جشن آزادی منائیں لیکن احترام اور ذمہ داری کے ساتھ

ہر محب وطن پاکستانی پاکستان سے دل و جان سے پیار کرتا ہے۔ یہ ایسا پیار ہے جس کے درمیان شخصی اختلاف کو کبھی حائل نہیں ہونا چاہئے اور نہ کوئی ایسا عمل کیا جائے جس سے ملک دشمنوں کو تسکین ملے۔ کوئی بھی دن منانے کی دو وجوہات ہوتی ہیں، ایک اس موقع کو یاد رکھنا اور دوسرا اس خاص دن کے مقصد اور پیغام کو سمجھنا۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں لبرٹی چوک پر جشن آزادی کے موقع پر دنیا کا بلند ترین اور سب سے بڑا قومی پرچم نصب کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے واضح کیا کہ اس قومی پرچم کی تنصیب میں حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو رہا بلکہ اس پر نجی شعبہ نے فنڈنگ کی ہے۔ محسن نقوی نے ایک ٹویٹ میں لبرٹی چوک میں دنیا کا سب سے بڑا پرچم چودہ اگست کو لہرائے جانے کی تقریب کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ قابل فخر لمحہ ہے جب ہم لبرٹی چوک لاہور میں ایک یادگاری پرچم لہرانے کا اعلان کر رہے ہیں، یہ اتحاد اور حب الوطنی کی علامت ہے۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ یہ مکمل طور پر سپانسر شدہ منصوبہ ہے جس کا صوبائی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔
جس طرح رمضان کا مہینہ ہمیں باقی گیارہ مہینے گزارنے کے لئے تربیت فراہم کرتا ہے اسی طرح یوم آزادی کا پیغام صرف جھنڈیاں لگانا یا دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا لہرانا نہیں ہے بلکہ آزادی کے مقصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں اس جدوجہد کو یاد کرنا ہے جس کے بعد آزادی نصیب ہوئی، اس موقع پر پاکستان کے محافظوں کی خدمات کو یاد رکھیں جن کی وجہ سے ہماری آزادی محفوظ ہے، جو خود جاگ کر ہمیں چین کی نیند سلاتے ہیں، یہ وہ فوجی جوان ہیں جن کے گھر، خاندان اور ضروریات عام انسان جیسی ہی ہیں لیکن ہمت، حوصلے اور عزم بہت بلند ہیں۔
ہر سال چودہ اگست کا دن آتا ہے اور گزر جاتا ہے، ہم یہ نہیں سوچتے ہیں کہ گزرے ہوئے ایک سال میں ہم نے پاکستان کے لئے کیا کچھ کیا۔ اکثر لوگ سیاست دانوں پر الزامات لگاتے ہیں جو ہرگز غلط نہیں، یقینی طور پر ہماری سیاست نے ملکی ترقی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ایک انگلی سےکسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے باقی انگلیوں کے اشارے پر دھیان بھی ہم نے دینا ہے کیونکہ انفرادی ذمہ داری سے ہم خود کو بری نہیں کر سکتے ہیں۔
ملک سے محبت کے اظہار کے مختلف انداز ہیں، سوچنا یہ ہے کہ یوم آزادی پر بغیر سائلنسر موٹرسائیکل چلا کر ایمبولینس یا عام شہریوں کا راستہ روکنے سے ملک اور عوام کا کیا فائدہ ہے، رشوت کی کمائی سے گھر پر جھنڈا لگا کر ملک کی کون سی خدمت ہو رہی ہے اور یوم آزادی گزرنے کے بعد سڑک پرگری ہوئی پھٹی جھنڈیاں وطن سے محبت کی گواہی دیتی ہیں یا توہین کی۔ جھنڈیوں اور لائٹس سے گھر، سواری اور عمارت کو ضرور سجائیں لیکن پرچم کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ پریڈ دیکھیں، اپنے بچوں کو جھنڈا اور پاکستانی پرچم والے سٹکر ضرور خرید کر دیں لیکن اپنی کمائی کو پہلے حرام سے پاک کریں۔ مقروض ملک کو طرح طرح کے بلب لگا کر روشن ضرور کریں لیکن اسراف کو بھی مدنظر رکھیں کیونکہ مقروض ہر وہ پاکستانی ہے جس کی مرضی سے نہ قرضہ لیا جاتا ہے اور نہ پیسہ اجاڑا جاتا ہے۔
یوم آزادی پر باجوں کی خریداری میں کچھ عرصے سے بہت اضافہ ہوا ہے، بے ہنگم آوازیں اور باجوں کا شور سماعت، دل اور دماغ کے لئے شدید نقصان دہ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی وجہ تربیت کی کمی ہے جس کی ذمہ داری خاص طور سے والدین پر ہے۔ بیٹا گھر سے باہر ایک ٹائر پر موٹرسائیکل چلانے جاتا ہے اور ماں باپ کو اس وقت احساس ہوتا ہے جب ہسپتال یا سڑک سے فون کال آتی ہے اور حادثے کی خبر ملتی ہے۔ اسی طرح یوم آزادی پر بچوں اور نوجوانوں کو باجوں کے استعمال سے روکنا سب سے پہلے والدین کا کام تھا جو اب عدالت اور انتظامیہ نے کیا ہے۔
کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی یوم آزادی کے موقع پر باجے بجانے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 14 اگست کے موقع پر اسلام آباد میں ہارن اور باجے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور دفعہ 144 نافذ ہو گئی ہے جس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی۔ اس سے چند دن پہلے کراچی کی مقامی عدالت نے جشن آزادی کے موقع پر باجے بجانے اور باجوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ کراچی ملیر کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے جشن آزادی کے موقع پر باجے کے استعمال اور خرید و فروخت سے متعلق ایس ایچ او شرافی گوٹھ اور سچل کو باجے بجانے والوں اور فروخت کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
یوم آزادی کا اہم پیغام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے تاکہ ہر فرد پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔اگر جشن آزادی کے موقع پر بڑے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں کی عمارتیں رنگ برنگے برقی قمقموں سے روشن ہوں اور اسی ہسپتال کے اندر ایک محب وطن پاکستانی اپنے گھر کے کسی فرد کی لاش اس لئے حاصل نہیں کر پا رہا ہو کہ اس کی جیب میں فوری طور پر ادائیگی کے لئے پیسے نہیں ہیں، اگر سرکاری بینک میں افسر دفتری اوقات میں گپ لگانے میں مصروف ہو اور ایک پاکستانی کی کان میں آتی ہوئی آواز کو نظرانداز کرے ، اگر تھانے میں داخل ہوتے ہوئے ایک مظلوم پاکستانی خوف محسوس کرے یا کسی سرکاری ادارے میں اپنی درخواست کے ساتھ پورا دن بیٹھ کرایک شہری بغیر مدد حاصل کئے اس لئے واپس آجائے کہ جیب میں نہ رشوت دینے کے لئے پیسے تھے اور نہ پاس کوئی سفارش تھی تو ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ جشن آزادی منانا تو ہمیں آ گیا ہے لیکن آزادی کا اصل مقصد ہم ابھی تک نہیں سمجھ سکے ہیں۔
گئی رتوں کے ہر ایک پل کا
دلوں سے اپنے حساب مانگیں
دیا ہے کیا اس وطن کو ہم نے
یہ آج خود سے جواب مانگیں
وطن کی راہوں میں ہم وفا کے
گلاب کتنے کھلارہے ہیں

