زندگی تماشہ: مذہبی انتہا پسندوں کا مکروہ چہرہ سامنے لاتی فلم


”زندگی تماشا“ سرمد سلطان کھوسٹ کی ایسی فلم ہے جسے بہت عرصہ پہلے ہی ریلیز کیا جانا چاہیے تھا۔ پاکستان کے تینوں سنسر بورڈز سے منظوری کے باوجود یہ فلم سینما گھروں کی زینت نا بن سکی۔ کیونکہ ایک مخصوص مذہبی جماعت کو اس پر تحفظات تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذہبی جماعتیں ریاستی اداروں سے بھی طاقت ور رہی ہیں یا ابھی بھی ہیں۔

فلم کی کہانی ایک ایسے نعت خواں کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی تماشا بن چکی ہے، جس کی ایک چھوٹی سی غلطی اس کے لئے زندگی بھر کا روگ بن کر رہ گئی ہے۔ نعت خان کا کردار عارف حسین نے ادا کیا ہے اور حق ادا کر دیا ہے۔ نعت خوان کے دوستوں کی نجی محفل میں کیے گئے ڈانس کی چھوٹی سی ویڈیو وائرل ہونے پر زمینی خداؤں نے عدالتیں لگا لیں، اس کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا، محلے سے نکالے جانے کی دھمکیوں کے ساتھ نجانے کون کون سے القاب سے نوازا گیا۔

مذہبی طبقہ ویسے تو فلم بینی کے مخالف ہے، مجھے نہیں معلوم ان کو کیسے پتا چل جاتا ہے کہ اس فلم کو نشر نہیں ہونے دینا۔ یا فلم میں اسلام مخالف کچھ ہے۔ حالانکہ ”زندگی تماشا“ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس فلم میں مذہب اور میلاد النبی کو دکھایا گیا ہے، مذہبی رجحان کے حامل اور با کردار شخص کی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔ مذہبی طبقہ کو یہ فلم بالخصوص دیکھنی چاہیے، اس سے ہی شاید ان کے اندر برداشت کا مادہ پیدا ہو اور وہ زمینی عدالتیں لگانے سے باز آ جائیں۔

ہمیں ہماری اوقات دکھانے کو فلم میں موجود مذہبی ٹھیکیدار کا وہ جملہ ہی کافی ہے جو اس نے ’گستاخ‘ نعت خواں کا سامنا ہونے پر کہا کہ ”لاواں نعرہ گستاخی دا“ ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح گستاخی کے نعرے کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ بلکہ حال ہی میں خیبر پختونخوا میں ایسا کیس سامنے آیا بھی ہے جس میں مولوی نے مخالف فرقے کے مولوی پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر مروا دیا اور بعد میں وہ الزام جھوٹا ثابت ہوا اور مولوی صاحب بھی مان گئے کہ جان بوجھ کر جھوٹا الزام لگایا تھا۔

مذہبی طبقہ بجائے اس فلم کو دیکھنے کے، وہ اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر جانے انجانے میں وہ اسے پروموٹ کرنے کا باعث بھی بنے ہیں۔ تنقید اور پابندیوں کی زد میں آ کر اسے زیادہ مشہوری ملی ہے۔ اگرچہ فلم سینما گھروں میں ریلیز نہیں ہو سکی مگر حال ہی میں یوٹیوب پر ریلیز ہو چکی ہے، اور اسے ایک ہفتے میں پانچ لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ سرمد کھوسٹ صاحب کو لبیک کارکنان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے فلم کو مزید ویوز دلا دیے ورنہ یہ شاید اتنا کچھ حاصل نا کر پاتی۔

اگر بات کی جائے اداکاری اور سینمیٹو گرافی کی، تو وہ بے مثال ہے۔ بادشاہی مسجد اور دیگر جگہوں پر بہترین سینمیٹک شاٹس لئے گئے ہیں۔ ڈائریکشن اچھی ہے۔ تھیم زبردست ہے مگر اس پر مزید اچھا کام کیا جا سکتا تھا۔

آرٹ کے دلدادہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کو یہ فلم دیکھنی چاہیے جو اس پر پابندی کہ حمایت میں تھا یا جس کو اس فلم کے بارے تھوڑے سے بھی تحفظات تھے۔ یہ دیکھ کر ان کو اندازہ ہو گا کہ وہ غلط سمت کھڑے تھے۔

Facebook Comments HS