مذہب ، ختنہ اور کرسٹوفر ہچنز


جب ہم کسی شخص یا کسی گروہ یا کسی نظریہ سے محبت کرتے ہیں تو اس سے وابستہ ہر چیز کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور جب ہم کسی کو نا پسند کرنے لگتے ہیں تو بسا اوقات اس سے وابستہ ہر چیز کو نا پسند کرنے لگتے ہیں۔ تمام عمر انسان کی نفسیات اس سے کھیلتی رہتی ہے۔ ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے گروہ سے وابستہ ہر چیز اچھی ہے اور جس گروہ پر ہم نے ’مخالف‘ کا لیبل لگایا ہے، اس سے وابستہ ہر چیز اس قابل ہے کہ اسے نا پسند کیا جائے اور اس کا مذاق اڑایا جائے۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اس رو میں اتنا بہہ جاتے ہیں کہ جن اصولوں کی بنیاد پر ہم اپنی مخالفت کا آغاز کرتے ہیں ان کو ہی پامال کر کے اپنے مخالف پر وار کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے پہلے جس چیز کی قربانی چڑھائی جاتی ہے وہ ’توازن‘ ہے۔

ان دنوں یہ عاجز کرسٹوفر ہچنز کی کتاب ’گاڈ از ناٹ گریٹ‘ پڑھ رہا تھا۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے اس کتاب میں مذہب اور خدا کے تصور کا رد لکھا گیا ہے۔ ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق ہے۔ لیکن جب مصنف کے خیالات کسی کتاب یا کسی تحقیق کی صورت میں منظر عام پر آ جائیں تو ہر قاری کا بھی حق ہے کہ وہ ان خیالات پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ کرسٹوفر ہچنز اپنے ہم خیال احباب میں نمایاں ترین مصنفین میں سے سمجھے جاتے ہیں اور اپنے دور کے ایک نمایاں صحافی بھی تھے۔ وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں مذہبی خیالات کا مذاق اڑاتے رہے اور اس بات پر زور دیتے رہے کہ مذہبی خیالات کی بنیاد سائنسی سوچ پر نہیں اور مذہب بغیر دلیل کے اپنی ہر بات کو منواتا ہے۔

کرسٹوفر ہچنز اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن ان کی تحریریں اور ان کے نظریات اب تک زندہ ہیں اور لوگوں پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ ان کی یہ کتاب اس موضوع پر مقبول ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ بہتر ہوتا اگر وہ اپنی کتاب میں کتاب کے عنوان تک محدود رہتے اور وہ مختلف مذاہب میں خدا کے تصور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور اس ضمن میں وہ مختلف مذہبی کتب کے معین حوالے درج کر کے اپنا تجزیہ تحریر کرتے۔ لیکن وہ کتاب کے زیادہ تر حصہ میں مذہب سے وابستہ ہر چیز سے الجھتے ہیں او ر ایک ذہنی جھنجھلاہٹ میں مبتلا نظر آئے ہیں۔ اکثر اوقات مذہبی کتب کے معین حوالہ درج کیے بغیر مفروضوں کی بنا پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ اور جہاں سائنسی تحقیقات کا ذکر کرتے ہیں وہاں ان کی تحریر کا وہ معیار نظر نہیں آتا جو کہ ایک سائنسی موضوع پر کچھ لکھتے ہوئے نظر آنا چاہیے۔ اس کالم میں خاکسار اس کتاب میں سے بیسیوں مثالوں میں سے صرف ایک مثال پر حقائق پیش کرے گا۔

اس کتاب کے سولہویں باب کا عنوان ہے Is Religion Child Abuse یعنی کیا مذہب بچوں کے استحصال کا نام ہے۔ کسی نا معلوم وجہ سے اس باب میں انہوں نے سب سے زیادہ ختنہ کی رسم کو نشانہ بنایا ہے۔ یقینی طور پر بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کے ختنہ کی رسم ایک ظالمانہ اور قابل مذمت رسم ہے۔ لیکن کہیں پر بائیبل میں اور قرآن مجید یا حدیث میں اس کی تعلیم نہیں دی گئی۔ اور نہ ہی ہچنز نے اپنی کتاب میں اس کا کوئی ثبوت دیا ہے۔ خاکسار کو یوگنڈا میں بوگیسو قبیلہ میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ وہاں ختنہ کی رسم جلوس نکال کر ادا کی جاتی ہے لیکن اس کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ اس قبیلہ کی رسم ہے اور بد قسمتی سے اسی ملک میں بہت سے لوگ لڑکیوں کا ختنہ بھی کرتے ہیں اور اس کی بنیاد بھی مذہب نہیں بلکہ قبائلی رسوم بتائی جاتی ہیں۔ پھر بھی اگر وہ اپنی تنقید کو لڑکیوں کے ختنہ تک محدود رکھتے تو یہ ایک مختلف بات تھی۔ لیکن انہوں نے لڑکوں کے ختنہ کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا ہے اور کیا لکھا ہے؟ ہم اس کالم میں اس کا جائزہ لیں گے۔

وہ اسے ایک غیر اخلاقی رسم قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ یہ کم عمر بچوں کے جنسی اعضا کو مسخ کرنے کی رسم ہے۔ ختنہ کی رسم پر غم و غصہ نکالنے کے دوران وہ صفحہ 223 پر یہ انکشاف کرتے ہیں کہ ختنہ کی رسم کے دو مقاصد معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس رسم میں خون بہایا جانا تھا اس لئے زیادہ امکان یہ ہی ہے کہ یہ علامتی طور پر انسانی یا جانور کی قربانی کو دوبارہ رواج دینا ہے۔

