کیا اس مقام سے واپسی کا راستہ ہے
دنیا بھر کے بہت سے ممالک موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے شدید خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ واقعات کے پس منظر میں کیا ہے؟ کیا دنیا اس موسمیاتی بحران میں کسی ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں؟ شمالی امریکہ میں جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے۔ چین حالیہ دنوں شدید گرمی کی لہر کے بعد بارشوں کے ایک طوفان کی زد میں آیا اور بیجنگ میں 140 سالوں میں سب سے زیادہ بارش ہوئی۔ یورپ میں بھی ہیٹ ویو دیکھی جا رہی ہے۔ آخر ان سب کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ ان سوالوں کا جواب ہر ذہن تلاش کر رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے دنیا غیر معمولی حد تک گرم ہو گئی ہے جس کی بڑی وجہ فضا میں خارج ہونے والی گرمی ہے جو جنگلوں میں آگ، طوفان، سیلاب، شدید خشک سالی کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔ صورتحال اس لیے بھی سنگین ہے کہ ایسا کسی ایک خطے میں نہیں بلکہ ہر جگہ ہو رہا ہے اور یہ اندازہ ہے کہ سال 2023 کا جولائی کا مہینہ انسانی زندگی کے کئی برسوں میں سب سے زیادہ گرم جولائی کا مہینہ تھا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہر ین کا خیال ہے کہ یہ ایک عالمی رجحان ہے اور دنیا اس طرح کے واقعات کو پوری دنیا کے خطوں میں ہوتے دیکھے گی جس کے اثرات لوگوں کے لیے، فطرت کے لیے، زرعی نظام اور مجموعی طور پر معیشت کے لیے خطرناک ہیں۔
ان حالات میں فوری حل تو یہ ہے کہ فوسل ایندھن اور دیگر ذرائع کو جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیس آلودگی کے اخراج کو تیزی سے کم کیا جائے اور انسانی ضروریات کو پورا کر نے کے لیے قابل تجدید توانائی کے حصے کو بڑھا یا جائے اور ساتھ ہی دنیا کو بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لئے زیادہ لچکدار بننے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس قسم کے واقعات جلد ختم نہیں ہوں گے چاہے ہم اپنے گرین ہاؤس اخراج کو بڑی حد تک تبدیل یا کم کریں۔
ایک عام انسان ان حالات مٰیں یہ سوچتا ہے کہ دنیا آب و ہوا کی تبدیلی پر واپس نہ آنے کے مقام سے کتنی دور ہے؟
اس حوالے سے سائنس دانوں نے بہت سے ٹپنگ پوائنٹس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ لیکن سب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ قطع نظر اس کے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور کہاں نہیں اور کیا ہم نے وہ حد پار کرلی ہے جس کے بعد تباہی ہے، ہمیں صرف یہ سوچنا ہو گا کہ ان معاملات میں انتخاب ہمیشہ کسی بھی موقع پر ایک ہی ہوتا ہے۔ آیا ہم چیزوں کو بدتر بنا نا چاہتے ہیں یا بہتر۔ سو عمل کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی ایسی جلدی کر نی چاہیے کہ اس جلدی کی قیمت بھی بعد میں دنیا کو چکانا پڑے۔ سو اگر کوئی لمحہ ہے کہ واپس آیا جائے تو وہ صرف لمحہ موجود ہے
دنیا بھر کے بہت سے ممالک نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ چین نے 2060 تک کاربن غیر جانبداری کا وعدہ کیا۔ یورپ 2050 تک وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو گیا۔ تو ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس مسئلے پر کیے گئے ان تمام وعدوں نے موسمیاتی تبدیلی کے بحران کی طرف پیش رفت کو کچھ حد تک سست کر دیا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے میں بین الاقوامی تعاون واقعی اہم ہے اور پیرس معاہدہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو تمام ممالک کو یہ عہد کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کیا حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم، آخر تک، یہ واقعی ممالک پر منحصر ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں اور انہیں پورا کریں۔
چین میں اس حوالے سے واقعی مثبت اقدامات دیکھے گئے ہیں جیسے چین قابل تجدید توانائی کی اپنی تنصیب شدہ صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور چین کا باضابطہ وعدہ 2030 تک کاربن پیک حاصل کرنا اور 2060 سے پہلے کاربن غیر جانبداری حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے چین نے دنیا کی سب سے بڑی کاربن مارکیٹ تعمیر کی ہے، اور اسے بہتر بنا رہا ہے سو ایسا کر کے چین گرین ہاؤس کے اخراج کو تیز رفتار اور کم لاگت میں کم کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، یورپی یونین اور امریکہ میں بھی اس حوالے سے اقدامات دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ اقدامات پوری دنیا کی ترقی کے لئے اہم ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے دنیا مختلف ممالک میں مختلف طریقہ کار دیکھ رہی ہے لیکن یہ امید ہے کہ ہر ملک موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے لے لیے اپنے طے کردہ اہداف حاصل کرے اور اس کا فائدہ ساری دنیا کو ہو۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کو ابھی بھی بہت کچھ کرنے اور تیزی سے کرنے کی ضرورت ہے اس کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔
امریکہ کے خصوصی صدارتی ایلچی برائے آب و ہوا جان کیری نے چند ہفتے قبل چین کا دورہ کیا تھا اور ان کے دورے نے چین اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی موسمیاتی سفارتکاری کو دوبارہ شروع کیا ہے۔ یہ دون بڑی معیشتیں اگر موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر مل کر کام کریں تو سب سے اہم مسئلے کو فوری حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک چیز ہے جس سے بہت بڑا فرق پیدا کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے میتھین کے اخراج کو کم کرنا۔ میتھین ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے جو گلوبل وارمنگ کے تقریباً 30 فیصد کے لئے ذمہ دار ہے۔ اور اخراج کا سب سے بڑا انسانی ذریعہ فوسل ایندھن کی پیداوار ہے۔ لہٰذا، اگر موجودہ دستیاب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس اخراج کو جتنی جلدی ممکن ہو کم کیا جا سکے تو درجہ حرارت میں اضافے کی شرح کو تقریباً ایک تہائی تک سست کیا جا سکتا ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
چین اور امریکہ کے مابین گلاسکو اعلامیے میں میتھین کے معاملے کو بنیادی معاملے کے طور پر پیش کیا گیا اور یہ اس سال نومبر میں بین الاقوامی موسمیاتی مذاکرات میں ایک مرکزی مسئلہ ہو گا۔


