قوم کے حصے میں آنے والا باجا
آزاد ملک اپنے عزم و حوصلے سے دنیا کو ایک نئی منزل کی طرف گامزن کر دیتے ہیں، چائنہ میں جب نیشنلزم نظام کی جگہ کمیونزم نے لی تو وقت کے ساتھ دنیا کی بہترین معاشی طاقت بن کے ابھرا، دوسرے ممالک میں حیران کن حد تک سرمایہ کاری کر کے چین نے اپنا لوہا منوایا اور اپنی محنت اور عزم سے دنیا کو بتایا کہ دنیا کی سپر پاور بننے کی دوڑ میں چائنہ بھی آگیا ہے
روسی انقلاب کے بعد جب بادشاہی نظام سے آزادی حاصل کی تو روس نے ترقی دیکھی، سوشلسٹ نظام کے متعارف ہونے کے بعد عورتوں کے حقوق پر کام ہوتا دکھائی دیا، صنعتی ترقی ہوتی ہوئی نظر آئی اور تعلیم اور پڑھا لکھا معاشرہ بنانے کی طرف رجحان دکھائی دیا۔
پاکستان بھی کچھ خواب لئے بھارت سے جدا ہوا تھا، بھارت سے نظریاتی اختلاف کے بنا پر یہ سوچ کر آزادی حاصل کی تھی کہ دنیا کو نئے راستے دکھانے والا ملک پاکستان بنے گا۔ آج اس جدائی کو 76 برس بیت چکے، اسی دورانیے میں پاکستان تو آگے نہیں نکل سکا لیکن بھارت نے ضرور اپنی معاشی طاقت ہونے کی دھاک بٹھائی، ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا سے مقابلہ کرتا ہوا نظر آیا۔
پاکستان ان سب میں بہت پیچھے رہ گیا، پاکستان دنیا کو کیا ہی راستا دکھاتا کہ اب وہ خود کسی راستے کی تلاش میں ہے کہ کسی طرح ڈیفالٹ ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس ملک کی کی خاطر بےشمار قربانیاں دی گئی، لوگوں نے اپنے جائیداد، جان، مال، گھر بار سب وقف کر دیئے صرف ایک مقصد کے لئے کہ ان کو ایک ایسا ملک دیا جائے جہاں وہ اپنی آزادی کے مطابق زندگی گزار سکیں، جہاں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے پھر جب اتنی جدوجہد کے بعد ملک آزاد ہوا تو ہم اس مقصد کو بھول گئے، پھر اقتدار کے حصول کی ایسے دوڑ شروع ہوئی کہ سوائے اقتدار کے کچھ نہیں بچا، سب مقصد حصول پیچھے رہ گئے جب ملک میں سازشی کلچر نے فروغ پایا۔ سازی کلچر کا شکار خود قائداعظم بھی ہوئے اور پھر جب معاملہ چل پڑتا ہے تو رکتا کہاں ہے، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، بھٹو، بے نظیر سمیت تمام سیاسی قیادتوں کے خلاف سازشیں کی جاتی رہی، ملک میں آزادی اظہار میں پابندیاں لگنے لگی، میڈیا کو محدود کیا جانے لگا، پریشر ڈالا جاتا کہ جیسا ہم چاہتے ویسے بولنا اور کرنا ہے ورنہ مارشل لا کی دھمکیاں دی جاتی رہی اور پھر مارشل لا لگے بھی اور ایک نہیں چار بار اس ملک کا آئین پامال ہوا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان کا نمبر 158 تھا 180 ممالک میں سے۔ ڈیموکریسی انڈیکس میں ملک کا نمبر 102 رہا، جس کا سیدھا مطلب یہ کہ ہم آزادی کے بجائے بولنے اور سوچ کی غلامی کی طرف چلے گئے، ملک پانے کا یہ مقصد بھی ہم نے خاک میں ملا دیا۔
ملک کے حصول کے بعد ایک خواب ملک سے غربت ختم کرنے کا بھی تھا، دنیا کی وہ مضبوط معیشت بنانا تھا جو پورے دنیا کی سرمایہ کاری کا سنٹر پوائنٹ بنے۔ لوگوں کو ایسی زندگی کے مواقع دینے تھے کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی فکر کے گزار سکیں لیکن پھر سازشی عناصر کی کی گئی سازشوں کی بدولت بھوک مٹی نہ غربت۔۔۔ معیشت بیٹھتی چلی گئی، جس کی وجہ سے آج ہم 23 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس قرض کے حصول کے لئے جاچکے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا بھوک بڑھی، لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی، مہنگائی زیادہ ہوئی اور آج پاکستان میں غربت 40 فیصد کو چھو رہی ہے۔
انسانی حقوق کا خواب لئے اس ملک کے آئین کی تکمیل ہوئی تھی جو آج تک پورا ہونے کی ہی راہ دیکھ رہا ہے، انسانی حقوق کا کہاں احترام رہ جاتا ہے جہاں دن دھاڑے نظریاتی اختلاف کے بنا پر لوگ اغوا کر لئے جائیں، تنقید اور بولنے کی وجہ سے لوگ غائب ہوجائیں اور المیہ ہے اس ملک کا کہ جب یہ سب ہو بھی ریاست کی پشت پناہی میں۔ حال ہی میں ہوئے ڈاکٹر عمر کا واقعہ ہو جس کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا یا رضوانہ تشدد کیس، بیروزگاری، افراتفری یا پھر اور ایسے واقعات جنہوں نے ناامیدی کو ہوا دی، نتیجہ یہ نکلا نوجوان ملک کو چھوڑ کر باہر جانے لگے حال ہی میں ایک بھانیک خبر آئی کہ پاسپورٹ آفس میں روزانہ 40 ہزار افراد کی آمد ہوتی ہے جو ملک سے باہر جانے کا خواب لئے آرہے تھے۔
خیر۔۔!! ملک کی پر چیز تو اشرافیہ لے گئی، عیاشی سکوں سب کچھ اس کے حصے میں آیا، قوم کے حصے میں باجے آئے گویا یوں لگتا ہے جیسے یوم آزادی کے دن قوم باجے بجا کر احتجاج کر رہی ہو اور کہہ رہی ہو کہ ہمارا سکون لینے والوں سے ہم ان کا سکون لے کر ہی چھوڑیں گے، ہمیں اس ایک پرچم کے سائے تلے ایک دوسرے سے الگ کر دینے والوں کا حساب لیا جائے گا، یہ ملک قوم سے ہے اور وقت آئے گا جب اس ملک کی باگ ڈور چند لوگوں کے بجائے عوام ہی کے ہاتھ میں ہوگی۔


