیں یا ایک جدید ریاست جیسا کہ خصوصاً مسٹر جناح اور عموماً دوسرے لیگی لیڈروں کا خیال تھا۔ جسے جماعت اسلامی نے غیر اسلامی قرار دے دیا تھا اور اپنے ارکان کو سرکاری ملازمت کرنے سے منع کر دیا تھا کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ایک غلط ریاست کی ملازمت بھی گویا ایک برائی کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ریاست خود کو ایک اسلامی ریاست قرار دینے کا اعلان کرے۔ اس ضمن میں انھوں نے خود ایک مہم کا آغاز کیا، منظم مظاہرے کیے اور اس مقصد کے لئے لاکھوں پوسٹ کارڈ چھپوا کر دستور ساز اسمبلی کو ارسال کیے۔ مولانا مودودی کی دلیل یہ تھی کہ اس طرح اعلان کرنے کا مفہوم یہ ہو گا کہ گویا کوئی فرد اپنے ہونے یا اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتا ہے اور پھر اس طرح کے اعلان کے بعد اپنے عقیدے کے مطابق پیش قدمی کرنی لازمی ہو جاتی ہے۔ اس وقت کسی نے اس دلیل کا جواز طلب نہ کیا بلکہ اس کو ایک بدیہی صداقت کے طور پر قبول کر لیا گیا حالاں کہ اس کے تین حل طلب پہلو تھے (الف) اعمال یا افعال ہمیشہ نیتوں یا ارادوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، (ب) ریاست گویا انسانی افراد کی مانند ہے، جو اسلام قبول کرنے کے لیے ایک اعترافی اعلان کرتی ہے اور یوں ریاست اور شہریوں کے تعلق کو قانونی حیثیت مل جاتی ہے۔ (ج) مدینہ میں رسول کریم ﷺ کے عہد میں جو ریاست قائم کی گئی تھی وہ اس طرح کی ایک اسلامی ریاست تھی جیسا کہ علماء کا موجودہ طبقہ سمجھتا ہے۔ ان پہلوؤں پر اگر یہ مسلمہ طور پر غلط نہیں ہیں تو بھی خاصے غور و خوض کے بعد تشریح اور تصوراتی وضاحت کی ضرورت ہے۔ مذہبی لیڈروں کے ارادوں کو اگر شک کی نظر سے نہ بھی دیکھا جائے تو بھی یہ بات درست نہیں ہے کہ اپنے ذہنی افلاس اور بیسویں صدی کی ایک مملکت کے رموز کے بارے میں ناواقفیت سے وہ اس مغالطے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اسلام نے ایک ہزار سال پہلے زندگی کے تمام پہلوؤں اور تمام مسائل کا مکمل جواب دے دیا تھا جن میں اقتصادیات، سیاسی اور قانونی ڈھانچے وغیرہ کے مسائل شامل ہیں لہذا وہ کسی نہ کسی شکل میں ایک ایسی مثالی ریاست کو دوبارہ وجود میں لا سکتے ہیں جیسا کہ ان کی دانست میں اسلام کے صدر اول میں موجود تھی۔

Facebook Comments HS