(6) بابا حاجی شیر دیوان صاحب


میرا گاؤں چاولی مشائخ بابا حاجی شیر دیوان صاحب نامی مشہور و معروف اور تاریخی حیثیت کی حامل مذہبی شخصیت کے نام پر رکھے گئے قصبے دیوان صاحب کے پہلو میں واقع ہے۔ یہیں پر بابا صاحب کا مزار بھی ہے۔ اس دربار کی کرامات کی مناسبت سے گاؤں میں نت نئی کہانیاں گردش کیا کرتی تھیں۔ کبھی یہ پتا چلتا کہ ایک شادی شدہ جوڑا بابا جی کے قدموں سے لپٹ کر رات بھر رو رو کر اولادِ نرینہ کے حصول کے لیے دعا مانگتا رہا۔ صبح کے وقت تھوڑی دیر کے لیے آنکھ لگی تو بابا جی اُن کے خواب میں آئے اور بولے۔

اُٹھو اور اپنے بیٹے کو سنبھالو۔ وہ دونوں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور دیکھا کہ ایک خوبصورت نوزائیدہ بچہ اُن دونوں کے درمیاں میں اطمینان سے لیٹا اپنا انگوٹھا چوس رہا ہے۔ خاتون نے بچے کو اٹھا کر اپنی چھاتیوں سے لگایا تو چھاتیوں میں دودھ اتر آیا۔ اس نے بچے کو دودھ پلانے کی کوشش کی تو بچہ غٹ غٹ کر کے دودھ پینے لگ گیا اور یہ نوجوان جوڑا اپنے من کی مراد پوری ہونے پر خوش و خرم اپنے گھر کو لوٹ گیا۔ ایک نوجوان جو ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتا تھا پاگل ہو گیا۔

اس کے گھر والوں نے اسے بابا جی دربار پر لا کر ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا اور خود یہاں پر نو راتا کاٹنے کی نیت سے قیام پذیر ہو گئے۔ نو راتا سے مراد بابا کے مزار پر مسلسل نو راتیں اس طرح گزارنا ہے کہ اس دوران پاؤں میں جوتا نہیں پہننا۔ بابا جی کے لنگر کے علاوہ باہر سے کسی بھی چیز کو لے کر کھانے پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔ ان نو راتوں کے عرصے میں وقت کا ہر لمحہ دربار شریف پر ہی رہتا ہے۔ نمازیں، نوافل، تسبیحات، مناجات اور دعاؤں میں مشغول رہنا نو راتے کے آداب میں شامل ہے۔

نو راتے کے اختتام پر جب اس خاندان کے لوگ روانگی سے پہلے اپنے بیٹے سے ملنے آئے تو وہ بھلا چنگا تھا۔ بلکہ اس کے پاؤں کی زنجیر کا قفل خود بخود ہی کھل چکا تھا۔ ان لوگوں نے وہاں پر خوب خیرات کی اور ہنسی خوشی گھر لوٹ گئے۔ اب وہ گاہے بگاہے دربار شریف پر حاضری دینے اور اس کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار ایک خاتون جس کے بیٹے کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ کوٹھی لگ چکا تھا۔ بابا جی کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئی۔

وہ سارا دن دربار میں بیٹھی رو رو کر اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے دعا کرتی رہتی۔ نماز، نوافل اور تسبیحات کے بعد جو وقت بچتا۔ دربار پر جھاڑو دیتی رہتی۔ چھ ماہ اسی حالت میں گزرنے کے بعد ایک دن اچانک اس کا وہی بیٹا اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے دربار میں آ ملا اور اس نے بتایا کہ عدالت نے اسے اپیل میں با عزت برّی کر دیا ہے اور وہ دونوں ماں بیٹا ہنسی خوشی اپنے گھر کو لوٹ گئے۔ محبت کے روگی بھی اپنی اپنی مرادیں حاصل کرنے کے لیے دربار پر حاضری دیتے۔

منتیں مانتے، نو راتے کاٹتے، دربار پر جھاڑو دیتے، دربار کے متولی اور جانشین بھی انہیں حوصلہ اور تسلی دیتے۔ ایسی محبت کو برا خیال کرنے کی بجائے مذہبی شعائر کا حصہ خیال کیا جاتا اور اس عشق مجازی کو عشقِ حقیقی کی پہلی سیڑھی تصور کیا جاتا تھا اور دربار میں موجود لوگوں کی اکثریت عشقِ حقیقی کی اسی پہلی سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش میں مصروف کار نظر آتی۔

دیوان صاحب میں جابجا پیلو کے درخت کے ساتھ پاگل زنجیروں کی مدد سے باندھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ لوگ باگ اور بچے بالے انہیں چھیڑتے اور جواباً عام طور پر گالیاں وصول کرتے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک خاص وقت گزرنے کے بعد یہ پاگل صحت یاب ہو جاتے ہیں اور اُن کے پاؤں میں ڈالی گئی زنجیر کا قفل خود بخود کھل جاتا ہے۔ مزار کے بالکل سامنے بابا جی کی لکڑی کی ایک مطہری فرش پر گڑی ہوئی تھی۔ اس کے بارے میں عام خیال تھا کہ جب یہ مطہری سطح زمین کے بالکل برابر ہو جائے گی تو قیامت آ جائے گی۔

قیامت کو روکنے کے لیے متولیوں نے اس پر چاندی کا ایک خول چڑھا رکھا تھا۔ مزید احتیاط کے لیے چاندی کا خول چڑھا ہوا لکڑی کا ایک ٹوپہ اسے ہر وقت ڈھانپ کر رکھتا لیکن زائرین عموماً مزار شریف پر فاتحہ خوانی کے بعد اس مطہری کی زیارت کرنا اور عقیدت مندی اور محبت کے ساتھ اس کے اوپر ہاتھ پھیرنے کو اظہارِ عقیدت کا جزو لازم خیال رکھتے تھے۔ دریا کے مشرقی دروازے کے ساتھ ہی ایک قدم کنواں موجود تھا۔ وہاں پر ایک متولی صف بچھا کر اس پر گلہ رکھے ہوئے براجمان ہوتا اور وہ ہر آنے والے کو بتاتا کہ اس کنویں میں بابا فرید چودہ سال تک ایک کچے دھاگے کے ساتھ الٹے لٹک کر چلہ کش رہے اور وہ زائرین کو کنویں میں لٹکتے ہوئے سوت کے مذکورہ متبرک دھاگے کی زیارت بھی کرواتا اور ساتھ ساتھ چندہ بھی وصول کرتا جاتا۔ ساتھ ہی شاہ شکور کا بھی ایک دربار ہے۔ لوگ وہاں پر بھی فاتحہ خوانی اور زیارت کے لیے حاضری دیا کرتے تھے۔

سب سے پہلا سلام بابا فلک شیر کو۔ دیوان صاحب میں حاضر ہونے والے زائرین کو یہ فقرہ بار بار سنایا جاتا۔ بابا فلک شیر بابا حاجی شیر کے استادِ محترم تھے اور اُن کا دربار تھوڑی دور عام قبرستان میں ایسے ہی خستہِ حال، عدم توجہی اور زمانے کی دست برد کا شکار تھا۔ جیسے کہ اساتذہ کرام عموماً بذاتِ خود ہوتے ہیں۔ بہرحال متولی حضرات زائرین کی اس دربار تک راہنمائی کرتے اور وہاں پر سلام کرنے کے بعد ہی اکثر زائرین بابا حاجی شیر کے دربار پر حاضر ہوتے۔

Facebook Comments HS