میرے خیال میں ایسے مقامات پر ہچنز کی تحریر ان کے نظریات کی بجائے محض اوہام کی عکاسی کرتی ہے۔ کوئی ختنہ کی رسم کا قائل ہو یا مخالف ہو، اس کا انسانی قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مناسب ہوتا کہ اگر اس سلسلہ میں وہ اپنے نظریات کی تائید میں جدید طبی تحقیق کا کوئی حوالہ پیش کرتے اور اس کی روشنی میں ختنہ کے نقصانات پر روشنی ڈالتے، اس کی بجائے وہ بارہویں صدی ایک ایک یہودی طبیب موسی ٰ بن میمن کی تحریر کا حوالہ پیش کرتے ہیں کہ اس رسم کا مقصد جنسی لذت کو ختم کرنا ہے۔ اس موضوع پر بارہویں صدی کے کسی طبیب کی طویل تحریر کا حوالہ پیش کرنے سے کیا حاصل ہونا تھا۔ اس بارے میں عصر حاضر میں بہت سی جدید طبی تحقیق شائع ہوئی ہے کہ کیا ختنہ کرنے سے جنسی خواہش یا جنسی لذت پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے؟ اس طرح کی اکثر تحقیقات کا مجموعی نتیجہ یہی نکالا گیا ہے کہ اس سے ان امور پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک تحقیق کا حوالہ درج کیا جاتا ہے۔

(Morris BJ، Krieger JN۔ Does male circumcision affect sexual function، sensitivity، or satisfaction؟ a systematic review۔ J Sex Med۔ 2013 Nov; 10 ( 11 ) : 2644۔ 57۔ )

یہ سب کچھ لکھنے کے بعد شاید کرسٹوفر ہچنز کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ شاید کسی پڑھنے والے کا ذہن جدید تحقیق کی طرف نہ متوجہ ہو جائے۔ اس لئے وہ لکھتے ہیں کہ کچھ لوگ یہ دلائل دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ختنہ کرنے کے طبی فوائد بھی ہیں لیکن طبی تحقیق نے ایسے دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ لیکن اپنے اس نظریہ کی تائید میں وہ کسی طبی تحقیق کا حوالہ پیش نہیں کرتے۔ جب ہم اس بارے میں ریسرچ پڑھتے ہیں تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس موضوع پر ہچنز نے بلا ضرورت مبالغہ سے کام لیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر بہت سی طبی تحقیقات سامنے آ چکی ہے اور مختلف ممالک کی تنظیموں نے ان کی بنیاد پر اپنے مشوروں کو شائع بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکن ایسوسی ایشن آف پیڈیاٹرکس نے 2012 میں اس موضوع پر ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے مختلف تحقیقات کا تجزیہ کر کے ایک ہدایت نامہ کے طور پر اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہیں پر ختنہ کو بچوں کا استحصال اور جنسی اعضا کو مسخ کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ اس نے یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ اس کے ممکنہ فوائد اس کے ممکنہ نقصانات سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ ہم ہر بچہ کا ختنہ کرنے کی رائے تو نہیں دے رہے لیکن یہ فیصلہ والدین پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کا ختنہ کرانا چاہتے ہیں کہ نہیں۔

(https://publications.aap.org/pediatrics/article/130/3/585/30235/Circumcision-Policy-Statement)

یہ سوال ضرور ہونا چاہیے کہ آخر اس کے کیا فوائد ہیں جن کی بنیاد پر امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نے یہ سفارش جاری کی تھی۔ اس بارے میں 2017 میں سو سے اوپر تحقیقات کا تجزیہ شائع ہوا تھا۔ اور اس سے یہ نتائج اخذ کیے گئے تھے۔ ختنہ کرنے سے گردے اور پیشاب کی انفیکشن کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ اور جنسی عمل سے پھیلنے والے جراثیم سے متاثر ہونے کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے۔ بلکہ بعض تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن مردوں کا ختنہ ہوا ہوتا ہے ان میں ایڈز سے متاثر ہونے کا امکان بھی پچاس فیصد کم ہوتا ہے۔ ان تحقیقات کے حوالے نیچے درج ہیں۔ اور ایسے مردوں کے جنسی ساتھی بھی زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ اور ان میں ایک قسم کے کینسر کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

(https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC5296634/)

یہ چند تحقیقات کا ذکر تھا۔ اس قسم کی بیسیوں نہیں سینکڑوں تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ کوئی ان سے اختلاف بھی کر سکتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے بارہویں صدی کے کسی طبیب کی بجائے کسی جدید ریسرچ پیپر کا حوالہ دینا پڑے گا۔ لیکن ان پر نظر ڈالنے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں کرسٹوفر ہچنز نے کافی مبالغہ سے کام لیا ہے۔ جب سائنسی موضوع پر بات ہو رہی ہو تو سائنسی معیاروں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ہچنز کی کتاب اس اعتبار سے ایک کمزور تحریر ہے۔ وہ اپنی کتاب میں ایک محقق کی بجائے ایک مغلوب الغضب مخالف زیادہ نظر آ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS