ہمارے سماجی رویے
سماجی ترقی میں سماجی رویوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی جب اپنے ملک میں آتے ہیں اور ان سے وہاں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو یہی جواب ملتا ہے کہ وہاں کے سماجی رویوں اور یہاں کے سماجی رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ذیل میں ہم اپنے سماجی رویوں کا جائزہ لیتے ہیں :
قانون: قانون کو ہم محض ایک کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں تو ہمارے ہاں اکثریہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ قانون ہی کیا جسے توڑا نہ جائے۔ اسی لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اکثر ستو پی کر سوئے رہتے ہیں۔ سو اگر پبلک مقامات پر سگریٹ پینا منع ہے تو کوئی روک کے تو دکھائے۔ ملاوٹ کرنا جرم ہے تو کوئی پکڑ کے تو دکھائے۔ بلکہ اس معاملے میں دیدہ دلیری کی یہ حد ہے کہ بہت سے غیرقانونی کام عموماً قانون کی رکھوالی کرنے والوں کی زیر سرپرستی ہوتے ہیں۔ ہمارا قانون اتنا لچک دار ہے کہ ہر طبقے کے لئے قانون کا اطلاق شہری کے سوشل اسٹیٹس کے عین مطابق ہوتا ہے جس کی بہترین مثال یہ ہے کہ سائیکل والے کے پاس سے اگر چھری بھی برآمد ہو جائے تو دھر لیا جائے گا لیکن گاڑی والا چھت پہ توپ بھی لاد کر لے جائے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
جمہوریت: اگرچہ جمہوریت سے مراد جمہور کی نمائندگی ہے لیکن ہمارے ہاں شخصی آمریت کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ جاگیر دار اور سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کے قائدین کی اولاد، پھر ان کی اولاد کی اولاد کی حکومت کو عرف عام میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ یہی رویہ نچلی سطح پر بھی ہے کہ ایک ایم این، ایم پی اے یا سینیٹر اگر مر جاتا ہے تو اس کی اولاد اس کی جانشین بن جاتی ہے یوں جمہوریت پھلتی پھولتی رہتی ہے۔
سیاستدان: بڑی بڑی قیمتی گاڑیوں میں بیٹھ کر الیکشن مہم چلانا، ووٹ خریدنا، دھاندلی کرنا یا کرانا، برادریوں کو قابو کرنے کے لئے ان برادریوں کے بے ضمیر بابوں کو قابو کرنا، کسی بڑی پارٹی کو ڈونیشن دے کر ٹکٹ خریدنا، پھر کوئی تگڑا امیدوار آپ سے زیادہ پیسہ لگا دے تو راتوں رات متبادل پارٹی تلاش کرنا، وژن اور منشور کو پیسے تلے روند دینا، رشتہ داروں، دوستوں اور کاسہ لیسوں کو نوازنا۔ ووٹ ڈالنے والی عوام کی اکثریت کا اپنے امیدوار کے لئے معیار بھی کچھ ایسا ہے اور عوام کے ووٹ ڈالنے کی سب سے کڑی شرط یہ ہے کہ امیدوار ان کے طبقے سے بالکل تعلق نہ رکھتا ہو بلکہ لیڈر اور راہنما صرف وہ ہوتا ہے جس کے پاس دھول اڑاتی لینڈ کروزر ہو، گارڈز کی فوج ہو، پیسے کی ریل پیل ہو، تن کا اجلا ہو من کا چاہے میلا ہی کیوں نہ ہو۔ نوکری دلا سکتا ہو، مخالفوں کو پھنسا سکتا ہو، تھانہ، کچہری میں اس کی چلتی ہو، قانون سازی کیا چیز ہوتی چاہے اسے سرے سے ہی پتہ نہ ہو۔ ان اوصاف کے سوا کسی کے پاس کچھ ہو تو اس کو ہم سرے سے سیاستدان تسلیم ہی نہیں کرتے۔ شاید ہی کوئی دانشور، پروفیسر یا شریف آدمی کسی سیاسی جماعت میں ملے۔
کرپشن: کہنے کو تو کرپشن بہت بری چیز ہے اور سب متفق ہیں کہ اسے ختم کیا جائے لیکن اس کرپشن کی بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے ہمارا رویہ کچھ ایسا ہے کہ ”چھتر مار لو لیکن صاحب ذرا جلدی کیونکہ اور بھی بہت سے کام ہیں“ ۔ پیسے جتنے مرضی لگ جائیں لیکن کام ہو جانا چاہیے۔ دنیا میں کرپشن کی روک تھام کے لئے جبکہ ہمارے ہاں کرپشن کے فروغ کے لئے ادارے قائم ہیں۔
مذہب: پاکستانی مذہبی حوالے سے بہت پر جوش ہیں، اس حوالے سے ہمارا سارا وجود ہی چلتی پھرتی characteristic irony ہے۔ جتنے خشوع و خضوع سے عبادات کرتے ہیں اتنے خشوع و خضوع سے غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام بھی کرتے ہیں۔ ٹیکس چوری کر کے حج کرتے ہیں، مزدور کا استحصال کر کے زکٰوۃ دیتے ہیں اور ہمسائے میں چاہے کوئی بھوکا ہو لیکن عمرہ کرنا زیادہ ضر وری سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو بھوکا ننگا کر کے پھر ان کے لئے دستر خوان آباد کرتے ہیں۔ مذہب سے بہت لگاؤ ہے لیکن بچوں کے لئے عالم دین کی بجائے ڈاکٹری، انجینئرنگ، افسری، پروفیسری یا ایسے شعبے پسند کرتے ہیں جن میں عزت اور پیسہ ہو۔
