کیا آپ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنانے کے راز جانتے ہیں؟


خالد سہیل : میں نے چند دن پیشتر جب فلم اوپن ہائمر دیکھی تو مجھے ان کی سائنسی خدمات کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا۔ آپ بھی ایک سائنسدان ہیں۔ آپ کی نگاہ میں اوپن ہائمر نے امریکہ کو کیا سائنسی تحفہ دیا؟

سہیل زبیری : میری نگاہ میں اوپن ہائمر کی سائنسی خدمات بے شمار ہیں۔ امریکہ کی بیسویں صدی کی تاریخ کا ایک وہ دور بھی تھا جب امریکہ میں تھیوریٹیکل فزکس کے جتنے بھی ماہرین تھے وہ یا تو اوپن ہائمر کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگرد تھے۔

اوپن ہائمر کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ایٹم بم کی تخلیق ہے۔ ایٹم بم بنانے کا اصول تو دو جرمن سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس اصول کی بنیاد پر ایک ایسا ایٹم بم کیسے بنایا جائے جو دوسرے کسی بم کے مقابلے میں زیادہ تباہی لا سکے۔ یہ ایک بہت پیچیدہ مسئلہ تھا۔ اس پراجیکٹ کی سربراہی کے لیے اوپن ہائمر کا انتخاب کیا گیا، اور انہوں نے یہ منصوبہ انتہائی کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد فزکس ایک بحران کا شکار تھی۔ کچھ تجربات ایسے تھے جن کی توجیہہ کوانٹم تھیوری کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ اوپن ہائمر کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے کہ انہوں نے 1947 میں ایک سائنسی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں دنیا کے مشہور سائنسدانوں اور محققین کو دعوت دی گئی اور ان کے سامنے یہ جدید اور پیچیدہ سوالات رکھے گئے تا کہ ان کے جوابات تلاش کیے جا سکیں۔ ان سائنسدانوں میں شامل اوپن ہائمر کے ایک شاگرد ولیس لیمب بھی تھے جنہیں بعد میں سائنس کا نوبل انعام ملا۔

خالد سہیل: اوپن ہائمر نے سائنس کے کن موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز کی؟

سہیل زبیری: اوپن ہائمر نے جرمنی کی گوٹنگن یونیورسٹی میں میکس بورن کی زیر نگرانی سائنسی تحقیق کا آغاز کیا اور پی ایچ ڈی کا تھیسس لکھا جو بعد میں Born Oppenheimer approximation کے نام سے مشہور ہوا۔ ضمناً ذکر کرنا چاہوں گا کہ میکس بورن، جنہوں نے کوانٹم میکینکس کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، میرے پی ایچ ڈی تھیسس کے سپروائزر ایمل وولف کے استاد تھے۔

اوپن ہائمر نے نیوٹرون ستاروں اور بلیک ہولزکی ساخت کے بارے میں بھی بہت ا ہم ریسرچ مقالے لکھے۔

خالد سہیل: کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم میں کیا فرق ہے؟

سہیل زبیری : ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کی طرف پہلا قدم 1905 میں آئن سٹائن کی یہ اہم دریافت تھی کہ مادہ اور توانائی دو علیحدہ چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ ممکن ہونا چاہیے کہ مادہ توانائی میں اور توانائی مادے میں تبدیل ہو سکے۔ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کا غالباً سب سے زیادہ چونکا دینے والا انکشاف تھا۔

ایٹم بم میں جو اصول کار فرما ہے اس کو سائنسدان فشن کا نام دیتے ہیں۔ اس پراسس میں جب ایک چھوٹا ذرہ، نیوٹران، بھاری نیوکلیس، مثلاً یورینیم یا پلوٹینیم، سے ٹکراتا ہے، تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اہم دریافت یہ تھی کہ ان تقسیم شدہ حصوں میں مادے کی مقدار اوریجنل نیوکلئس میں مادے کی مقدار سے کم ہوتی ہے۔ باقی ماندہ مادہ ائنسٹائن کے دریافت کردہ اصول کے مطابق توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس پراسس میں مزید نیوٹران پیدا ہوتے ہیں جو بہت سے دوسرے نیوکلیس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور مزید نیوٹران بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس طور ایک چین ری ایکشن شروع ہوجاتا ہے جو اتنی توانائی پیدا کرتا ہے جو دنیا میں موجود کسی اور بم سے زیادہ تباہی لا سکتا ہے۔ ایٹم بم بنانے کے لیے یورینیم یا پلوٹینیم کی ایک کم سے کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو کریٹیکل ماس کہا جاتا ہے۔ اس سے کم مقدار کی موجودگی میں چین ری ایکشن قائم نہیں رہ سکتا۔

