کرشن کہانیاں : ”بھادوں کی اشٹمی“
دوستو موحد اعظم ہند کے نام پر کرشن کہانیوں کے سلسلے کی پہلی کہانی۔ آپ سب کے نام۔
اس دن بادلوں کی گرج بہت خوفناک تھی۔ یمنا کے کنارے جل سے بھر چکے تھے اور کسی بھی لمحے باڑھ آ سکتی تھی۔ دیوکی اور وسودیو بہت پریشان تھے۔ اس کاراگار (جیل) میں رہتے انھیں کئی برس بیت چکے تھے۔
یہ بھارت کے اترپردیش کا شہر مدھووَن تھا جہاں زرخیز ڈھلوانی میدانوں میں قدرت کی صناعی رنگ بھرتی تھی، جنگلات انواع و اقسام کے چرند و پرند کی آوازوں سے گونجتے رہتے۔ میدان مہوا، ڈھاک، بلوط، چیڑ، دیودار، سنبل، سرپ گندھا جیسے درختوں سے بھرے تھے۔ نباتات کی بہار تھی اور ویدوں کی کمی نہ تھی۔ باغ باغیچے، یمنا کے کنارے کُنج اور کدم کی بیلیوں، تلسی کے جھاڑوں، پالاش کے درختوں اور موتیے کی خوشبو سے لدے رہتے تھے۔ یمنا ندی میں ہر رنگ کے کنول کھلتے اور ان سب کی سوگندھ سے مدہوش بگلے، مور اور پپیہے وہیں ندی کنارے اور پیڑوں پر بسیرا کیے رہتے۔
یہ مدھووَن تھا جو اب متھرا کہلاتا ہے۔ اور یہاں راجا اُگرسین حکومت کرتے تھے۔ یہ یادونشی تھے، ان کا ایک بیٹا تھا جس کا نام کنس تھا۔ مہاراجا اگرسین کے چھوٹے بھائی دیوکا کی بیٹی تھیں یہ دیوکی جن کا بیاہ مہاراجا شورسین کے بیٹے وسودیو سے ہوا تھا۔ جس دن دیوکی یادونشی وسودیو کے ساتھ بیاہی گئیں اسی دن آکاش وانی نے کنس کو آگاہ کیا کہ تم اسی دیوکی کی آٹھویں سنتان کے ہاتھوں مارے جاؤ گے۔ اسی آکاش وانی کے ڈر سے کنس نے اپنے ہی پتا مہاراجا اگرسین کا تخت الٹ دیا اور انھیں دیوکی، وسودیو سمیت قید خانے میں ڈلوا دیا۔
مہاراجا اگرسین دھرم کرم کے بہت پکے تھے۔ وہ بھگوان پر اٹوٹ وشواس رکھنے والے اور اپنی رعایا میں ہر دلعزیز تھے لیکن کنس نے راج پاٹھ سنبھالتے ہی ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ یہ گوالوں، کسانوں سے زبردستی خراج وصول کرتا تھا، جو بھی جوان لڑکی اس کے دل کو بھاتی اسے زبردستی اٹھوا لیتا، شراب، جوا، لالچ اس کی گھٹی میں پڑا تھا۔ بہت جلد رعایا اس کے ظلم سے تنگ آ گئی اور مدھوَون میں ہر جانب چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ایک دن کوئی خبر لایا کہ رشی گرگ کہتے ہیں تارن ہار کا جنم نزدیک ہی ہے جو آ کر متھرا کو کنس جیسے راکھشس سے نجات دلائے گا۔ اس خبر کے ملتے ہی متھرا میں ہر جانب خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد یہ عجیب گھٹنا ہوئی کہ لوگوں نے کنس کے سپاہیوں کو خاطر میں لانا ہی چھوڑ دیا۔
دن گزرتے رہے۔ مہاراجہ اگرسین کے وفادار سینا پتی اکرور تھے اور وہ جانتے تھے کہ دیوکی کو ساتویں حمل سے بھی لڑکا ہوا تھا جو دیوی مہامایا نے سنکرشن کے ذریعے وسودیو کی دوسری پتنی روحینی کی کوکھ میں ڈال دیا تھا جو نند گاؤں میں نندرائے جی کے گھر چھپ کر رہ رہی تھیں۔ اور اب مہارجا اگرسین، ان کے سینا پتی سمیت متھرا کے ہر فرد کو اس آٹھویں سنتان کا انتظار تھا جو دیوکی کے پیٹ میں حمل کے آٹھ ماہ گزار چکی تھی