مردم شناسی: ہمارے نزدیک صرف وہی انسان ہے جو ہمارے کسی کام آ سکے باقی کسی سے کوئی تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں اور کام کا آدمی صرف وہی ہے جس کے پاس پیسہ ہویا پاور ہو اور یہ چیزیں اکثر جاہلوں کے پاس ہوتی ہیں کہ پیسہ اور پاور دونوں سگی بہنیں ہیں، سو جہلاء ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ کام کے آدمی ہیں، ان کو ہم سر آنکھوں پہ بٹھاتے ہیں چاہے وہ ہمارا سر اور آنکھیں دونوں پھوڑ دیں جبکہ دانشور، اساتذہ اور دیگر باشعور قسم کے لوگ ان سے ہم خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں کہ ان سے تعلق اور دوستی رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔ ان سے ملنا کیا ہے سوائے نصیحتوں اور لیکچر کے۔ چنانچہ ہم پیسے اور پاور والے بندے کی بہت قدر کرتے ہیں اور ان جہلاء کی خوشامد کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے چاہے وہ ہمیں جوتے کی نوک پر ہی کیوں نہ رکھیں۔ سو اس حوالے سے ہم بہت مردم شناس قوم ہیں۔
صفائی: صفائی کو ہم نصف ایمان مانتے ہیں اگر صفائی سے پورا ایمان حاصل ہوتا تو یقیناً ہم اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے اور صفائی کا خیال رکھتے، آدھے ایمان کے لئے اتنا تکلف اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔ بچپن میں ہمارے گاؤں تک میں ٹی ایم اے والے مچھر تلف کرنے کا سپرے اور صفائی ستھرائی کا عملہ بھیجتے تھے۔ شاید اب ان کے پاس فنڈز نہیں ہوں گے یا اگر ہیں تو یقیناً ان بیچاروں کی اپنی ضروریات بھی ہوں گی، جب اپنے گھر کی ضروریات ہی پوری نہیں ہوتیں تو ان فنڈز کو گلیوں محلوں میں کیوں ضائع کیا جائے۔ اور جب متعلقہ ادارے اس سلسلے میں چپ ہوں تو بھلا عوام کو کیا ضرورت ہے بولنے کی۔ سو سڑکیں ہوں یا پارک، پہاڑ ہوں یا میدان جا بجا گندگی کے پھیلے ہوئے ڈھیر گواہ ہیں کہ ہم کتنے ایمان والے ہیں اور ہمارے صفائی ستھرائی والے اداروں میں کتنے مومن ہیں۔
سوک سینس: ہماری سوک سینس اپنی ذات تک محدود رہتی ہے۔ یعنی ہماری سوچ اپنے سر سے شروع ہوتی ہے اور اپنے پاؤں پر ختم ہو جاتی ہے۔ ہم تمام خراب امور کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھنا ہے لیکن گھر کے سامنے گلی کو صاف رکھنے کی ذمہ داری نہیں لیتے۔ محکمہ سوئی گیس یا واٹر والوں کو ہزاروں روپے رشوت دے کر کنکشن حاصل کریں گے لیکن اس دوران جو کھدائی ہم نے سڑک پر کی ہو گی اسے پر کرنے کے لئے دو چار سو روپیہ خرچ نہیں کریں گے۔ حبیب جالب صاحب نے جو کبھی کہا تھا یہ جو دس کروڑ ہیں جہل کا نچوڑ ہیں وہ اب پچیس کروڑ ہیں۔
تعلیم: سقراط نے یوں ہی کہہ دیا تھا کہ تعلیم کا مقصد سچائی کی تلاش ہے۔ اصل میں تو تعلیم سے مراد صرف اور صرف نوکری کا حصول ہے۔ سو ہمارا نظام تعلیم بھی ایسا ہے کہ جس سے فکر کو جلا نہیں ملتی کیونکہ ہم نے تعلیم کا مقصد ہی نوکری سمجھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں ڈگری یافتہ تعلیم شدہ شخص پاکستان میں چھوٹا موٹا کاروبار کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے جبکہ باہر میں نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو ہوٹلوں پہ برتن دھوتے اور سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرتے اور کسمپرسی کی زندگی گزارتے دیکھا ہے لیکن اپنے ملک میں چھوٹے موٹے کام کرتے یا کوئی سٹارٹ اپ لیتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یونیورسٹیوں میں سکالرز کی بجائے دولے شاہ کے چوہے زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمارے طلبا کو تحقیق، مطالعہ اور کتب بینی سے کوئی شغف نہیں، ہاں البتہ اچھے جی پی اے سے بہت محبت ہے۔