ایٹم بم کے مقابلے میں ہائیڈروجن بم میں جس عمل سے استفادہ کیا جاتا ہے فیوژن کہلاتا ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم کے مرکز میں صرف ایک پروٹون ہوتا ہے۔ جب ایک ہائیڈروجن ایٹم کو بڑی قوت اور طاقت سے دوسرے ہائیڈروجن ایٹم سے ٹکرایا جائے تودونوں نیوکلیس ایک دوسرے میں فیوز یا مدغم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک نیا نیوکلیس بنتا ہے جس میں دو پروٹون جمع ہوتے ہیں۔ اس عمل سے ایک ہیلیم نیوکلیس وجود میں اتا ہے اور بہت سی توانائی بھی خارج ہوتی ہے۔ ہائیڈروجن بم کی یہ توانائی ایٹم بم کی توانائی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ہائیڈروجن بم کی تباہی و بربادی ایٹم بم سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سورج سمیت سب ستاروں کی روشنی اور توانائی کا سبب یہی فیوژن پراسس ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ سورج اور ستاروں میں ہر لمحہ لاکھوں ہائیڈروجن بم پھٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ اربوں سال سے چل رہا ہے اور اربوں سال تک چلتا رہے گا۔ کئی ارب سال بعد ایک دن ایسا بھی آئے گا جب سورج کے مرکز میں موجود ساری ہائیڈروجن ہیلیم میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس وقت یہ توانائی پیدا کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ سورج تاریک اور ٹھنڈا ہو جائے گا اوراہستہ اہستہ ایک نیوٹرون ستارے میں ڈھل جائے گا۔

خالد سہیل : ہم جوہری توانائی سے کیسے استفادہ اور انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں؟

سہیل زبیری: بہت جلد سائنسدانوں نے یہ دریافت کیا کہ اگر ایٹم بم سے حاصل ہونے والی توانائی کو کنٹرول کیا جا سکے تو اس عمل سے روشنی یا بجلی پیدا کرنا ممکن ہونا چاہیے۔ اس اصول کے تحت نیوکلیر ری ایکٹربنانا ممکن ہو سکا۔ جو چیز ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی وہ یہ ہے کہ ہائیڈروجن بم سے وابستہ توانائی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے حاصل کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں تحقیق تو پچھلے ستر سالوں سے جاری ہے۔ یہ ایک خواب ہے کیونکہ جس دن ایسا ممکن ہوا، توانائی سے وابستہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہم ایک گلاس پانی سے اتنی توانائی پیدا کرسکیں گے کہ وہ سارے شہر کو روشن کر سکے گی۔ لیکن ابھی ہم اس مقام سے کافی دور ہیں۔

خالد سہیل: کیا آپ عام فہم زبان میں بتا سکتے ہیں کہ نیوٹرون ستارے اور بلیک ہولز کیا ہوتے ہیں؟

سہیل زبیری: ایک چمکتا ہوا ستارہ بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، ستارے میں توانائی کا بنیادی ذریعہ فیوژن کا عمل ہے جس میں دو ہائیڈروجن ایٹم ایک ساتھ مل کر ہیلیم ایٹم بناتے ہیں۔ سورج جیسے ستارے میں فیوژن کا عمل تقریباً پانچ ارب سال سے جاری ہے اور توقع ہے کہ مزید پانچ ارب سال تک جاری رہے گا۔ پانچ ارب سال کے بعد ، سورج کے مرکز میں موجود ہائیڈروجن ہیلیم میں تبدیل ہو جائے گی۔

پھر اگلا مرحلہ شروع ہو گا۔ اس مقام پر ستارہ اپنے وزن کے بوجھ تلے نیچے گرنا شروع کر دے گا۔

