آزادی، مگر کس سے
سنہ 1947 میں لاکھوں لوگوں نے اس امید پر ہندوستان سے پاکستان کیطرف ہجرت کی کہ وہ یہاں آزاد زندگی بسر کر سکیں گے۔ پاکستان بنے 75 سال گزر گئے، عام آدمی آج بھی غلام ہی ہے۔ سیاسی لحاظ سے چند خاندان اس پر حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ معاشی طور پر کاروباری اشرافیہ نے اسے مغلوب کیا ہوا ہے۔ عدل و انصاف کے لحاظ سے اسے عدالتوں نے مفلوج کیا ہوا ہے۔ انصاف برائے فروخت ہے۔ امیر ادمی اپنی پسند کا انصاف خرید سکتا ہے اور غریب بے چارہ ساری عمر انصاف کی تلاش میں کچہریوں کے چکر لگا لگا کر بدحال ہو جاتا ہے، مگر انصاف حاصل نہیں کر پاتا۔ انتظامی لحاظ سے خود پسند، نا اہل اور کرپٹ سرکاری نوکروں نے عام ادمی کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ جبکہ مذہبی لحاظ سے وہ آج بھی نام نہاد ملاووں کی ذہنی خرافات اور گدی نشینوں کی چین چنبیلیووں کا غلام ہے۔ عسکری غلامی کا تذکرہ شاید اب میری بساط میں نہیں رہا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں جینے کے لیے اس کے بارے میں جتنی کم بات کی جائے، اتنا ہی ذیادہ بہتر ہے۔ بہرحال، اشرافیہ نے عام ادمی کو ہر طرف سے اسطرح جکڑا ہوا ہے کہ اگر کوئی بد دماغ سیاسی آزادی کی ابھی بات ہی کرتا ہے تو معاشی لحاظ سے اسکا گلہ اسطرح دبایا جاتا ہے کہ وہ پھر چوں کرتا ہے اور نا ہی چیں۔ اور اگر وہ عدالتوں میں انصاف کے لیے ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کرے، تو اشرافیہ انتظامیہ کے ہاتھوں اسے اسطرح ذلیل و رسوا کرواتی ہے کہ وہ پھر معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہتا اور دوسروں سے چھپتا پھرتا ہے۔ اسی طرح مولوی حضرات بھی چند اپنی پیدا کردہ دلیلوں سے عام آدمی میں غلامانہ سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں اور اسے روکھی سوکھی کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی پینے پر ہی راضی ہونے کے لیے آمادہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
غلامی کا یہ نظام بہت تگڑا ہے۔ عام آدمی کو یہ نظام ذہنی، جسمانی اور اعصابی طور پر اتنا مفلوج کر دیتا ہے کہ وہ پھر اپنی آنے والی نسلوں سمیت اس کے اگے جھک جانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے اور کبھی سر اٹھا کر جینے کی سعی بھی نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ بدقسمتی سے اس ملک میں اکثریت غریب پیدا ہوتی ہے اور خوشحال ذندگی گزارنے کی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود غریب ہی اس جہان فانی سے کوچ کر جاتی ہے۔ افسوس!
میری نظر میں صرف چند ایک ہزار لوگ غلامی کے اس گھٹیا نظام کے تحت بائیس کروڑ لوگوں کے ہجوم پر حکومت کر رہے ہیں۔ ان چند ایک ہزار لوگوں نے انتہائی چالاکی، مکاری و عیاری سے بائیس کروڑ گدھوں کو دال روٹی اور بلوں کی ادائیگی کی دوڑ میں لگایا ہوا ہے اور یہ اسی کشمکش میں اتنے تھک اور اعصاب شکن ہو جاتے ہیں کہ اشرافیہ کے بنائے ہوئے استحصالی نظام کے دیئے ہوے درد اور زخموں کو اپنی قسمت اور خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے امتحان سمجھ کر ساری عمر برداشت کرتے رہتے ہیں۔
یہ بائیس کروڑ گدھے غلام ابن غلام پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ چند ہزار لٹیرے آقا ابن آقا نسل در نسل پیدا کر رہے ہیں۔ غلامی اور بادشاہت کی اس زنجیر کو توڑنے میں اب اس قوم کی بھلائی اور خوشحالی ہے۔ غلامی کی اس زنجیر کو بنانے اور جوڑنے والے سارے نظاموں بشمول سیاسی، عسکری، معاشی، معاشرتی، انتظامی اور عدالتی نظاموں کو بلکل ختم کر کے نئے سرے سے تشکیل دینا پڑے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے ان بائیس کروڑ گدھوں کو ایران، فرانس یا امریکہ جیسے انقلاب کی فوری ضرورت ہے اور یہ انقلاب کبھی بھی معاشروں کے باہر سے نہیں بلکہ ان کے اندر ہی پنپتے، انگڑائی لیتے اور اندر ہی سے برپا ہوتے ہیں۔ بس اس کے لیے بائیس کروڑ گدھوں کو اپنے انسانی حقوق کی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے اور ان کو حاصل کرنے کے لیے ان میں جذبہ بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ تباہی و بربادی، ذلت و رسوائی اور جگ ہنسائی نسل در نسل ان گدھوں کا مقدر بن چکی ہے۔


