بابڑہ قتل عام: پشتونوں کا کربلا



بارہ اگست 1948 پاکستان کی پہلی سالگرہ سے صرف دو روز قبل خدائی خدمتگار کے تقریباً 25000 ہزار پیروکار باچا خان ( خان عبد الغفار خان) کی گرفتاری کے خلاف بابڑہ، چارسدہ کے مقام پر ایک احتجاجی جلسہ کر رہے تھے، اس وقت کے ظالم حاکم یعنی وزیراعلی صوبہ سرحد ( خیبرپختونخوا) خان عبد القیوم خان نے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کو بلا کر ان پر گولیاں برسائی جس کے نتیجے میں 600 معصوم اور نہتے خدائی خدمتگاروں کو شہید کر دیا گیا۔ یوں ریاست نے اپنی پہلی سالگرہ پر عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکاروں کے خون کا دریا رواں کیا، بتایا جاتا ہے کہ ہسپتالوں کو ہدایات جاری کئی گئیں کہ بابڑہ کے زخمیوں کے لئے ہسپتالوں کے دروازے بند کیے جائے۔

قیوم خان نے ’چوک یادگار‘ پشاور میں تقریر کرتے ہوئے کہا، ” میں نے خدائی خدمتگاروں کو وہ سبق دیا جس کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے، وہ تو خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس گولیاں ختم ہو گئی ورنہ ان میں سے کوئی بھی زندہ گھر نہ جاتا، خدائی خدمتگار ایک غدار تحریک ہے جن کا نام و نشان میں مٹاؤں گا، یہ انگریز کی نہیں بلکہ مسلم لیگ کی حکومت ہے جس کا نام قیوم خان ہے“

پاکستان کے دیگر صوبوں میں قیوم خان کے اس قتل عام کی مذمت کرنے والے کم اور اس کے اس جبر کربلا کی تعریف اور سراہنے والے زیادہ تھے اس وقت کے ”روزنامہ نوائے وقت“ کا ادارتی تبصرہ کچھ یوں تھا،

” صوبہ سرحد کے وزیراعلی خان عبد القیوم خان مبارکباد کے مستحق جنہوں نے غداروں پر کڑی نگرانی رکھی ہے، عبد القیوم خان پر ہزار اعتراض کر سکتے ہیں مگر جہاں تک غداروں کے خلاف کارروائی اور ان کے بیخ کنی کا تعلق ہے ہم انہیں خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہیں“

خدائی خدمتگاروں نے اس ہولناک اور دردناک واقعے پر عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا لیکن آج تک نہ کمیشن بنا اور نہ اس وقت کے ظالموں کو کس قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔

اس کا مطلب ہے پاکستان میں پیدائش ہی سے کبھی جمہوریت نہیں بلکہ آمریت تھی اور نہ ہم نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے اگر اس وقت کے ظالموں کے خلاف پورا ملک ہمہ آواز ہو کر نکلتا اور ان کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا تو آج نہ پی ٹی آئی کے ساتھ یہ ہو رہا ہوتا اور نہ کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ۔

بابڑہ کے واقعے کو تاریخ سے نکال کر ان کو غدار کہا گیا تا کہ یہ قوم کبھی تاریخ سے سبق نہ سیکھ سکے۔

Facebook Comments HS