کسی بھی ستارے میں، دو قوتیں ایک دوسرے کو بیلنس کرتی ہیں :ایک طرف تو کشش ثقل کی قوت ہے جو ستارے کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف فیوژن کے عمل سے کور میں پیدا ہونے والی حرارت کی وجہ سے ستارے میں پھٹنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جب یہ قوتیں تقریباً برابر ہوتی ہیں تو ستارہ مستحکم رہتا ہے۔ تاہم، جیسے جیسے فیوژن کا عمل ختم ہو جاتا ہے، ستار ے میں پھٹنے کا رجحان کم ہوتا ہے، اور ستارہ کشش ثقل کی قوت کے تحت کولیپس کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کور کی کثافت، اور اس وجہ سے درجہ حرارت، میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

ستارے کی زندگی کے آخری مرحلے میں، کور میں کمپریشن فورس اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ایٹم کے اندر موجود الیکٹران نیوکلئس میں ضم ہو جاتے ہیں۔ نیوکلئس کے اندر، یہ الیکٹران اور پروٹون ایک ساتھ مل کر نیوٹران بناتے ہیں۔ اب ایٹم اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔ ستارہ اب صرف نیوٹران پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک چمکتے دمکتے ستارے کا انجام نیوٹران ستارہ بننا ہے۔

نیوٹران ستارے کائنات میں سب سے بڑی کثافت والی اشیاء میں شامل ہیں۔ نیوٹران ستارے کے مواد سے بھرا ایک چائے کا چمچ دو ارب ٹن وزنی ہو گا۔ ایک نیوٹران ستارہ روشنی یا حرارت کو خارج نہیں کرتا ہے۔ ایک بار ایک شاندار ستارے کی زندگی ایک سرد اور تاریک باقیات کے طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

اگر ستارے کا وزن ایک حد سے زیادہ ہو، تو کشش ثقل کی طاقت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کمپریشن نہیں رکتی، اور تمام مادہ ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ اسے بلیک ہول کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی کشش ثقل کسی چیز، حتی کہ روشنی تک، کو اپنے سے آزاد کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ بلیک ہول کے گرد ایک حلقہ اثر ہوتا ہے۔ جو چیز بھی اس حلقے میں آ جائے وہ بلیک ہول میں ضم ہو جاتی ہے۔ یہ تصور ناقابل یقین ہے کہ ستارے کا تمام مادہ ایک نقطے میں محدود ہو جائے، لیکن بلیک ہول میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

خالد سہیل : اب میں آپ سے چند ذاتی سوال پوچھنا چاہوں گا۔ آپ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کتنے نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں سے ملے اور وہ تجربہ آپ کے لیے کیسا رہا؟

سہیل زبیری :یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بیسویں صدی کے کئی عظیم سائنسدانوں سے ملنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا۔ اس وقت بھی دو نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں، ڈیوڈ لی اور ڈڈلے ہرشباک، کے آفس میرے آفس کے ساتھ ہیں، اور اکثر نوبل یافتہ سائنسدانوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

مجھے پی ایچ ڈی کے دوران جان بارڈین سے ایک کورس پڑھنے کا موقعہ ملا، جنہیں دو مر تبہ فزکس کا نوبل پرائز ملا تھا، ایک ٹرانسسٹرکی ایجاد اور پھر superconductivity کی تھیوری پیش کرنے پر۔

پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد میں نے مارلن سکلی اورنوبل انعام یافتہ، ولس لیمب کے گروپ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے اپلائی کیا۔ جب میں نے اپنا سیمینار پیش کیا تو بات سکلی/لیمب لیزر تھیوری سے شروع کی، جب کہ یہ دونوں عظیم سائنسدان سامعین میں موجود تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ولس لیمب کی سیمینار میں موجودگی میرے لیے کچھ نروس ہونے کا سبب تھی۔ اس گروپ سے جاب آفر ملنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔ بعد میں لیمب سے دوستی سی ہو گئی تھی اور ہم سائنسی موضوعات پر ایک دوسرے سے اختلاف بھی کر لیتے تھے۔

بہت سال پہلے، مجھے نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبدالسلام سے بھی ملنے کا موقع ملاتھا، جب مجھے اٹلی میں واقع ان کے انسٹیٹیوٹ میں لکچر دینے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس ملاقات میں وہ مجھ سے میری ریسرچ کے بارے میں اور پھر پاکستان میں یونیورسٹیوں کی صورت حال کے بارے میں پوچھتے رہے۔