اور یہاں کنس نے اپنے وفادار مشیروں باناسُر، نرکاسُر اور چانُور کے مشورے پر مگَدھ کے راجا جراسندھ کی بیٹیوں سے بیاہ بھی رچا لیا تھا۔ اور وہ بھی اشٹم گربھ کے انتظار میں تھا تاکہ وشنو کے اس آٹھویں اوتار کو دنیا میں آتے ہی قتل کردے۔ یوں اس کے تئیں نہ بانس رہتا اور نہ بانسری بجتی۔ ادھر کاراگار میں بیٹھے وسودیو اور دیوکی بھی یہی سوچ کر پریشان تھے کہ چھ بیٹوں کے قتل اور ساتویں بیٹے کی جدائی کے بعد اس آٹھویں اولاد کو وہ کنس کے ظلم سے کیسے بچا سکیں گے۔ آج سے ہزاروں برس پہلے جس دور کی یہ کہانی ہے وہ یُگ دواپر یُگ کہلاتا ہے۔ جسے بیتے بھی ہزاروں برس گزر چکے ہیں۔
یہ برکھا رت کے مہینے تھے جن میں حبس اور جل تھل ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ راتوں کو مینڈک ٹرٹراتے اور جھینگر بولتے ہیں۔ دن میں کوئل کوکتی اور پپیہا، پیا پیا کرتے ہیں۔ آموں کے رس کا موسم اختتام پذیر ہونے لگتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ چوماسہ گزرنے کے بعد سبھی دیوتا گہری نیند سو جاتے ہیں۔ اور پھر ان کی نیند کا اختتام آمد بہار کے ساتھ ہوتا ہے۔
اس دن بھادوں کی آٹھ تاریخ تھی اور وہ ایک ایسا ہی دن تھا جب وسودیو اور دیوکی زنجیروں میں جکڑے اس قید خانے میں بادلوں کا شور سنتے اور آنے والے وقت کی سنگینی کو محسوس کرتے، گھبراتے اور ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے دیتے نیند کی وادیوں میں اتر جاتے ہیں۔ اگر یمنا میں باڑھ آجاتی تو کنس کو متھرا بچانے کی فکر گھیر لیتی، ایسے میں وسودیو کو یقیناً کچھ وقت مل جاتا جس سے فائدہ اٹھا کر وہ آنے والے بچے کو اَکرور جی کی مدد سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کروا سکتے تھے۔ لیکن وسودیو کو بھی دیوکی کی طرح نیند نے گھیر لیا تھا۔ اسی سوتے جاگتے کی کیفیت میں وسودیو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے چاروں جانب پرکاش ہی پرکاش پھیلا ہے اور دیوتاؤں نے اس قید خانے پر پھولوں کی بارش کر رکھی ہے۔ انھیں کسی کی آواز سنائی دی لیکن آواز کے ماخذ کا کچھ پتا نہ چل سکا۔
انھیں کoا گیا کہ ابھی جس بچے نے دیوکی کی کوکھ سے جنم لیا ہے وہ اسے اٹھا کر نند گرام میں نند رائے جی کے گھر چھوڑ آئیں اور ابھی ابھی وہاں نند رائے کی پتنی یشودھا نے جس لڑکی کو جنم دیا ہے اسے اٹھا کر اس قید خانے میں لے آئیں۔ آواز ختم ہوئی تو گویا وسودیو جیسے نیند سے جاگے ہوں اور کسی ٹرانس کے زیر اثر انہوں نے اس بچے کو دیکھا جس کے ارد گرد چمپا، بیلا، کدم، مولسری، گلاب، موتیا، چنبیلی، کنول، جوہی، مالتی اور پالاش کے پھولوں کا ڈھیر لگا تھا، جیل کے تمام پہری بے ہوش تھے اور دروازے چوپٹ کھلے ہوئے تھے۔
وسودیو نے بالک کو، جو لڑکا تھا ایک گیروے رنگ کے کپڑے میں لپیٹا اور قید خانے سے باہر آ گئے۔ طوفانی بارش برستی تھی اور آندھی کے جھکڑ لوگوں کے مال مویشی اڑاتے جا رہے تھے لیکن وسودیو گویا کسی ان دیکھی قوت کے سہارے چلتے چلتے یمنا ندی کے کنارے پہنچ چکے تھے۔ اس طوفانی رات میں وہاں کھیوٹ کیسے آتا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ تیرتے ہوئے یمنا پار کریں گے۔ یہاں سے گؤکل /نندگرام نو میل دور تھا جس میں یمنا کا چوڑا پاٹ بھی شامل تھا۔ وسودیو یمنا میں اترتے ہی ڈوب گئے، پانی سے باہر صرف ان کے ہاتھ اور وہ ٹوکری دکھائی پڑتی جس میں بچہ رکھا گیا تھا۔ یمنا کی لہریں یوں اچھلتیں جیسے وہ بالک کے چرن چھونے کو برسوں بے تاب رہی ہوں۔ یہ بھادوں کی اشٹمی تھی۔ اور آدھی رات کا وقت تھا جب وسودیو نے نند گرام کا قصد کیا تھا، تقریباً برہم مہورت کے وقت وہ نند گرام پہنچے اور چپکے سے نند رائے جی کی حویلی میں داخل ہو گئے۔ قید خانے کے دروازے کھولنے اور پہرے داروں کی بے ہوشی سے لے کر نندرائے جی کے گھر تک ہر کام ایسے انجام پایا جیسے کوئی مکمل انتظام کر کے خاموشی سے کہیں چلا گیا ہو۔ اور انتظامات ایسے تھے کہ نند رائے جی کے گھر پیدا ہوئی لڑکی اٹھا کر قید خانے میں واپس لانے تک کسی کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی تھی۔
لیکن جیسے ہی وسودیو واپس کاراگار پہنچے۔ دروازوں کے پٹ خود بخود بِھڑ گئے اور پہری بھی ہوش میں آنے لگے۔
اس بچی کے رونے کی آوازوں سے پہریوں اور مخبروں نے اندازہ لگایا کہ دیوکی کی آٹھویں سنتان جنم لے چکی ہے۔ جیسے ہی یہ خبر کنس تک پہنچی وہ دوڑتا چلا آیا تاکہ اس بچے کو قتل کر سکے لیکن وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ وہ سنتان لڑکا نہیں لڑکی ہے۔ اس نے اندازہ لگایا کہ وشنو نے اس اوتار میں اسے چھل دیا ہے وہ غصے سے پاگل ہو کر اس بچی کو مارنے کے لیے لپکا لیکن وہ بچی پلک جھپکتے ہی اس کے ہاتھوں سے نکل کر دیوی کے روپ میں بلند ہو گئی اور اسے تارن ہار کے دنیا میں آنے کی خبر دے کر وہاں سے غائب ہو گئی۔
ادھر نندگرام کے باسی اس روز نیند سے بیدار ہوئے، عورتیں یمنا کنارے غسل کر کے لوٹ رہی تھیں، رہٹ چل رہے تھے اور گھروں میں چولہوں سے دھواں بلند ہو رہا تھا کہ گاؤں بھر کو خبر ملی۔ نند رائے جی کے ہاں لڑکا ہوا ہے۔ اپنے گاؤں کے مکھیا کے ہاں برسوں بعد پہلوٹی کے لڑکے کی پیدائش کی خبر سن کر گؤکل واسی جھوم اٹھے۔ کئی دن تک جشن منایا گیا، برہمنوں کو دان دیا گیا، اور کتنے ہی دن تک گاؤں والے تین وقت کا کھانا نند رائے جی کے ہاں سے کھاتے رہے۔ پھر وہ دن آیا جب اس للا کا نام کرن سنسکار ہونا طے پایا اس دن اکرور جی آئے اور نند رائے کو یہ کام خفیہ طریقے سے کرنے کے لیے کہا۔ کیونکہ کنس کے مخبر آٹھویں تتھی کو جنم لینے والے ہر لڑکے کو موت کے گھاٹ اتارتے پھر رہے تھے۔
لہذا یہ کام مہا منُی گرگ کے آشرم میں ہونا طے پایا اور خاندان کے کسی بھی فرد کو اس موقع پر دعوت نہیں بھیجی جا سکی تھی۔
مہا منُی گرگ نے سنگھ لگن اور روحینی نکھشتر میں پیدا ہونے والے اس بالک کو پہچان لیا تھا۔ ساکشات رادھیکا پتی گوگل دھام میں پدھارے تھے لہذا انہوں نے بالک کو نام دیا۔ کرشن!