ان کے علاوہ بھی اور کئی نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں سے ملاقات کا موقعہ ملا۔ ہر شخصیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، مگر میں نے دو چیزیں ان سب میں مشترک پائیں۔ ایک ان کی فزکس کے لیے single mindedness۔ مثال کے طور پر میں نے ان میں سے کسی کو فزکس کے موضوع سے باہر شاذ ہی بات کرتے سنا۔ سائنس ہی ان کی زندگی تھی۔ وہ ہر وقت سائنسی مسائل میں ڈوبے نظر آئے۔ دوسری ان کی نمایاں خصوصیت ان کی منکسر مزاج شخصیت تھی۔ ان میں غرور کا شائبہ نہیں تھا۔ البتہ کسی بھی تخلیق کار کی طرح وہ اپنے دریافت کردہ سائنسی نتائج کا دفاع کرنے میں انتہائی پر جوش نظر ائے۔

خالد سہیل : کیا آپ ایسے سائنسدانوں سے بھی ملے ہیں جنہیں نوبل انعام ملتے ملتے رہ گیا؟

سہیل زبیری:ایسے سائنسدانوں کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ مگر میں ایک ایسے فرد کا ذکر کرنا چاہوں گا جن سے میرا قریبی تعلق رہا۔

اپنے پی ایچ ڈی کے کورس ورک کے دوران میں نے کوانٹم میکینکس کا کورس بروس فرنچ سے پڑھا۔ ان کو نوبل پرائز ان کے تھیسس سپروائزر کی خود اعتمادی میں تھوڑی سی کمی کے باعث نہ مل سکا۔ فرنچ نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں اس مسئلے کا حل دریافت کر لیا تھا جو اس وقت فزکس کا سب سے اہم اور مشکل مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ان کے سپروائزر نے سائنسی جریدے میں بھیجنے سے قبل مناسب سمجھا کہ دو نوجوان مگر انتہائی قابل سائنسدانوں، رچرڈ فائنمین اور جولین شونگر، کی رائے لی جائے۔ ان دونوں نے علیحدہ علیحدہ معمولی غلطی کی طرف اشارہ کیا۔ فرنچ نے ثابت کیا کہ غلطی رچرڈ فائنمین اور جولین شونگر نے کی تھی، انھوں نے نہیں۔ لیکن اس سارے معاملے میں دیر ہو گئی اور جب تک فرنچ نے اپنا ریسرچ پیپر بھیجا، ولس لیمب اپنی تھیوری چھاپ چکے تھے اور نوبل انعام کے حقدار ٹھہرے۔

خالد سہیل : آپ سائنس، سیاست اور ریاست کے پیچیدہ اور گنجلک رشتے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

سہیل زبیری:ایک سائنسدان ہونے کے ناتے، میں محسوس کرتا ہوں کہ ایک سائنسدان کی ذمہ داری تو صرف سچائی کی تلاش ہے۔ وہ صرف فطرت کے قوانین اور ان کے استعمال سے نئی دریافتوں کی تلاش میں رہتاہے۔ ایک سائنس دان اپنی تحقیق کے نتائج کے بارے میں تقریباً کبھی نہیں سوچتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہر سائنسی خیال اور ہر دریافت کو پرامن یا تباہ کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیزر کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن لیزر کو انسانیت کی خدمت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر آنکھوں کی سرجری میں۔ یہ فیصلہ کرنا معاشرے اور سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ سائنسی دریافتوں کو کس طرح پرامن مقصد کے لیے استعمال کیا جائے یا تباہ کن مقصد کے لیے۔

تاہم ایسے حالات ہوتے ہیں جب انہیں فوجی مقاصد کے لیے تحقیق کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ایٹم بم بنانے کا منصوبہ اس کی روشن مثال ہے۔ ایک سائنس دان کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے ایک ڈیوائس تیار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور جب یہ ڈیوائس تیار ہو جائے گی، تو اس کا اس ڈیوائس کو استعمال کرنے کے طریقہ پر بالکل کوئی کنٹرول نہیں ہو گا۔ یہ ایک ذاتی مخمصے کی نمائندگی کرتا ہے، چاہے مادر وطن کی پکار کی بنیادپر تحقیق کی جائے یا اپنے ضمیر کی بات سنی جائے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ہتھیار کے سیاسی استعمال پر کسی سائنسدان سے کبھی مشورہ نہیں کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail